چاغی، بچے خوراک کی کمی کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں مسلسل خشک سالی سے زراعت، باغبانی اور مال برداری بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن بعض اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ان میں ضلع چاغی بھی شامل ہے جہاں بچے خوراک کی کمی کا شکار بتائے گئے ہیں۔ یہ تحقیقی رپورٹ جمعرات کو ایک غیرسرکاری تنظیم آکسفیم نے جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ ضلع چاغی میں بارشیں نہ ہونے سے چالیس فیصد لوگ زراعت اور مال برداری کھو چکے ہیں جبکہ بچے عورتیں اور بوڑھے لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ آکسفیم نے ضلع چاغی میں ایک تحقیق کے ذریعے معلوم کیا ہے کہ علاقے میں چھ سے انسٹھ ماہ کے بچوں میں خوراک اور نمکیات کی کمی نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ اس علاقے میں روزگار کے ذرائع ختم ہو رہے ہیں اس وجہ سے لوگ متبادل ذرائع آمدن کے لئے سمگلنگ کرنے پر مجبور ہیں۔ تنظیم کے خشک سالی منصوبے کے ڈائریکٹر نصراللہ بڑیچ نے بتایا ہے کہ یوں تو خشک سالی سے پورا صوبہ متاثر ہوا ہے لیکن ضلع چاغی میں حالات انتہائی ابتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’یہاں پانی کا ذخیرہ صرف ایک سے ڈیڑھ ماہ کے لیے پڑا ہے جس کے بعد حکومت کو اس علاقے میں ایمر جنسی نافذ کرنا پڑے گی۔ یہاں خوراک کے ذرائع ختم ہو رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ڈیڑھ ملی میٹر بارش ہوئی اس سال اس سے بھی کم بارش ریکاڈ کی گئی جبکہ اس علاقے کو تین سو ملی میٹر اوسط بارش درکار ہے۔ خشک سالی سے قبل اس علاقے میں ایک سو ستر سے ایک سو اسی ملی میٹر اوسط بارش ہوتی تھی۔ اراکین اسمبلی جان محمد بلیدی اور نسیم تریالے نے کہا ہے کہ اس طرح کی تحقیق دیگر علاقوں میں بھی ہونی چاہیے۔ نسیم تریالے نے ضلع قلعہ عبداللہ کا ذکر کیا جہاں ان کے مطابق باغات اور روزگار کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ضلع چاغی بلوچستان کا ایک اہم شہر ہے جہاں پاکستان نے انیس سو اٹھانوے میں ایٹمی دھماکے بھی کیے تھے۔ یہ شہر ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں معدنیات کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ چین کے تعاون سے حال ہی میں تانبے، چاندی اور سونا بنانے کے منصوے سیندک نے پیداوار کا آغاز کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||