BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 May, 2005, 18:14 GMT 23:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نرما کریت، ریماکریت اور ڈیماکریٹ

حکمران بھی بولڈ کیوں نہیں ہوسکتے؟
حکمران بھی بولڈ کیوں نہیں ہوسکتے؟
میں بہت ہی حساس انسان ہوں۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ میرا نے بھارتی فلم ’نظر‘ میں ہیجان خیز سین فلمبندکرواکر جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اس کے بعد ساری دنیا میں اس کی جو دھاک بیٹھی ہے، اس کے بعد میرا بحیثیت حساس دل انسان ہونے کے فکرمند ہونا ضروری ہوگیا تھا، اس لئے کہ اگر میرا کی مقبولیت کا یہی عالم رہا تو ریما اور نرما کا کیا بنے گا؟

میرا جب سے ممبئی میں ہے تب سے ہی اس کے چاہنے والوں کی محبت کا اس سے یہ عالم ہے کہ اس کو ہر روز رات کو عشائیہ کسی نہ کسی چاہنے والے کے گھر ہی کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال جو بھی ہو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ میرا کی بھارتی فلم میں بولڈ سین پِکچرائز کروانے کے بعد ہم کم از کم بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں سے یہ تو امید کرسکتے ہیں کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم کرنے کے لئے مزید بولڈ اقدامات کریں گے۔

کیوں کہ اگر میرا صنف نازک ہوکر بھی بولڈ اقدام اٹھاسکتی ہیں تو پھر یقینا دونوں ملکوں کے ایٹمی حکمران جن کے پاس دنیا بھر کا جدید اسلحہ، میزائل اور فوجیں ہیں، ان میں کم از کم اتنی ہمت تو ہونی چاہئے کہ پڑوسی ممالک کی طرح رہنے کے لئے جن تعلقات کی ضرورت پڑتی ہے وہی قائم کرلیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب دنیا سخت مقابلے کی دنیا میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریما اور نرما کا میرا کے مقابلے میں کوئی کردار نہ دیکھ کر میں پریشان ہوگیا ہوں اور میں اپنی یہ پریشانی وزیرثقافت، اطلاعات و نشریات کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ کیوں کہ نرما کا نرم، نازک اور دلکش اور ریما کو روح کو راحت دینے والا چہرا دیکھ کر تو کینیڈا کے برف بھی اپنے آپ پگھل سکتے ہیں۔ اس لئے میں ریما اور نرما کو یہ ایک سائنسی حقیقت بتاکر یہ کہوں گا کہ وہ دل چھوٹا نہ کریں کیوں کہ لمبی کِس کے ذریعے جراثیم ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے انہیں شکر بجالانا چاہئے کہ وہ ایسا عمل کرنے سے بچ گئیں۔ میری بات پر اگر ریما ار نرما کو یقین نہ ہو تو وہ پریکٹیکل کے لئے کینیڈا آسکتی ہیں کیوں کہ وہاں کینیڈا میں ہر کام پروفیشنل انداز میں پریکٹیکل طریقے سے ہوتا ہے اور اپنے ملک کی طرح جعلی والی کا چکر کم ہی ہوتا ہے۔

ویسے ریما اور نرما کو دل اس لئے بھی چھوٹا نہیں کرنا چاہئے کہ اگر بھارت میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے تو کوئی بری بات نہیں کیوں کہ ہمارے ملک میں بھی امریکہ کی طرح ڈیماکریٹ اور کنزرویٹیو سیاست دان نہ بھی ہوں پر ہمارے ہاں ریماکریت اور نرماکریت سیاست دانوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اگر ’آپ کی آواز‘ کے لئے آپ بھی کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66خوف کی زندگی
امن سے ناامید اسرائیلی سکول ٹیچر
66سعودی خاتون
میں اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہتی ہوں؟
66مختصر سفرنامہ
’جیسا سنا تھا، دیکھا نہیں‘
66میری اپیل
متعدد بلوچ اب بھی لاپتہ ہیں۔۔۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد