فیاض سومرو کینیڈا |  |
 |  حکمران بھی بولڈ کیوں نہیں ہوسکتے؟ |
میں بہت ہی حساس انسان ہوں۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ میرا نے بھارتی فلم ’نظر‘ میں ہیجان خیز سین فلمبندکرواکر جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اس کے بعد ساری دنیا میں اس کی جو دھاک بیٹھی ہے، اس کے بعد میرا بحیثیت حساس دل انسان ہونے کے فکرمند ہونا ضروری ہوگیا تھا، اس لئے کہ اگر میرا کی مقبولیت کا یہی عالم رہا تو ریما اور نرما کا کیا بنے گا؟ میرا جب سے ممبئی میں ہے تب سے ہی اس کے چاہنے والوں کی محبت کا اس سے یہ عالم ہے کہ اس کو ہر روز رات کو عشائیہ کسی نہ کسی چاہنے والے کے گھر ہی کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال جو بھی ہو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ میرا کی بھارتی فلم میں بولڈ سین پِکچرائز کروانے کے بعد ہم کم از کم بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں سے یہ تو امید کرسکتے ہیں کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم کرنے کے لئے مزید بولڈ اقدامات کریں گے۔ کیوں کہ اگر میرا صنف نازک ہوکر بھی بولڈ اقدام اٹھاسکتی ہیں تو پھر یقینا دونوں ملکوں کے ایٹمی حکمران جن کے پاس دنیا بھر کا جدید اسلحہ، میزائل اور فوجیں ہیں، ان میں کم از کم اتنی ہمت تو ہونی چاہئے کہ پڑوسی ممالک کی طرح رہنے کے لئے جن تعلقات کی ضرورت پڑتی ہے وہی قائم کرلیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب دنیا سخت مقابلے کی دنیا میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریما اور نرما کا میرا کے مقابلے میں کوئی کردار نہ دیکھ کر میں پریشان ہوگیا ہوں اور میں اپنی یہ پریشانی وزیرثقافت، اطلاعات و نشریات کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ کیوں کہ نرما کا نرم، نازک اور دلکش اور ریما کو روح کو راحت دینے والا چہرا دیکھ کر تو کینیڈا کے برف بھی اپنے آپ پگھل سکتے ہیں۔ اس لئے میں ریما اور نرما کو یہ ایک سائنسی حقیقت بتاکر یہ کہوں گا کہ وہ دل چھوٹا نہ کریں کیوں کہ لمبی کِس کے ذریعے جراثیم ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے انہیں شکر بجالانا چاہئے کہ وہ ایسا عمل کرنے سے بچ گئیں۔ میری بات پر اگر ریما ار نرما کو یقین نہ ہو تو وہ پریکٹیکل کے لئے کینیڈا آسکتی ہیں کیوں کہ وہاں کینیڈا میں ہر کام پروفیشنل انداز میں پریکٹیکل طریقے سے ہوتا ہے اور اپنے ملک کی طرح جعلی والی کا چکر کم ہی ہوتا ہے۔ ویسے ریما اور نرما کو دل اس لئے بھی چھوٹا نہیں کرنا چاہئے کہ اگر بھارت میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے تو کوئی بری بات نہیں کیوں کہ ہمارے ملک میں بھی امریکہ کی طرح ڈیماکریٹ اور کنزرویٹیو سیاست دان نہ بھی ہوں پر ہمارے ہاں ریماکریت اور نرماکریت سیاست دانوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اگر ’آپ کی آواز‘ کے لئے آپ بھی کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔
|