BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیسا لگتا ہے ویسا ہے نہیں

سالٹ لیک سٹی کی مسجد خدیجہ کے سامنے
سالٹ لیک سٹی کی مسجد خدیجہ کے سامنے
اس دفعہ میری عید کی خوشی اس وقت دوبالا ہوگئی جب ممبئی میں واقع امریکن سینٹر کی ایک افسر نےفون پر یہ خوشخبری دی کہ امریکہ کے دورے کے لیے میرا انتخاب ہوا ہے۔

امریکی حکومت کے انٹرنیشنل وزٹرز ایکسچینگ پروگرام کا یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، تاہم ستمبر گیارہ کے بعداس کا دائرہ کاروسیع کر دیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت گو کہ دنیا بھر سے لوگوں کو بلایا جاتا لیکن مسلمانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اس سال کے ’امریکہ میں مذہبی تنوع‘ یا ’ریلیجس ڈائیورسٹی ان امیرکا‘ کے عنوان کے تحت ہونے والےاس پروگرام میں شرکت کے لیے جنوبی ایشیا کے ممالک سے نوافراد کومنتخب کیا گیا تھا۔ان میں انڈیا اور پاکستان سے تین تین جبکہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال سے ایک ایک فرد شامل تھا۔گروپ کے شرکاء کا تعلق صحافت، سیاست یا تعلیم کے شعبوں سے تھا۔

نومبر دو ہزار چار میں ملنے والی اس خوشخبری کے بعد تو شاید وقت کو پر لگ گئے اور بہت جلد وہ دن بھی آگیا کہ جب ممبئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر لُفتھانسا ایئر لائینز کے طیارے میں پائلٹ نے فرینکفرٹ روانگی کا اعلان کیا۔ تب مجھے لگا کہ واقعی امریکہ کے سفر کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔

لیکن میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سفر اتنا طویل ہوگا۔ میں جلد سے جلد امریکہ پہنچنا چاہتا تھا اور سفر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

میں جہاز میں بیھا سوچ رہا تھا کہ سمند پار اس سپر پاور کی ترقی، اخلاقی قدروں، نوجوانوں کی آزاد خیالی، بزرگوں کے ساتھ سوتیلوں جیسا برتاؤ، موسم کی سختی، بڑی بڑی سڑکوں پر دوڑتی لاتعداد گاڑیاں، جنسی آزادی اور بےراہ روی۔۔ ان سب کے بارے میں، میں نے صرف پڑھ، سن رکھا ہے اور یہ پہلا موقع ہو گا کہ میں یہ سب کچھ دیکھ بھی سکوں گا۔

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور وہ لمحہ بھی آگیا جب یونائٹڈ ایئر لائینز کا طیارہ واشنگٹن کے ڈیلاس ایئر پورٹ پر اترا۔امیگریشن کی مختصر سی کاروائی کے بعد باہر آمد ہال میں پہنچا تو اپنے بچپن کے دوست اجے کمار اور اس کی اہلیہ اُوشا کو اپنا منتظر پایا۔میں ان سے تقریباً بیس سال بعد مل رہا تھا۔

News image
واشنگٹن میں برف کی وجہ سے سکولوں میں چھٹی ہوگئی

ایئر پورٹ پر محکمہ خارجہ کے افسران سے بھی ملاقات ہوئی اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے گروپ کے ساتھیوں سے بھی جو مختلف پروازوں سے یہاں پہنچے تھے۔

میں ایک رات اجے کے گھر رکا۔ ممبئی میں ایک تین سو مربع فٹ کے چھوٹے سے کمرے میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہنے والا اجے اب ایک خوبصورت تین منزلہ مکان اور چار کاروں کا مالک ہے۔اجے نے سب کچھ دن رات محنت کر کے اور دو دو شفٹیں لگا کر حاصل کیا ہے۔

اجے کے گھر پر ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور محمد رفیق اور اجے کی پڑوسن جمیلہ آپا سے ہوئی باتیں میں نے امریکہ کے دوسرے شہروں میں بھی سچ پائیں۔ انہوں نے مجے بتایا کہ یہاں پر پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی مل جل کر رہتے ہیں اور سب کوایشین کہا جاتا ہے۔

سالٹ لیک شہر کے دورے کے دوران گنیش مندر کی نگران خاتون نے ہمارے گروپ کوبتایا کہ مندر کی تعمیر کے دوران جب انہیں مالی دشواریوں کا سامنا تھا تو شہر میں پشاور کے ایک مسلمان دکاندار نے چھ ماہ تک بغیر کسی معاوضے کے مندر میں اشیاء پہنچائی تھیں۔

واشنگٹن ائیر پورٹ سے باہر نکتے ہی سب کچھ بدلا بدلا لگا۔ صاف شفاف سڑکیں اور ٹریفک کے رش سے بچنے کے لیے جگہ جگہ فلائی اوور پل۔ بعد میں جب امریکہ کے ہر شہر میں ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملا تو لگا کہ امریکہ میں فلائی اوورز کا جال بچھا ہوا ہے جن کی وجہ سے سفر میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔

News image
شفاف سڑکیں امریکہ کا خاصہ ہیں

ہر طرف فراٹے مارتی ہوئی گاڑیاں دیکھ کر امریکی فوج کی مشرق وسطٰی میں کسی بھی بہانے سے موجودگی کا راز بھی کھل گیا۔ اگر امریکہ خلیج کی ریاستوں سے دوستی برقرار نہ رکھے تو اس کی خوبصورت سڑکیں ویران ہو جائیں کیونکہ خلیج کی ریاستوں کا تیل ان کے لیے ’لائف لائن‘ ہے۔ تیل کی بندش سے نہ صرف امریکہ کی سڑکیں ویران ہو جائیں بلکہ اس کے ہزاروں طیارے بھی شاید رن وے پر ہی کھڑے رہیں۔

اس بات کا اندازہ آپ اس سےلگا لیں کہ صرف شکاگو اور ایٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر روزانہ تین ہزار سے زائد ہوائی جہاز اترتے اور پرواز کرتے ہیں۔

ہمیں واشنگٹن میں جس ہوٹل میں رکھا گیا، اس کے فرنٹ ڈیسک پر پشاور کے دل وزیر خان سے ملاقات ہوئی۔ بعد میں دیکھا تو پتا چلا کہ یہ صرف اُس ہوٹل میں نہیں تھا بلکہ ہم جس شہر میں بھی ہوٹل میں ٹھہرے وہاں فرنٹ ڈیسک سے ریسٹورنٹ میں بیرے اور ہر چھوٹا کام کرنے والے ملازمین کا تعلق میکسیکو، انڈیا، پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش سے ہی پایا۔ دوسری طرف کوڑا کرکٹ اٹھانے والے، سڑکوں کی مرمت کرنے والے ہمیشہ سیاہ فام امریکی ہی نظر آتے ہیں۔ یعنی سفید فام امریکی خود کوئی چھوٹا کام نہیں کرتے۔ واشنگٹن، شکاگو، نیویارک اور دوسرے بڑے شہروں میں ٹیکسی ڈرائیور بھی یا تو ایشیائی ہیں یا سیاد فام امریکی۔

اکیس فروری کو ’پریزیڈنٹ ڈے‘ کی وجہ سے عام تعطیل تھی اس لیے شہر کی تفریح کے پروگرام کے تحت ہم وہائٹ ہاؤس، کیپیٹل ہل، ایک قدیم کلیسا، جامعہ مسجد، کینیڈی کلچر سنٹر اور ویت نام کی جنگ کی یادگار دیکھنے گئے۔ جنوبی ایشیا کے غریب ممالک کے سربراہوں کی رہائش گاہوں کے برعکس وہائٹ ہاؤس کے ارد گرد کوئی خاص حفاظتی انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ ہمارے ہاں غریب عوام کے لیڈر کہلانے والے مسلح محافظوں کے گھیرے میں رہتے ہیں جبکہ وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ہم نے اوہاما کے گورنر کو پانچ سو دوسرے افراد کے درمیان دیکھا، نہ کہ بیسیوں سیکورٹی کے افراد میں گھرا ہوا۔

سرکاری طور پر ہمارا استقبال امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا دفتر خارجہ کی ایک پراگرام افسر ثنا عابد قطب اور ان کے ساتھیوں نے کیا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں حفاظتی انتظامات بہت سخت تھے اور تصویر لینے کی اجازت بھی نہیں۔

یہاں پر ہماری ملاقات جنوبی ایشیا کے پریس اینڈ پبلک ڈپلومیسی کے ڈاریکٹر سے کرائی گئی۔انہوں نے جنوبی ایشیا کے ممالک اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں امریکہ کا مؤقف پیش کیا۔ ہندوستان کے جمہوری نظام پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا لیکن یہاں کے سیاسی اور تعلیم نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔ان کے مطابق امریکہ، افغانستان کو ایک جدید اسلامی ریاست بنانا چاہتا ہے اور اسے اس سلسہ میں کامیابی ہو رہی ہے۔

امریکہ میں انڈیا کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں ترقی ہو رہی ہے جبکہ پاکستان کو وہ لوگ اپنا دوست تصور کرتے ہیں اور اسے ترقی کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

واشنگٹن میں ہم نے چھ دن قیام کیا اور اس دوران ہمیں برف باری سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملا۔ جس دن برف پڑی اس دن پراگرام کے مطابق ہمیں کچھ سکولوں میں جانا تھا لیکن موسم کی شدت کی وجہ سے سکولوں میں چھٹی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ میں نے اس کا فائدہ اٹھانے ہوئے ٹیکسی پکڑی اور وائس آف امریکہ کے دفتر میں اپنے ایک مہربان سےملنے چلا گیا۔

ٹیکسی میں ایک بار پھرایک غیر ملکی ڈرائیور سے ملاقات ہوئی۔ اس کا تعلق صومالیہ سے تھا لیکن بات چیت کے دوران جب اسے پتا چلا کہ میں انڈیا سے ہوں تواس کا اگلا سوال یہ تھا کہ کشمیر کے بارے میں انڈیا اور پاکستان میں کوئی تصفیہ ہوگا یا نہیں۔میں اپنے علاقے اور اس کے مسائل کے بارے میں اُس کی معلومات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ مجھے لگا کہ میڈیا کی اس ترقی کے دور میں کسی ملک کے لیے بھی اپنے تنازعات کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے دفتر سے واپسی پر جس ٹیکسی ڈرائیور سے ملاقات ہوئی اس کا تعلق انڈیا سے تھا۔جب رنداھاوا کو پتا چلا کہ میں بھی انڈیا سے ہوں تو اس نے کرایہ لینے سے صاف انکار کر دیا۔میں نے بہتیرا کہا کہ میرے سفر کے پیسے حکومت دے رہی ہے لیکن وہ نہیں مانا۔

واشنگٹن ڈی سی میں جمعہ کی نماز کے لیے اپنے بس ڈرائیور ابراہیم اور پاکستانی دوستوں کے ساتھ میں جس مسجد گیا اس کا انتظام سعودی عرب کی حکومت کے پاس ہے۔ دنیا بھر کے سفارتخانوں کے درمیان گھری ہوئی اس مسجد میں نماز کے بعد سعودی حکومت کی طرف سے نمازیوں کے لیے لذیذ بریانی کا بھی اہتمام تھا۔

یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن مسجد سے باہر آنے پر چند ایرانیوں کو فٹ پاتھ پر نماز پڑھتے دیکھ کر ہم سب کو بہت افسوس ہوا۔ ہم پردیس میں بھی اپنی اپنی ڈیڑھ انیٹ کی مسجدیں بنا لیتے ہیں!

سالٹ لیک سٹی میں عیسائیوں کے ایک فرقے،مرمون، کے لوگوں کو بھی دیکھنے اور ملنے کا موقع ملا۔یہ لوگ حضرت عیسٰی کو خدا اور اپنے ایک پیشرو جوزف سمتھ کو پیغمبر مانتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف شراب بلکہ تمباکو نوشی کو بھی حرام سمجھتے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے اخباروں میں اکثر اس قسم کی خبریں چھپتی رہتی ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور خاص طور پر گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے ان کی تعداد میں خاصااضافہ ہو رہا ہے۔لیکن میں نے واشنگٹن سے ایٹلانٹا، جیکسن ول، فلوریڈا، سالٹ لیک سٹی، اوہاما، اور شکاگو تک اپنے سفر کے دوران ایسا کچھ نہیں دیکھا۔نہ صرف یہ بلکہ مجھے یہ جان کر بھی مایوسی ہوئی کہ امریکہ کے کلیساؤں میں بڑے بڑے پادریوں کی اسلام کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

News image
گروپ کے دوسرے شرکاء اور امریکی میزبانوں کے ساتھ

قطع نظر اس بات کے، اپنےامریکہ کے سفر میں یہ بات مجھ پر بہت واضع ہوئی کہ امریکہ میں اخلاقیات کا معیار ہم سے بہت اچھا ہے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے وہ لوگ ہم سے زیادہ اسلام پر عمل کرتے ہیں۔ ھیلو،سوری، معافی چاہتا ہوں، شکریہ۔۔ جیسے کلمات امریکہ میں لوگوں کی گفتگو کا لازمی حصہ ہیں۔وہاں کے سیاستدان کچھ بھی کر رہے ہوں لیکن امریکی عوام اچھے ہیں، بلکہ بہت ہی اچھے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66سعودی خاتون
میں اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہتی ہوں؟
66مختصر سفرنامہ
مدینہ کے ٹھنڈے میٹھے لوگ
103کھُلاخط
اب قومی شناختی کارڈ کے لیےمرنا پڑےگا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد