کُھلا خط: سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے نام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم اس کھلے خط کے ذریعے متعلقہ حکام کو ان تکالیف سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں جن سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر کاغذات بنوانے کے لیے آئے دن گزرنا پڑتا ہے۔ ان کاموں کے لیے ہمیں پاکستانی سفارتخانے یا ان کے کیمپ آفس کے تین چارچکر لگانا پڑتے ہیں۔ ریاض اور جدہ کے بڑے شہروں میں پاکستانی کونسل خـانہ کے دفاتر تو پورا مہینہ کھلے رہتے ہیں لیکن سعودی عرب کے دوسرے تمام شہروں میں سفارتخانے کا متعلقہ عملہ مہینے میں صرف دودنوں کے لیے کیمپ لگاتا ہے۔ آپ کو اپنے فارم جمع کرانے اور دوسرے کاغذات کی جانچ پڑتال کرانے کے لیے صرف دودن دیے جاتے ہیں۔ چونکہ سعودی عرب میں پاکستانیوں کی تعداد خاصی زیادہے اس لیے کیمپ آفس پر لمبی قطاریں معمول ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو کھڑکی میں اپنی باری آنے پر فارم لینا ہوتا ہے۔ کہنے کو محض فارم لینا ہے لیکن یقین جانیے یہ کوئی آسان کام نہیں۔فارم لینے کے بعد ہمیں کسی ایسے شخص کی تلاش ہوتی ہے جوکہ ان فارموں کو بھر سکے کیونکہ یہ فارم ہر کوئی نہیں بھر سکتا۔ فارم بھرانے کے بعد ہمیں ایک اور قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے جو کہ فارم جمع کرانے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ اس وقت تک کیمپ آفس میں بہت بھیڑ ہو چکی ہوتی ہے۔ یاد رہے آپ کو فارم اسی دن جمع کرانے ہوتے ہیں کیونکہ کیمپ آفس کے دوسرے دن آپ صرف شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر کاغذات وصول کرسکتے ہیں جمع نہیں کراسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسی دن فارم جمع نہ ہو سکے تو پھر آپ کو ایک ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ہمارا تجربہ یہی ہے کہ فارم جمع کرانے کا کام ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر کوئی چیخ رہا ہوتا ہے اور کیمپ آفس میں اکثر دھینگا مشتی ہو جاتی ہے۔ اگراس دن آپ کی قسمت نے ساتھ دیا تو آپ فارم جمع کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن عین ممکن ہے کہ مسئلہ یہی ختم نہ ہو کیونکہ بیشتر فارموں پر کوئی نہ کوئی اعتراض یا اوبجیکشن لگ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فارم میں کئی پیجیدگیاں ہو سکتی ہیں اور اس پر مزید یہ کہ فارم جمع کراتے ہوئے آپ کو ان اعتراضات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہو تو آپ اسی دن اعتراض کو دور کر سکتے ہیں یا اضافی کاغذات جمع کرا سکتے ہیں۔ ایک دو نہیں ، کئی لوگوں کو ان کے مسترد کاغذات واپس ملنے میں ایک ایک سال لگ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ یہاں محنت کر کے ملک کے لیے ذرمبادلہ کماتے ہیں جس کا ایک بڑا حصہ حکومتی اداروں کو چلانے میں خرچ ہوتا ہے لیکن اس کے جواب میں ہمیں اپنے سفارتخانہ سے اچھی سروس نہیں مل رہی۔ہماری گزارشات یہ ہیں کہ: کیمپ آفس کی سہولت مہینے میں ایک دن کی بجائے انڈین ایمبیسی کے کیمپ آفس کی طرح ہفتے میں ایک دن ہونا چاہیے۔ یہاں پر موجود پڑھے لکھے لوگوں میں سے چند کوفارم بھرنے کی تربیت دی جائے تا کہ کیمپ آفس میں فارم جمع کرانے سے پہلے فارموں میں کوئی غلطی نہ ہو۔ شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کے لیے درخواست دینے کے لیےفارم سفارتخانے کی ویب سایٹس سے ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت ہونا چاہیے۔ سلور اور گولڈ کارڈ بنانے کےعمل کو آسان بنایا جائے۔ اگر آپ بھی کسی کے نام کھلا خط لکھنا چاہتے ہیں تو بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو لکھ بھیجیے۔ایسے مختصر خط آپ بائیں طرف لگےای میل فارم کے ذریعے بھجوا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||