شاہدہ اکرم ابو ظہبی |  |
 |  پہلی بار جرمنی میں ہٹلر کے بارے میں فلم بنائی گئی ہے |
دوسرے ملک اور دوسری تہذیبوں کے لوگوں سے ملنا ایک تجربہ ہوا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے میرا پہلا بیرون ملک سفر سن انیس سو چوراسی میں لندن کا سفر تھا جو اس وقت تو ایک ایکسائیٹ منٹ لیے ہوئے تھا اور حقیقت میں بہت مزہ آیا تھا، ایک ایسی دنیا کو دیکھنے کا تجربہ بہت شاندار رہا جس نے انڈیا پاکستان پر حکومت کی لیکن گستاخی معاف، لوگ کچھ روکھے سے لگے، اتنے کشادہ دل نہیں جتنی کہ ہماری روایت ہے۔ لیکن جس چیز نے متاثر کیا وہ تھی وہاں کی صفائی اور ڈسپلن اور وہاں کے میوزیم دیکھ کر مزہ آیا۔ سر فہرست برٹش میوزیم اور میڈم تساؤد کا میوزیم تھا، بکنگھم پیلیس کو گو باہر سے ہی دیکھا لیکن بہت اچھا لگا۔ ویلش کا سفر بھی ایک ایسا تجربہ تھا جو صرف دیکھنے سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ غاروں میں جانا آج تک نہیں بھول سکتے کیوں کہ محسوس ہوتا تھا کہ گویا ہم خود غاروں کے زمانے میں پہنچ گئے ہوں۔ اس کے بعد انیس سو نواسی سے پانچ سال تک کی مدت سعودی عرب میں گزرا ہوا وقت اپنی خوبصورتی سے لحاظ سے اس وجہ سے اہمیت کا حامل ہے کہ وہاں ہمارے مقامات مقدسہ نے ہمیں اپنی کشش کے حصار میں باندھ کر ہمیں کچھ بھی فالتو سوچنے کے قابل نہیں رکھا۔ پورا سعودی عرب دیکھا ہے اور ہر علاقے کے لوگ مختلف لگے، ریاض کے لوگ اپنے آپ میں مگن اور کسی کی طرف بھی توجہ نہ دینے والے، مکہ کے لوگ آج بھی ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ویسے ہی ہیں کسی اور کو خاطر میں بھی نہ لانے والے البتہ مدینہ کے لوگ بےحد پرخلوص اور پیارے کرنے والے ہیں، ٹھنڈے میٹھے لوگ۔۔۔۔ سن دو ہزار تین میں جرمنی کے سفر کا اتفاق ہوا، بہت خوبصورت ملک ہے، گرینری اور خوبصورتیوں کی ایک ایسی جنت ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ہٹلر کے وقت کی یادگاریں دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ورلڈ وار کے وقت کے پورے جنگی نقشے اور اس جگہ جنگ میں کام آنے والوں کے قبرستان۔۔۔۔ اس جنگ کو گزرے کافی وقت ہوئے پھر بھی اس طرح تازہ رکھا ہوا ہے کہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ جرمن لوگ ابھی تک جنگ کے اثرات سے نکل نہیں پائے اور انگریزوں سے ان کی نفرت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انگلش زبان میں سمجھنے کے باوجود اگر آپ کوئی بات انگلش میں کہیں یا پوچھیں تو کبھی جواب نہیں ملے گا، کسی چیز کی قیمت بھی پوچھنی ہو تو کیلکولیٹر سامنے کیا جائے گا، جواب نہیں دیا جائے گا۔ ان کی ثقافت کی سب سے خوبصورت بات ان کی اپنے پرانے اقدار سے محبت۔۔۔۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ بھی کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔
|