BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا صفحہ: مختصر سفرنامہ
صحارا کے ریگستان میں ایک افریقی لڑکی
صحارا کے ریگستان میں ایک افریقی لڑکی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت ہم قارئین کا مختصر سفرنامہ شائع کرنا چاہتے ہیں۔ اس مختصر سفرنامے کے ذریعے آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ کسی دوسرے ملک یا دوسرے صوبے کے سفر کے دوران وہاں کے باشندوں اور مقامی تہذیب سے آپ نے کیا سیکھا۔

کیا آپ نے کسی دوسرے ملک کا پہلی بار دورہ کیا ہے؟ یا اندرون پاکستان کیا آپ نے کسی دوسرے صوبے یا شہر کا سفر کیا ہے؟ اگر ہاں، تو آپ کے پہلے دورے پر کس چیز نے آپ کو متاثر کیا؟ وہاں کی کون سی بات آپ کے ذہن پر نقش کرگئی؟ وہاں کی زبان، وہاں کے لوگ، وہاں کی ثقافت آپ کو کیسی لگی؟ آپ نے اپنے سفر سے کیا سیکھا؟

ہمیں ایک مختصر سفرنامہ لکھ کر بھیجیں۔ آپ کا مختصر سفرنامہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز کے تحت شائع کیا جائے گا۔



اختر عباس
کراچی

پچھلے سال گرمیوں میں مجھے بس کے ذریعے کراچی سے سکردو جانے کا اتفاق ہوا۔ میں رہتا کراچی میں ہوں لیکن میرا گاؤں بلتستان ہے جس کا صدر مقام سکردو ہے۔

بلتستان پاکستان کے شمال میں ہے اور کے ٹو، سیاچن اور کارگل جیسی عظیم پہاڑی چوٹیاں اسی علاقے میں ہیں۔

میں زندگی میں پہلی مرتبہ اکیلا سفر کر رہا تھا۔ میں کراچی سے بس کے ذریعے اسلام آباد پہنچا جہاں سے میرے سفر کا سب سے دلچسپ حصہ شروع ہوا۔

بس اسلام آباد اور راولپنڈی کی درمیانی سڑک پر واقع پیر ودھائی کے بس سٹینڈ سے روانہ ہوئی۔ سفرکے پہلے کچھ گھنٹے تو بہت اچھے گزرے لیکن جب ہم مانسہرہ پہنچے تو میری حالت خراب ہونے لگی۔ اتنےاونچے اونچے پہاڑ دیکھ کر دل ڈوبنے لگا، سڑک کی ایک طرف دریائے سندھ اور دوسری طرف تاحد نظراونچے پہاڑ سر اٹھائے کھڑے تھے۔ میرا تودم نکلنے والا تھا۔

اب پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بس کو چار گھنٹے ہو چکے تھے۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا ’بھائی ابھی کتنا پہاڑی راستہ باقی ہے‘ تو اس نے کہا ’ بھائی ابھی تو سفر شروع ہوا ہے، پندرہ گھنٹے کا سفر باقی ہے‘ اور ساتھ ہی ہنسنے لگا۔اس کی ہنسی نے مجھے اور زیادہ خوفزدہ کردیا۔

میں نے مضبوطی سے اپنی سیٹ پکڑی ہوئی تھی کہ کہیں گر نہ جاؤں۔ پھر اچانک خیال آیا۔۔ دیکھو اختر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ یہ خیال آتے ہیں دل مضبوط ہوا اور میں نے اپنے بیگ سے بسکٹ کا پیکٹ اور پیپسی نکالے اور کھانے پینے میں لگ گیا۔

میرے ساتھ بس میں سٹوڈنٹس کا ایک گروپ بھی تھا جو نوابشاہ سے بلتستان گھومنے نکلے تھے۔ ان میں سے ایک بولا ’ بھائی آپ تو بڑے مزے سے بسکٹ کھارہے ہیں اور ہم سب کی حالت خراب ہو رہی ہے۔‘ میں نے کہا کہ بھائی تم لوگ تو اتنے زیادہ ہو اور میں اکیلا آدمی ہوں۔ تم لوگ تو ایک دوسرے سے بات کر کے وقت پورا کر لوگے لیکن میں کس سے بات کروں۔

بہرحال رات بھر سفر جاری رہا۔ تھوڑی دیر کو سویا ہوں گا کہ صبح ہو گئی۔اچانک میری نظر پڑی تو میری دائیں طرف ایک انتہائی بلند اور ہیبت ناک مگر خوبصورت پہاڑ تھا۔ میں تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

News image
’ آپ اس وقت جس پہاڑ کو دیکھ رہے ہیں وہ نانگا بربت ہے‘

میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ یہ کون سا پہاڑ ہے کہ ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ لکھا تھا ’ آپ اس وقت جس پہاڑ کو دیکھ رہے ہیں وہ نانگا بربت ہے‘۔خوشی کے مارے میری چیخ نکل گئی۔ میرے پاس کیمرہ نہیں تھا ورنہ جی چاہ رہا تھا کہ اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس قید کر لوں۔

ہماری بس اسی طرح اونچے نیچے پہاڑی سلسلوں کے درمیان چلتی رہی۔اب دس بج چکے تھے۔میں چاروں طرف پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ٹیلے پر پڑی تو میری آنکھیں کھل سی گئیں۔ ہماری بس ذرا قریب پہنچی تو منظر صاف ہوا۔ پہاڑی ٹیلا بالکل ایسا لگا کہ جیسے ایک شخص نے ٹو پیس سوٹ پہنا ہوا ہے اور اس کا اوپر کا دھڑ آپ کو دکھائی دے رہا ہو۔

تھوڑی دیر میں بس سکردو پہنچ گئی، لیکن اس سفر کا خیال آتا ہے تو ایک ہی بات منہ سے نکلتی ہے کہ’ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘۔


سنگا پور کا سفر
تحریر:خالد سیف اللہ، بیلجیم

یونیورسٹی کے آخری سال کے دوران میں نے سنگاپور جانے کا فیصلہ کیا تاکہ ایمپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار کا جائزہ لے سکوں۔

سنگا پور جیسا خوبصورت ملک میں نے اپنی بائیس ملکوں کی سیرمیں سرفہرست پایا۔وہاں پر کوئی بھی شخص کوئی چیز سڑک یا گلی میں نہیں پھینک سکتا۔ اگر پھینکےگا تو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

سنگا پور میں آرچرڈ روڈ کی عمارتوں کا کیا کہنا۔ لیکن میرے اس سفر کا خوبصورت اور اداس موڑ وہ تھا جب میں سنٹوسا کی سیر کوگیا۔ اس مقام پر میرے والد صاحب دوسری جنگ عظیم میں برٹش آرمی کی طرف سے لڑے تھے۔

فلک بوس عمارتوں کا خوبصورت ملک سنگاپور
فلک بوس عمارتوں کا خوبصورت ملک سنگاپور

میں نے وہ تنگ بنکر دیکھا جس میں میرے والد رینگ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوں گے۔اس جگہ پر اب بھی بم اسی حالت میں رکھے ہوئے ہیں جیسے جنگ کے دوران رکھے ہوئے تھے۔یہ بم مردہ نہیں ہیں بلکہ پھٹ سکتے ہیں۔اسی لیے کسی بم کو چھوہنے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ سب دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ جس وقت میرے والد صاحب اس جگہ پر حالت جنگ میں تھے تو ان کے والد یعنی میرے دادا انتقال کر گئے اور میرے والد صاحب ان کا آخری دیدار بھی نہ کر سکے۔ میں خود اپنے والد کو بھی دو سال کی عمر کے بعد نہیں دیکھ سکا کیونکہ ان کا بھی انتقال ہو گیا تھا۔

میں اس مورچے پر کھڑا سوچتا رہا کہ جنگ کتنی بری چیز ہے کہ جس کی وجہ سے کتنے لوگ اپنی پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کے سائے سے محروم ہو چکے ہوں گے، کتنے گود میں ہوں گے جب انہوں نے اپنے والد کو مرتے دیکھا، کتنوں نے ساری عمر بیساکھیوں کے سہارے چلتے دیکھا اور ان کی خدمت کی۔

میں سنگا پور گیا تو بہت خوش تھا لیکن واپس آیا تو اس سے زیادہ اداس تھا۔



ساؤتھ کوریا کا سفر
تحریر: جاوید اقبال ملک، چکوال

پہلی جنوری انیس سو چھیانوے کو میں ساؤتھ کوریا کے لئے روانہ ہوا۔ یہ میری زندگی کا پہلا غیرملکی سفر تھا۔ میں بہت کنفیوژ تھا۔ راستے میں بینگ کاک، تائپئی اور ہانگ کانگ میں ہمارا اسٹے ہوا تھا لیکن میں کوئی خاص وزِٹ نہیں کرسکا۔ میں اپنی منزل کے فکر میں تھا۔

News image
ساؤتھ کوریا کی پارلیمان کا ایک منظر
جنوری میں ساؤتھ کوریا میں ناقابل برداشت سردی ہوتی ہے۔ مجھے لینے کے لئے کمپنی کی گاڑی آئی ہوئی تھی۔ میں دارالحکومت سول میں اس قدر صاف ستھرا ماحول دیکھ کہ حیران ہوگیا۔ وہاں پر ہر شخص جھک کر ملتا ہے اور ایک دوسرے کی ریسپیکٹ کرتا ہے۔ وہاں پر سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اسموکِنگ ایریا بنائے گئے تھے اور تمام لوگ ان کو فالو کرتے تھے۔ بس اور ٹرین میں کنڈکٹر نہیں تھے مگر پھر بھی سب لوگ کرایہ دیتے تھے اور کوئی چیٹنگ نہیں تھی۔ بڑی بڑی مارکیٹس اور سوپر اسٹورس میں ’سیلف شاپنگ‘ تھی مگر کوئی چوری نہیں کرتا تھا۔ ایک مکمل اسلامی سیسٹم تھا مگر یہاں واپس آکر اپنے اسلامِک ریپبلِک میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں۔


اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد