BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 June, 2005, 18:46 GMT 23:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’متبادل تجاویز پر غور کرسکتے ہیں‘

میر واعظ
میر واعظ کی پریس کانفرنس میں باقی کشمیری رہنما بھی موجود تھے
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر کے بارے میں اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے اور اگر اب بھی ان قراردادوں پر عمل درآمد کے انتظار میں رہے تو ایک لاکھ مزید جانیں دینی ہوں گی۔

میر واعظ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیری قیادت آگے بڑھے اور دیگر معقول اور قابل عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دنیا تبدیل ہوگئی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کی سیاسی قیادت آگے رہے اور عسکری قیادت ان کی حمایت میں پیچھے رہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کی شام اسلام آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس پریس کانفرنس کا اہتمام وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے کیا جس میں یاسین ملک کے علاوہ وفد میں شامل باقی تمام کشمیری رہنما بھی موجود رہے۔

انہوں نے کہا کہ سن نواسی سے دوہزار ایک تک کشمیر کی عسکری قیادت آگے رہی لیکن اب صورتحال کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت آگے رہے جبکہ عسکری اور سفارتی قوت اس کی حمایت کرے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ تینوں سطحوں کی قیادت میں مضبوط اور موثر رابطہ ہونا چاہیے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ امریکہ پر حملوں کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے مطابق دنیا میں کوئی بھی تحریک کتنا ہی حق اور سچ پر کیوں نہ ہو، اگر اس میں شدت پسندی کا عنصر شامل ہے تو دنیا اس کی مدد نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ سرینگر سے روانہ ہوئے تھے تو ان کے ذہن میں پاک بھارت مذاکرات کے متعلق کئی خدشات، غلط فہمیاں اور تحفظات تھے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد وہ مکمل طور پر مطمئن ہیں کہ پاکستان کشمیر کے حل کے لیے درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیری رہنما ہندوستان کی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ان سے بات چیت کے بعد دوبارہ پاکستان آنا چاہتے ہیں اور یہ ان کا کوئی آخری دورہ نہیں۔

لیکن انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال یعنی ’سٹیٹسکو‘ اور سیز فائر لائن کو مستقل سرحد بنانے کے علاوہ کسی بھی ممکنہ حل پر بات کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا انحصار اب حکومت ہندوستان پر ہے کہ وہ بات چیت کے عمل کو کیسے مضبوط بناتی ہے۔

انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے انہوں نے بھی دو تین ٹھوس تجاویز پاکستان کو پیش کی ہیں لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

کشمیری رہنمانے کہا ہے کہ کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے مرحلہ وار آگے بڑھا جائے اور اس کے لیے وقت کا بھی تعین کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان سہ طرفہ بات چیت ہونی چاہیے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوں، کشمیریوں اور پاکستان اور کشمیریوں اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات ہوں ۔ جس کے بعد انہوں نے کہا اگر معاملات آگے چل پڑیں تو ’سہ طرفہ، بات چیت سہ فریقی بات چیت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلا قدم ہے پہلا قدم اس لئے کہ پہلی بار کشمیریوں سے پوچھا جارہا ہے اور پہلی بار کشمیریوں کو بلایا جارہا ہے اور پہلی بار کشمیریوں سے مشورہ کیا جارہا ہے‘ ۔

پریس کانفرنس کے دوران جب میر واعظ عمر فاروق سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی، کے سربراہ سے ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اس موقع پر کچھ صحافیوں نے تلخ سوالات بھی کرنا چاہے لیکن وزیراطلاعات صحافیوں کو یہ کہہ کر ٹالتے رہے کہ مہمانوں کا خیال کریں اور پاکستان کے کاز کو مدنظر رکھیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے پندرہ روزہ دورے پر آئے ہوئے نو علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کی اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل ہوگیا اور اب وہ اپنے دورے کی رسمی مصروفیات جس میں سیر تفریح بھی شامل ہے شروع کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد