BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 27 May, 2005, 10:29 GMT 15:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد میں مزار پر خودکش حملہ
درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے
درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مزار پر ہونے والے خود کش بم حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو ئے ہیں۔ بری امام میں موجود ایمبولنس سروس کے مطابق دھماکے کی جگہ سے18 کے لگ بھگ لاشیں اٹھائی جا چکی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق خود کش بم حملہ اسلام آباد کے مضافات میں بری امام کے مزار کے سالانہ عرس کے موقع پر اس وقت یہ دھماکہ ہوا جب وہاں سینکڑوں شیعہ مسلمان جمع تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کے مطابق بظاہر یہ ایک خود کش بم حملہ دکھائی دیتا ہے۔ شیخ رشید نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک شخص عرس میں آیا اور اس نے خود کو بارود سے اڑا لیا۔ نامہ نگاروں کے مطابق بری امام کا مزار شیعہ اور سُنی مسلمانوں کے لیے قابل احترام ہے اور دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد مزار پر عقیدت کے پھول چڑھاتے ہیں۔

یہ خودکش حملہ حال ہی میں لاہور میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے اٹھاون علماء کے اس فتویٰ کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی اسلامی ملک کے اندر عوامی مقامات پر خود کش حملے کرنا اسلام میں حرام ہے اور اسے ثواب سمجھ کر کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اس حملے پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ اگر حملے کے وقت آپ وہاں موجود تھے تو تفصیل سے لکھیں کہ کیا آپ نے کیا دیکھا۔

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

اصغر خان، چین:
حکومت کو اسلامی انتہا پسندوں کے سامنے سر نہیں ٹیکنے چاہئے۔ ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ حکومت ان انتہاپسند گروہوں کی مالی فراہمی روکے۔

شہزاد احمد، جدہ:
میرے خیال میں یہ جو لوگ خودکش حملے کرکے اپنے آپ کو سب سے اچھے مسلمان اور جہادی سمجھتے ہیں یہی لوگ سب سے بڑے دہشت گرد اور اسلام دشمن ہیں جو لوگ اپنے جیسے انسانوں اور مسلمانوں کی جان لے سکتے ہیں وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں، حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ ملک میں ایک گرانڈ آپریشن کرکے پہلے تو سب غیرملکیوں بشمول افغانوں کے ملک سے نکالے تاکہ کچھ حد تک دہشت گردی پر کنٹرول کیا جاسکے۔

عبدالصمد، اوسلو:
مشرف صاحب آپ میڈ اِن ترکی والا اسلام پاکستان میں نافذ کرنے سے باز آجائیں ورنہ اسلام آباد جیسا ایک واقعہ آپ کو بھی لے ڈوبے گا۔

محمد سفیان خان، یو کے:
میں بتاتا ہوں کہ یہ واقعات کیوں ہوتے ہیں۔ اس کی بیج جنرل ضیاء الحق نے سعودی عرب کی مدد سے بوئے تھے کہ ایران کا اسلامی انقلاب پاکستان اور سعودی عرب میں نہ داخل ہوسکے۔ اس فرقہ واریت کی اصل روٹ ضیاء الحق نے شروع کی تھی جو آج تک جاری ہے۔ ہماری پولیس اور فوج بس بیانات کے لئے ہے اور ہمارے ملا حضرات صرف فتوے دینے کے لئے ہیں۔

ضحیٰ کاظمی، چکوال:
اس حادثے میں کسی تیسرے فریق کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ اور یہ شیعہ سنی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش ہے۔

جاوید جماالدین، ممبئی:
اسلام آباد کی خبر نے دل کو دہلا دیا، یہ ایک ایسی خبر ہے جس کی وجہ سے ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ جو مذہب امن بھائی چارگی اور اتحاد وہ اتفاق کی تعلیم دیتا ہے اس کے ماننے والے اس قسم کی حرکت کریں گے یہ افسوس ناک پہلو ہے۔

بےروزگار بابا، جرمنی:
بہت افسوس کی بات ہے۔ اگر ایک مسلم اس طرح کا کام کرتا ہے، بےگناہ لوگوں کی جان لیتا ہے اور اپنے آپ کو مسلم سمجھتا ہے اور ثواب کے واسطے، جنت کے واسطے یہ کام کرتا ہے، یہ اس کی غلط فہمی ہے اس کو جنت کے بدلے جہنم ملےگا، ثواب کے بدلے عذاب ملے گا جو یہ کام کرتا ہے۔

آصف اعوان، جنوبی کوریا:
میرے خیال میں جو لوگ اس بم دھماکے میں ملوث ہیں، وہ حقیقت میں انسان نہیں، جانور ہیں۔ اسلام معصوم لوگوں کے قتل کی اجازت کبھی نہیں دیتا۔ ہماری حکومت ڈیڈ ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ مسلمان کی قیمت کیا ہے۔ ہمارا اسلام مکمل کوڈ ہے۔ جو لو گ اس بم دھماکے میں ملوث ہیں وہ اسلام میں نہیں۔

نعمان صدیقی، راولپنڈی:
میری رائے میں ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہئے جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور دوسرے مسلمان کو اذیت بھی دیتے ہیں۔ جو کسی ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک چھین لیتے ہیں، جو کسی کو یتیم دیکھنا چاہتے ہیں، جو کسی عورت کے سر سے سہاگ ہٹادیتے ہیں، وہ مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں رہتے۔

فراست زمان، سویڈین:
میرے خیال میں جتنے مزار ہیں ان کو بند کردینا چاہئے۔ کیوں کہ ان چیزوں کا اسلام میں کوئی کنسیپٹ نہیں، یہ سب جہالت ہے۔

شیراحمد، پشاور:
یہ ہمارا ملک ہے، اس میں کم از کم ایسا تو نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ہم خود یہ کام کریں تو ہمارے کنٹری میں ہماری کیا اہمیت رہ گئی؟

کاشف شیخ، کراچی:
جو بھی ہوا غلط ہوا۔ جس کا نقصان ہونا تھا ہو گیا۔ آپ یہ نوٹ کریں کہ جب بھی کوئی اسلامِک ایشو اٹھاتا ہے چاہے وہ کارگل ہو، افغانستان ہو، وزیرستان ہو یا قرآن کی بےحرمتی ہو تو، تو ایسے ردعمل کو ختم کرنے کے لئے آئی ایس آئی بلاسٹ کرتی ہے۔ اس میں کوئی مذہبی یا خود کش شامل نہیں ہوتا۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ اور غلامِ امریکہ سے نکال کر غلامِ رسول میں زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

مشن حسین، کراچی:
اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے اور ہم سب کا دشمن امریکہ ہے اور جب تک یہ ہے مسلمان قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ آج سب کا دشمن امریکہ ہے اور یہ سب سے پہلے مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ اس کی بھول ہے۔

جاوید اکبر، لندن:
مسلمان ہوشیار رہیں کیوں کہ یہ کام بالک کسی مسلمان کا نہیں۔ یہ اسلام کے دشمن کررہے ہیں۔ ایک بات پر غور کرو بھائیو یہ پاکستان میں سب خون خرابہ انیس سو چوہتر سے کس لئے شروع ہوا؟ جب بھی مسلمان یونائٹیڈ ہوتے ہیں کچھ لوگ انہیں قتل کرتے ہیں، مسجدوں میں بم بلاسٹ کرتے ہیں۔۔۔۔۔

ڈاکٹر الطاف حسین، اٹلی:
کون کہتا ہے کہ ہم انسان ہیں؟ اس کا مقصد ہوا کہ کوئی بھی گھر سے باہر نہ جائے۔ اللہ کرے ہم صرف انسان ہوجائیں۔

فرمان، پشاور:
میرے خیال میں اس دھماکے میں گورنمنٹ شامل ہے۔ کیوں کہ ایم ایم اے اور دیگر پارٹیوں نے جو کال دی تھی قرآن شریف کی بےحرمتی کہ بارے میں، تو احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے گورنمنٹ ایسا کرسکتی ہے۔۔۔۔

عزیز رحمان، لاہور:
یہ سب مسلمان نہیں کررہے ہیں، یہ غیرمسلمانوں کا کام ہے۔

مجاہد محمد، تائیوان:
یہ سب ملک دشمن عناصر کا کام ہے، جو کسی نہ کسی مذہبی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو ان لوگوں کے برین واش کر کے اپنا کام نکلواتے ہیں اور خود گھر میں بیٹھ کر مزے سے اپنی کرسیاں سنبھالتے ہیں۔ اور ان کے کارکن اس کام کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اسلام میں کسی بھی انسان کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے، خواہ وہ مسلمان ہوں یا وہ کسی اور مذہب سے۔ اللہ کی نظر میں تمام لوگوں کی جان برابر کی قیمتی ہے۔ یہی ہمارے اسلام کی سب سے عظیم بات ہے۔۔۔۔

سلمان انور، چکلالہ:
جب تک لوگ اللہ کو بھول کر مزاروں میں سکون ڈھونڈتے رہیں گے، یہ کچھ ہوتا رہے گا۔

فرحان صدیقی، اسلام آباد:
افسوس ہوتا ہے ان جاہل مولویوں پر کہ جن کو ’اسلام‘ کا مطلب ہی نہیں پتہ۔ اسلام کا مطلب ہے امن مگر ۔۔۔ کیا کریں گے امۃ کی یہ لوگ جو کہ ہمارے مذہب کے لغوی معنی تک نہیں جانتے! پرویز مشرف کی میں ہر بات سے تو متفق نہیں ہوں مگر ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ہمیں اصل خطرہ اندرونی ہے۔ اللہ ان سب کو نیک ہدایت دے۔

شائستہ خان، یو کے:
یہ یقینا دشمنان کی سازش ہے جو مسلمانوں کو اکٹھا ہونا نہیں دیکھ سکتے، حال ہی میں علمائے کرام نے جو زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، یعنی خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ اور اسلام آباد میں متحدہ کنونشن، وہ اس بات کی علامت ہے کہ تمام مذہبی رہنما امن پسند ہیں اور دہشت گردی کو رد کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں اس طرح کے بم حملے علماء اور امۃ کے اتحاد کو ختم کرنے کی جاہلانہ اور بزدلانہ کوشش ہے، جو پہلے کی طرح کی گئی تمام کوششوں کی طرح ناکام ثابت ہوگی۔ آج کل ہمارے ذہن میں یہ بیٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جہاں کہیں کوئی غلط کام ہو فورا اس کی ذمہ داری علمائے کرام اور اسلام پر ڈال دی جائے۔ یہ بالکل غلط رویہ ہے جس کی سختی سے بیخ کنی ہونی چاہئے۔۔۔۔۔

عباس پٹھان، لطیف آباد:
یہ بم بلاسٹ سپہ صحابہ کی حرکت ہے۔ اس میں حکومت کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے، جو کچھ بھی ہو بہت برا ہوا۔

آفاق علی، ڈیرہ غازی خان:
یہ لوگ مسلمان تو دور کی بات ہے انسان بھی نہیں ہیں۔ یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اگر یہ لوگ جنت میں جائیں گے تو مجھے جہنم منظور ہے۔ حالانکہ اسلام کا پہلا درس یہ ہے کہ جس نے کسی ایک بےگناہ انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا، ان لوگوں کا کوئی دین نہیں ہے سوائے پیسے کے۔

سلمان جاوید خان، اسلام آباد:
گورنمنٹ آف پاکستان، پلیز ویک اپ!!

مشکور نقوی، اسلام آباد:
دھماکے سے واضح ہوگیا ہے کہ دارالحکومت کی پولیس زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جو کہ پی ایم ہاؤس کے ایک کلومیٹر کے اندر تھے۔

پرویز بلوچ، بحرین:
بےگناہ شہریوں کے ہجوم میں اس طرح حملہ کرنا انسانیت نہیں ہے۔ حکومت کو اس حملے کی تحقیقات کرنی چاہئے اور ذمہ دار کو عبرتناک سزا دینی چاہئے۔

ہارون ملک، لاہور:
یہ سب سے خراب کام ہے جو کوئی مذہب کے نام پر کرسکتا ہے۔ اس طرح کے حملوں سے مذہبی لوگوں کے لئے دوسروں میں نفرت پیدا ہوگی۔۔۔۔۔

عاصم سعید، لاہور:
سویڈین کے شاہد علی کی رائے کے جواب میں: اس حملے سے وزیر برائے مذہبی امور کو کیا کرنا ہے؟ سکیورٹی وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ حملہ ایک حساس علاقے میں ہوا: سفارتی علاقہ:

عبدالوحید، میریلینڈ، امریکہ:
بدقسمتی سے یہ اس فتویٰ کا نتیجہ ہے جس میں پاکستان سے باہر خودکش حملوں کی اجازت دی گئی ہے۔ ریاستِ پاکستان کے قیام سے اب تک تمام حکومتوں نے انتہاپسند ملا مینٹلیٹی کو پلیز کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔

ضامن، لاہور:
پاکستان میں مسجد اور امام بارگاہ محفوظ نہیں ہیں، ہم مسلمان ہیں، ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
یہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے دل بہت دکھی ہے۔ ہم لوگ کدھر جارہے ہیں، مسلم کو مار رہے ہیں اور شرپسند عناصر اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہورہے ہیں، ہم لوگ کب تک یوں ہی اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ظلم کرتے رہیں گے؟ اللہ اسلام کو تقویت دے۔

جہاں بنگش، اسلام آباد:
مجھے نہیں معلوم اس طرح کے واقعات کیوں ہوتے ہیں۔ اگر ہم مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے، تو دوسرے مذاہب کے ساتھ کیسے قدم بہ قدم چلیں گے۔ مجھے یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی شخص خودکش حملہ کے لئے تیار کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔

گل انقلابی سندھی، دادو:
پاکستان کی آئی ایس آئی اس میں ملوث ہے کیوں کہ ڈِکٹیٹر مشرف پاکستان کے لوگوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی غیرقانونی، غیراخلاقی حکومت جاری ہے۔۔۔۔

عمر گل عثمانی، پشاور:
پاکستانی علماء پاکستان سے باہر ہونے والے ہر واقعات کے لئے مظاہرہ کرنے کے لئے سڑک پر آجاتے ہیں لیکن جب معصوم لوگ مارے جاتے ہیں تو نہیں آتے۔۔۔۔

عاطف محمد، آئیس لینڈ:
جب ڈِکٹیٹرس عوام کی آواز کو دبائیں گے، انصاف نہیں ہوگا، یہی سب کچھ ہوگا۔ کوئی آرمی حکومت کے ذریعے اسے کنٹرول نہیں کرسکتا۔

ساجد سہیل، ڈیرہ اسماعیل خان:
یہ جو کچھ ہوا افسوسناک تو ہے ہی لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورنمنٹ کی ساری کوششیں جو اس نے اعتدال پسندی کو فروغ دینے کے لئے کی وہ رائیگاں چلی گئیں؟

اشعر رضا خان، اسلام آباد:
جس نے بھی کیا یہ بہت بڑا ظالم ہے۔ پتہ نہیں بےچارے کدھر کدھر سے لوگ آئے ہوں گے حاضری کے لئے۔ ہماری حکومت اپنے کاموں میں الجھی ہوئی ہے۔ پبلک کی سکیورٹی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

مرزا طارق، گجر خان:
یہ واقعہ کافی افسوسناک ہے۔ ہم تمام رشتہ داروں کے لئے دعا کرتے ہیں جن کے لوگ اس حملے میں ہلاک ہوگئے۔

سلیم خان، اسلام آباد:
یہ پاکستان کے لئے ایک ٹریجڈی ہے۔ یہ واقعہ کافروں کا کام ہے۔ اللہ خودکش حملہ آوروں کو جہنم دے، پاکستان کرپٹ لیڈروں کے ہاتھوں میں ہے۔

انجم:
یہ سب انتظامیہ کی لاپرواہی ہے۔ کیپیٹل سٹی میں بم بلاسٹ پولیس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

عاصم سعید، لاہور:
یہ سارا کام جینوسائیڈ کا ہے۔ کیوں کہ آج اسلام آباد میں قرآن کریم کی بےحرمتی کے خلاف مظاہرہ تھا، لوگوں کی توجہ اور شرکت کم کرنے کے لئے حکومت نے یہ سارا کام کروایا ہے۔ کوئی مسلمان مزار پر ایسی حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

سید رحمان، کینیڈا:
مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا۔ اور ہم مزار بناتے ہی کیوں ہیں؟ ہمارے مذہب میں اس کو بدعت کہا گیا ہے۔ بدعت حرام ہے۔

شاہین ملک، بیلجیئم:
صرف فرسٹریٹیڈ اور غیراخلاقی لوگ ایسا کررہے ہیں، جو خود کو ہلاک کررہے ہیں اور ہزاروں بےقصور پاکستانیوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ انہیں کیا ملے گا؟ تشدد مسئلے کا حل نہیں ہے، ڈائیلاگ ہے۔

محبوب عالم ملک، دریا خان:
حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، حالایت یہ ہیں کہ اسلام آباد جو وفاقی دارالحکومت ہے وہ بھی محفوظ نہیں۔ ایف بی آئی اور را کی کارروائی۔

محمد وزیر ملک، مانسہرہ:
سنی اور شیعہ کو لڑانے کی سازش ہے۔

عامر حسین، کراچی:
ان واقعات سے پاکستان میں سکیورٹی کی حقیقت کا اندازہ لگتا ہے۔ ایک طرف حکومت پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی تعریف کرتے نہیں تھکتی، اور دوسری طرف اپنے ہی لوگوں کو بنیادی سکیورٹی نہیں فراہم کرسکتی۔

اکرام، یو کے:
اگر لوگوں کو انصاف نہیں ملتا، تو پھر اس طرح کے حملے نہیں رک سکتے۔

شاہد اے علی، سویڈین:
کم سے کم وزیر برائے مذہبی امور کو استعفیٰ دینا چاہئے کیوں کہ وہ اس طرح کے حملے روکنے میں ناکام رہے۔

66سیالکوٹ میں دھماکہ
آخر کب تک یہ ہوتا رہے گا؟ آپ کی رائے
66سیالکوٹ کے بعد ملتان
ایک ہفتے میں دوسرا دھماکہ، آپ کا ردِّعمل
66ملتان دھماکےکا حال
’ہم رو رہے تھےاور لاشیں اٹھا رہے تھے‘
66آپ کی رائے
کراچی کی مسجدِ حیدری میں بم دھماکہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد