BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملتان دھماکہ: آپ کا ردِّ عمل
ملتان دھماکہ
ملتان دھماکہ
ملتان میں ہونے والے بم دھماکے میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور سو سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔ یہ دھماکہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما مولانا اعظم طارق کی پہلی برسی پر اجتماع کے فوراً بعد ہوا۔

ملتان کے بازار بند ہیں اور شہر میں امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صرف ایک ہفتے کے دوران ایک مذہبی اجتماع پر ہونے والا یہ دوسرا دھماکہ ہے جس میں مخالف فرقوں کو باری باری نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپ کا اس واقعے پر کیا ردِّ عمل ہے؟ کیا یہ واقعہ سیالکوٹ کا ردِّعمل ہے یا اسے یہ رخ دینے کی کوشش کی گئی ہے؟ کیا ایک عام پاکستانی فرقہ پرستی پر یقین رکھتا ہے؟ کیا بیس سال پہلے اور اب اس میں کوئی فرق آیا ہے؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

شرمین بلوچ، حیدرآباد، پاکستان:
ہماری حکومت نے عوام میں جو بےحسی پیدا کرنے کی کوشش شروع کی ہے، اس میں وہ کامیاب جارہی ہے۔ ایسے واقعات روز ہوں گے تو کون روز اپنے آنسو بہائے گا۔ ہم کس کو الزام دیں اور کس کو روئیں گے؟

حکومت کو مبارک باد
 اب بہت کم لوگ وانا کے متعلق سوچ رہے ہیں، حکومت کو مسئلے کا حل ڈھونڈنے پر مبارکباد۔
عبدل میر، امریکہ

سرفراز ملک، اسلام آباد، پاکستان:
میں صرف محمد زاہد خان جیسے دوستوں کو یہ کہنا چاہتا کہ براہِ مہربانی اپنی آنکھیں کھولیں اور ہر دہشت گرد کارروائی کو امریکہ سے جوڑنا چھوڑ دیں۔ ہم اگر اس حقیقت سے نظریں چراتے رہیں گے کہ ہمارے ہی لوگ ایک دوسرے کو مسجدوں میں مار رہے ہیں تو کہیں نہیں پہنچیں گے۔ ہم اپنے ہر بحران کو بش اور بلیئر پر ڈال کر آسان ترین راستے سے فرار حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ ہوسکتا ہے کہ غلط کر رہے ہوں لیکن اپنے معاشرے کی غلطیوں کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہم خود ہیں۔

عبدل میر، امریکہ:
اب بہت کم لوگ وانا کے متعلق سوچ رہے ہیں، حکومت کو مسئلے کا حل ڈھونڈنے پر مبارکباد۔

محمد ممتاز، اسلام آباد، پاکستاان
یہ دہشت گردی نہیں بلکہہ سب حکومت کا کیا دھرا ہے۔

عدیل بلال، ملتان، پاکستان:
جس ملک میں پچاس سال گزرنے کے باوجود آج تک کوئی گلیوں کی گندگی کا بندوبست نہیں کرسکا وہاں دہشت گردی کا کیا بندوبست ہوگا۔

شاہد اقبال، ملتان، پاکستان:
اگر اسی طرح کے حالات رہے تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔

ایم ابرار کمبوہ، دریا خان، پاکستان:
اس واقعے کو واقعی سیالکوٹ کا ردِّعمل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ یہ فرقہ پرست نہیں ہے۔

معظم شہزاد، سیئول، کوریا:
مشرف صاحب نے عوام کو بم دھماکوں کے پیچھے لگا کر خاموشی سے اپنی وردی اور صدارت کا بل پارلیمنٹ میں جمع کروادیا۔ واہ مشرف صاحب واہ۔

محمد زاہد خان، لاہور، پاکستان:
یہ حکومت کی اپنی کاروائی ہے تا کہ مختلف فرقوں کے لوگوں کو آپس میں لڑا کر مذہبی جماعتوں پر پابندی لگانے کا جواز نکالا جا سکے۔

آصف ججہ، ٹورانٹو، پاکستان:
میں پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ مذہبی فرقہ بندی کی جو فصل انہوں نے اسًی کی دھائی میں بوئی تھی اس نے پھل دینا شروع کر دیا ہے۔

 اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ان واقعات کی صحیح تفتیش کی جائے اور اصل مجرموں کو سامنے لایا جائے تا کہ کوئی بھی لوگوں کو بےوقوف نہ بنا سکے۔
تیمور خان، کراچی، پاکستان

آصف محمود کمبوہ،پاکستان:
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ حکومت اس سانحہ کی ذمہ داری نہیں لے گی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان کی حکومت بہت کامیاب ہے۔ حکومت اور ملاء حضرات اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

تیمور خان، کراچی، پاکستان:
اس سانحہ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ اس کو سیالکوٹ کے سانحہ کا رد عمل کہہ رہے ہیں۔ اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ان واقعات کی صحیح تفتیش کی جائے اور اصل مجرموں کو سامنے لایا جائے تا کہ کوئی بھی لوگوں کو بےوقوف نہ بنا سکے۔

قیصر، بیجنگ، چین:
جس ملک میں کسی کو ’السلام و علیکم` لکھنے اور کہنے پر سزا ہو سکتی ہے وہاں یہی کچھ ہوتا ہے۔

ارشد رفاقت، لاہور، پاکستان:
ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور ملک کا سیاسی نظام اس قسم کے واقعات کے اصل اسباب ہیں۔

آصف، ایبٹ آباد، پاکستان:
مشرف صاحب کو امریکہ کے حج سے فرصت ہو تو وہ پاکستان کے بارے میں سوچیں۔

حبیب نوید، کراچی، پاکستان:
ہماری ایجنستاں کام نہیں کر رہیں۔ یہ قطعاً فرقہ وارایت کا واقعہ نہیں ہے ۔ یہ صرف اور صرف حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ہوا ہے۔

اسلام اور دہشتگردی
 یہ بہت دکھ کی بات ہے، جو ملک اسلامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ اسی لیے میں پاکستان کو اسلامی ملک نہیں مانتا کیونکہ اسلام میں دفاع کرنے کا حکم تو ہے مگر حملہ کرنے کا نہیں۔
امتیاز عالم، رحمٰن پور، انڈیا

تنویر کاظمی، اسلام آباد، پاکستان:
سیدھی سی بات ہے، یہ سب اسلام دشمن عناصر کروا رہے ہیں اور اس میں حکومت پوری طرح ملوث ہے۔کوئی بھی فرقہ دوسرے فرقہ کے خلاف اس قسم کی حرکت نہیں کرسکتا۔

شہزاد ملتانی، ملتان، پاکستان:
ملتان جو کہ اولیاء کا شہر کہلاتا ہے اب وہ بھی دہشت گردی سے پاک نہیں رہا۔ حکومت کو چاہیےکہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرے۔

الطاف قریشی،برطانیہ:
ظاہر ہے جب مسلمانوں کودہشت گرد ثابت کرنا ہے تو اس قسم کے واقعات تو کرانے ہوں گے۔ یہ سب اسلام کے دشمنوں کا کیا دھرا ہے۔

امتیاز عالم، رحمٰن پور، انڈیا:
یہ بہت دکھ کی بات ہے، جو ملک اسلامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ اسی لیے میں پاکستان کو اسلامی ملک نہیں مانتا کیونکہ اسلام میں دفاع کرنے کا حکم تو ہے مگر حملہ کرنے کا نہیں۔

محمد اسماعیل شیخ، ٹوکیو، جاپان:
وزیر اعظم پاکستان نے ہر ھلاک ہونے والےفرد کے ورثاء کو پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہی ایک کروڑ پچانوے لاکھ روپے اس شہر میں سیکیورٹی کو بہتر بنانے میں لگائے ہوتے تو شاید یہ واقعہ ہوتا ہی نہ۔ لیکن حکومت کو کیا۔ ان کے لیے تو یہ مسئلہ زیادہ اہم ہے کہ وردی اتارنی ہے یا پہنے رکھنی ہے۔

عنبرین چنا، لندن، برطانیہ:
یہ دھماکے مشرف صاحب کے لیے بہترین بہانہ ہیں اپنے اقتدار کو تول دینےکا اس لیے مجھے یقین ہے کہ ان کے پیچھے ان کی اپنی حکومت کا ہاتھ ہے۔

عبدالمنیب،جرمنی:
کیا ہم نے اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی فرقہ واریت کی اس آگ کو کبھی بجھانے کی کوشش کی ہے؟

اظہر بیگ مرزا، جاپان:
سیالکوٹ اور ملتان کے دھماکوں کی خبریں دیکھ کر میرے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کیا انسان اس قدر ظالم بھی ہو سکتے ہیں۔

اسد کیانی، امریکہ:
یہ ہمارے معاشرے میں پھیلائی جانے والی نفرت کا نتیجہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نفرت کی تبلیغ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں چاہے ان کی نفرت کا نشانہ ہمارے بدترین مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ دو دہائیوں تک ہمیں نفرت کی سیاست سکھائی گئی ہے، اسے جاتے جاتے وقت تو لگےگا۔ اگر ہم اب بھی بیرونی طاقتوں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے رہے تو شاید کبھی بھی اپنے حالات ٹھیک نہ کر سکیں گے۔

محمد فاروق، ملتان، پاکستان:
اگر فرقہ واریت کی لہر پر قابو نہ پایا گیا تو ہم امن اور ایمان کی جنگ ہار جائیں گے۔ ہم جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ ہمارہ انجام زیادہ دور نہیں۔
سرفراز ملک، اسلام آباد، پاکستان:
اس مسئلہ کا واحد حل ملائیت اور انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ نام نہاد ملاؤں نے ہماری تہذیب کا ستیاناس کر دیا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو ہوا دی ہے۔ میری صدر مشرف سے گذارش ہے کہ مسجدوں میں بیٹھے ہوئے ایسے جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کریں۔

کامران چنگوانی، پاکستان:
جب حکومت کو معلوم تھا کہ لوگ سیالکوٹ کے واقعہ کے بعد شدید غصہ میں ہیں تو ملتان کے جلسے کے لیےضروری حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیےگئے؟

غلام فرید کھرل، ملتان، پاکستان :
یہ حکومت کا کیا ہوا ہے، یہ پارٹی بازی ہے اوراصل معاملات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا بہانہ ہے۔

ثمینہ اختر، بلمونٹ ڈرائیو، امریکہ:
میرا دل پھٹ رہا ہے، میری آنکھیں اشک بار ہیں اور مجھے اپنی حکومت پر شدید غصہ آ رہا ہے جو اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ یہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جانوں کی حفاظت کرے۔

محمد ایاز، ٹیکسلا، پاکستان:
انسان نہیں یہ شیطان ہیں۔ یہ سب نتیجہ ہے اس نفرت کا جس کا پرچار دونوں فرقوں کے رہنما کرتے نہیں تھکتے۔

رانا عبدالقیوم، ملتان، پاکستان:
یہ اور سیالکوٹ کا سانحہ، دونوں حکومت مخالف لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ ایسے لوگ دہشت گردی پھیلا کر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ حکومت اس دباؤ میں نہیں آئے گی۔

جاویداقبال بٹ، مدینہ منورہ، سعودی عرب:
میرا خیال ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دشمن اس سے پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ دہشت گردی پھیلا کر پاکستان کو بدنام کیا جائے۔

محمد عابد بھٹی، حیدر آباد، پاکستان:
اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔ یہ پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ اس قسم کے واقعات سے ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ افغانستان اور عراق کے بعد پاکستان کا نمبر لگایاجا سکے۔

ظفراللہ شیخ، کراچی، پاکستان:
دہشت گردی کے خلاف اتحادی ملک ہونے کے باوجود ہمارے اپنے شہروں میں معصوم لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے اتحادی بننے کی بجائے پاکستان کی محبِ وطن جماعتوں کے اتحادی بن کر ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ کریں۔

ڈاکٹر الطاف حسین، پرما، اٹلی:
یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ یہ حق صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں صوفی روایات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نفرت کی یہ آگ سلطان باہو، داتا گنج بخش، سچل سرمست، وارث شاہ، شاہ لطیف بھٹائی اور بابا بلھےشاہ جیسے صوفیاء ہی بجھا سکتے ہیں کوئی دوسری جماعت نہیں۔

عطاءالرحمٰن، کراچی، پاکستان:
یہ صرف اورصرف مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی انتہائی گھناؤنی سازش ہے۔ معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی اس کو فرقہ وارانہ فساد نہیں کہہ سکتا۔

عمیر حسین، پشاور، پاکستان:
یہ سوائے منافرت پھیلانے کی ایک کوشش کے کچھ اور نہیں۔ دھماکہ کرنے والے لوگ پاکستانی نہیں ہو سکتے لیکن یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ شاید معلوم ہے اور ہم خود ہی آنکھیں چرا رہے ہیں۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔

کیا کہوں؟
 میں یہ کس کے نام لکھوں جو عالم گزر رہے ہیں،میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں
عفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا

کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا:
اس ظلم میں ہماری حکومت برابر کی شریک ہے۔ فرقہ پرستی کی یہ آگ ہماری حکومت کی ہی لگائی ہوئی ہے ۔ آئینی سطح پر لوگوں کو غیر مسلم قرار دینے کا آغاز تو حکومت کا ہی کیا ہوا ہے۔ اب حکومت سر پر ہاتھ رکھ کر کیوں رو رہی ہے، اپنے کیے کاانجام تو بھگتنا پڑے گا۔

احتشام فیصل چودھری، شارجہ، متحدہ عرب امارات:
یہ دہشت گردی کی ایک بدترین مثال ہے۔ چونکہ یہ ایک خود کش حملہ نہیں تھا اس لیے یہ کہنا کہ یہ سیالکوٹ کے سانحہ کا ردعمل ہے بالکل غلط ہے۔یہ دونوں سانحے کسی بیرونی ہاتھ کی کارستانی ہی ہوسکتی ہے۔

یاسر، میرپور، پاکستان:
یہ ہمارے سیکیورٹی کے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس کا سیالکوٹ کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ کسی تیسرے فریق کی سازش ہے جو پاکستان کو پر امن نہیں دیکھنا چاہتا۔ سیالکوٹ میں سنی لوگ بھی زخمیوں کی مدد میں شامل رہے ہیں، اسی طرح ملتان میں یقیناً شیعہ لوگ بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہوں گے۔ مجھے تو ان دونوں واقعات میں کہیں عمل یا ردعمل دکھائی نہیں دیتا۔

نام نہاد دوست
 حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے نام نہاد ’دوست‘ بھی اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر سکتے ہیں تا کہ اسے جھوٹ پر مبنی عالمی جنگ میں ساتھ رکھا جا سکے۔
سلیم نواز، خوشاب، پاکستان

ظل ہما، شہدادپور، پاکستان :
جناب کل ہی خبر پڑھی تھی توہینِ رسالت کے بارے میں اور آج میں اس کشمکش میں ہوں کہ توہینِ رسالت کیا ہے؟ یہ جو آج ہوا ہے وہ یا کسی کا اسلام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا؟ شاید آپ بی بی سی والوں کو پتا ہو۔ اگر ہے تو براہِ کرم مجھے بھی بتا دیں۔

سلیم نواز، خوشاب، پاکستان:
حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے نام نہاد ’دوست‘ بھی اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر سکتے ہیں تا کہ اسے جھوٹ پر مبنی عالمی جنگ میں ساتھ رکھا جا سکے۔

ملیحہ امبر، ربوہ، پاکستان:
بہت دکھ کی بات ہے مگر کہتے ہیں ناں کہ انسان کو اس وقت تک پتا نہیں چلتا جب تک اس پر خود نہ گزرے۔ جب احمدیوں کے گھر جلائے جا رہے تھے تو کچھ لوگ واہ واہ کر رہے تھے۔ آج وہی تیر آپ کے سینے میں لگ رہا ہے تو ساری دنیا میں شور برپا ہے۔ کاش اب بھی ہمیں احساس ہو جائے اور ہم فرقہ بندی کی لعنت کو چھوڑ دیں۔

شیخ عبدالحنان، کراچی، پاکستان:
یہ بھی امریکہ کا ہی کارنامہ ہے۔ وہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان میں سنیوں اور شیعوں کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، اسی طرح کہ جیسے نجف میں دونوں مسلک کے لوگوں کو لڑانے کے کوشش کی گئی تھی۔

شاہ زیب، ربوہ، پاکستان:
بہت افسوس ہوا۔ مرنے اور مارنے والے دونوں ہی انسان تھے۔

وجیہہ قیوم، میپل، کینیڈا:
کہاں کا انسان اور کہاں کی انسانیت جناب۔ ہم سے اچھے تو یہودی ہیں، کم از کم وہ اپنے آپ کو تو نہیں مار رہے۔ ہمارے یہی حالات دیکھ کر تو اب غیر مسلمان ڈر رہے ہیں اسلام سے۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا:
میں کس کے نام لکھوں جو عالم گزر رہے ہیں، میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں ، کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر عظمی، ہمی قتل ہو رہے ہیں ہمی قتل کر رہے ہیں۔

ایمن سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا:
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانےمیں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد