 |  سیالکوٹ میں دھماکہ: آپ کی رائے |
جمعہ کو تقریباً ڈیڑھ بجے سیالکوٹ شہر میں شیعہ مسلک کی سب سے بڑی مسجد اور امام بارگاہ میں نماز جمعہ کےدوران میں دھماکے سے بیسیوں افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک خود کش دھماکہ ہو سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اس دھماکے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ پولیس کے مطابق لوگ پولیس کو امام بارگاہ کے اندر نہیں جانے دے رہے۔ کچھ لاشیں ابھی تک مسجد کے اندر موجود ہیں اور پولیس نے اس جگہ کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اس لیے مرنے والوں کی صحیح تعداد کا تعین نہیں ہورہا۔ آپ کا اس دھماکے کے بارے میں کیا ردِّ عمل ہے؟ آپ کے خیال میں اس کے ذمہ دار افراد کون ہوسکتے ہیں؟ آخر حکومت اس طرح کے واقعات کا خاتمہ کرنے میں ناکام کیوں ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی رائے نیچے درج ہے۔
علی رضا چودھری، اسلام آباد، پاکستان: حکومت کو لوگوں کو لوٹنے سی فرصت ملے گی تو وہ کچھ اور کرنے کا سوچے گی ناں۔ فرح انجم، فیصل آباد، پاکستان: یہ صرف مسلمانوں کو مسجدوں میں جانے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ مسمان نہیں ہیں کیونکہ ان کا مقصد مسجدوں کو ویران کرنا ہے۔ کنول زہرا، لاہور، پاکستان: حکومت نے جب بھی دہشت گردوں پہ ہاتھ ڈالا ہے ملکی حالات خراب ہوئے ہیں۔ اس دفعہ بھی جب القائدہ کے ایک لیڈر کو مارا گیا تو شیعوں کی بدبختی آ گئی۔ علی عمران شاہین، لاہور،پاکستان: پاکستان کی حکومت مسئلہ کا اصل حل تلاش نہیں کرتی، بس وہی کچھ کیا جاتا ہے جو امریکہ چاہتا ہے۔ یہ مذہبی دہشت گردی نئی نہیں، انڈین ایجنسیاں اور اس جیسے دوسرے ادارے اسے قسم کے کام کرتے رہتے ہیں تا کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا سکیں اور پاکستان کو کمزور کر سکیں۔ پاکستان کے ایسے دشمن موقع سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں جب کہ ہماری حکومت آنکھیں بند کر کے انڈیا سے مذاکرات کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ وجاہت معین، کراچی، پاکستان: اس سب کے پیچھے مذہبی جنونیوں کا ہاتھ ہے۔ ایسے لوگ جہاد کے فلسفہ کو بھی بگاڑ کر پیش کر رہے اور یہ لوگ امریکہ کی ایماء پر ایسا کر رہے ہیں۔ پہلے اسامہ کو استعمال کیا گیا اسلام کو بدنام کرنے کے لیے۔ مشرف نے ان لوگوں کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے جو کہ بہت حوصلہ افزا بات ہے۔ رملہ حسن، برطانیہ: سب سے پہلے ہم شہید ہونے والوں کے اہلِ خاہہ سے اظہار افسوس کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں محفوظ نہیں ہیں۔  | مذہبی علماء؟  یہ سب ہمارے غیرتعلیم یافتہ مذہبی علماء کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔  مقصود مغل، کویت |
مقصود مغل، کویت: یہ سب ہمارے غیرتعلیم یافتہ مذہبی علماء کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ یہ لوگ امن و سلامتی کا کبھی بھی پرچار نہیں کرتے اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بےگناہ لوگوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر ان کے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ شیخ ندیم علی، سیالکوٹ: یہ کسی مسلمان کا نہیں بلکہ بیرونی قوت کا کام ہے جو مذہبی فرقہ واریت پھیلا کر اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہونا چاہتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مجرموں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزائیں دے۔ احمد اقبال، اٹلی: اس واقعہ کے پیچھے محض اسلام دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے جو ہمیں آپس میں لڑانا چاہتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے باہمی اختلافات ختم کریں۔ اگر بھارت کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تو آپس میں بات چیت کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔ ایم کے خان پٹھان، کراچی: جب حکومت جہادیوں کو پکڑنے کی بجائے بےگناہ لوگوں کو گرفتار کر کے القاعدہ سے تعلق کا الزام لگاتی ہے تو پھر یہی سب ہو گا۔۔۔ دھماکے ہوں گے وغیرہ۔ حکومت تو چاہتی ہی یہی ہے کہ اسلام کو ختم کیا جائے۔ قاسم، سیالکوٹ: یہ سنی اور شیعہ بھائیوں کو لڑانےکی سازش ہے۔ شیعہ اور سنی بھائیوں کو آپ میں اتحاد برقرار رکھنا چاہیے اور دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا دینا چاہیے۔ چوہدری محمد شفیق، شیخوپورہ: بلا شبہ ایف بی آئی اور سی آئی اے کی سازش ہے اور یہی عناصر اس واقعہ کے پیچھے کارفرما ہیں کیونکہ اس کا تمام تر فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو پہنچے گا۔ لیکن ہمارے کٹھ پتلی حکمران اصل حقائق کی بات نہیں کرنا چاہتے۔ وہ تمام تر الزام انتہا پسندوں پر ڈال دیں گے۔ ہمارے حکمران محض امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ محمد سعید، کویت: پاکستان جل رہا ہے اور مشرف سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ محمد پاشا، فیصل آباد: یہ غیرمسلموں کا کام ہے کیونکہ یہ کسی مسلمان کا فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ عبدالاسلام بیتاب، کوٹ عادل بنوں: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ را کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ کلیم اللہ آغا کلیم، کوئٹہ: ایسے واقعات کے نتیجے میں مذہبی فرقوں کو آپس میں لڑوا کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فیصل ندیم، رحیم یار خان: حکومت کو چاہیے تھا کہ تمام مساجد اور امام بارگاہوں پر حفاظتی انتظامات کر کے رکھے۔ حکومت کو اب بھی کچھ سوچنا ہو گا۔ اس کے علاوہ لوگ بھی احتیاط نہیں کرتے اور ہر آنے جانے والے پر نظر نہیں رکھتے۔ اس معاملے میں عوام اور حکومت دونوں کو ساتھ ساتھ چلنا ہو گا۔ شمس کشمیری، کشمیر: یہ کوئی عجیب اور نئی بات نہیں ہے۔ یہ اسلام اور کفار کی جنگ ہے جو چودہ سو سال سے چل رہی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود اس پر کافروں کا قبضہ ہے اور یہی کافر ہمارے ملک میں رہتے ہوئے ہمارے علماء کے قاتل ہیں۔ شہاب خان، پشاور: یہ القاعدہ کے جنونی ہیں جو پاکستان میں سرگرم ہیں۔ صدر مشرف کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے جذبات سے نہ کھیلیں۔ مولانا فضل الرحمٰن اور سمیع الحق القاعدہ کی کارروائیوں کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں۔ اگر حکومت سچے دل سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے تو اسے ملاؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرنا ہو گا۔ سید عبدالحسین، کراچی: حکومت اس واقعہ کی ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے اور دہشتگردانہ واقعات کے خلاف بروقت اقدامات کرنے میں بھی ناکام رہی۔ شیعہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں کسی شخص کو بھی سزا نہیں دی گئی ہے۔ محمد فیصل، رحیم یار خان: مل کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو مذہبی منفرت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہر طرح سے بیرونی سازش ہے جس کا بروقت پتا لگانا ضروری ہے تاکہ ہم بلاوجہ آپس میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائیں۔ زین جعفری، لاہور: پاکستان ایک مسلمان ملک ہے اور یہ انتہائی شرمناک بات ہےکہ اب لوگ مساجد میں بھی محفوظ نہیں رہے۔ ایسے لوگوں کا قلع قمع کرنا ہو گا جو اسلام کے نام پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ شہلا سہیل، ٹورنٹو، کینیڈا: یہ انتہائی افسوس ناک سانحہ ہے۔ میرا دل کر رہا ہے کہ ان سب جہادیوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کر کے بم سے اڑا دوں۔ پہلے انسان تو بن جاؤ، جہاد بعد میں کر لینا۔ ڈاکٹر نجیب انجم چیمہ، فیصل آباد، پاکستان: وانہ آپریشن کی ذمہ داری شیعہ ازم پر نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ ہی اس واقعہ کو وانہ آپریشن کا بدلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس دہشت گردی، بربریت اور حیوانیت کی ذمہ داری ہماری آپس کی بے بنیاد عداوت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے ٹھیکے دار اپنے نظریات سرٹیفکیٹس کی شکل میں بیچنے کی بجائے حقیقی اسلامی نظریات کے فروغ کے لیے کام کریں جو سراسر اخوت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ احمد نواز نقوی، کراچی، پاکستان: یہ لوگ شیعہ کو نہیں مارتے بلکہ نمازیوں کو مارتے ہیں، سوچنا یہ چاہیے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ کہیں یہ گورنمنٹ کے اندر کے لوگ تو نہیں؟ سید شاداب، کینیڈا: مساجد اور امام بارگاہوں پر مسلسل دھماکے حکومتی ایجنسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انکی پکڑ ہونی چاہیے۔ عمران شاہد، بریڈ فورڈ، برطانیہ: یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ موجودہ حالات میں نہ شیعہ کسی سنی کے خلاف ہیں اور نہ ہی سنی شیعہ کے خلاف ہیں۔ یہ دشمن کی سازش ہے۔ وہ شیعہ سنی اتحاد کو پارہ پارہ کرکے اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔ محمد شاہد عمر، راولپنڈی: حکومت کو اس اس سانحے میں میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ آصف محمود کمبوہ، پاکستان: میرے خیال میں یہ سانحہ حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ صدر مشرف کو فوری طور پر استعفی دے دینا چاہیے۔ حفیظ اللہ خان، بنوں، پاکستان: یہ سب شیعہ سنی فسادات پھیلانے کی کوشش ہے۔ کوئی مسلمان اس طرح کی حرکت نہیں کر سکتا۔ یہ سرحد پار کے خفیہ اداروں کے کارستانی معلوم ہوتی ہے تاکہ الزام وانہ کے عوام پر لگایا جا سکے اور افواج پاکستان کو وہاں کے باشندوں سے لڑوایا جا سکے۔ افتخار رانا، دبئی: یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ ظالموں نے مسجد میں غریب اور نیک لوگوں کو قتل کر کے بہت ظلم کیا ہے۔ عبدل نور، کینیڈا: اس سانحے کی وجہ امن و امان کے بارے میں قانوں پر سختی سے عملدرآمد میں ناکامی اور عوام میں آگہی کی کمی ہے۔  | سانحے کی وجہ  اس سانحے کی وجہ امن و امان کے بارے میں قانوں پر سختی سے عملدرآمد میں ناکامی اور عوام میں آگہی کی کمی ہے۔  عبدل نور، کینیڈا |
سید امجد حسین، پاکستان: حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ حکومت دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں۔ محمد فیاض مغل، امریکہ: جو کچھ ہوا بہت برا ہوا لیکن اس واقع کی ذمہ دار حکومت وقت ہے۔ سونیلہ امجد، سپین: یہ کیسے لوگ ہیں جن کو کوئی خوف خدا بھی نہیں ۔ کوئی انسان تو ایسی حرکت کر ہی نہیں سکتا۔ فرمان چوہدری، سیالکوٹ، پاکستان: سیالکوٹ کا واقعہ کھلی دہشت گردی ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ معصوم شہریوں کا قتل عام آخر کب تک چلتا رہے گا؟ دو تین دن تک سب بیان بازی کریں گے اور اس کے بعد یہ کیس فائلوں میں بند ہو جائے گا۔ رضوان، سیالکوٹ: سیالکوٹ کا سانحہ پاکستان اور اسلام کے نام پر بدنما دھبہ ہے۔  | بدنما دھبہ  سیالکوٹ کا سانحہ پاکستان اور اسلام کے نام پر بدنما دھبہ ہے۔  رضوان، سیالکوٹ |
آل رضا، امریکہ: یہ کام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔ میری نظر میں ہر دہشت گرد جانور سے بدتر ہے۔ عمر عنایت، لاہور، پاکستان: اس حملے کے اصل ذمہ دار امریکہ اور حکومتِ پاکستان ہیں مگر اب ہو گا یہ کہ امجد فاروقی جیسے مسلمانوں کو پکڑا جائےگا اور الزام ان کےاوپر لگا دیا جائےگا۔ ارشد میر، راولپنڈی، پاکستان: ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ کوئی بھی مسلمان اس کام کی مذمت کیے بغیر نہیں رہ سکتا چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو۔
 | پندرہ سال پہلے کی تربیت  ان دہشت گردوں کوحکومت نے ہی پندرہ سال پہلے جنگ کی تربیت دی تھی اور تب سے ان لوگوں نے پاکستان کو جہنم بنا رکھا ہے۔  حیدر علوی، کینیڈا |
حیدر علوی، کینیڈا: مسجد پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے۔ ان دہشت گردوں کوحکومت نے ہی پندرہ سال پہلے جنگ کی تربیت دی تھی اور تب سے ان لوگوں نے پاکستان کو جہنم بنا رکھا ہے۔ اللہ ایسی تمام طاقتوں کو نیست و نابود کرے۔وقار عباسی، پاکستان: جو بھی ہوا بہت افسوس ناک ہوا ہے اور اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پولیس کیا کرے جب لوگ بم لے کر مسجدوں میں گھس آئیں۔ عرفان عنایت، سیالکوٹ، پاکستان: جس کسی نے بھی ایسا کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کے دھماکوں اور خودکش حملوں کا مقصد صرف اسلام کو بدنام کرنا ہے اور کچھ نہیں۔ ابرارحسین، گجرات، پاکستان: جب کوئی انسان قتل وغارت کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ انسان نہیں رہا بلکہ حیوان بن گیا ہے۔ لیکن حیوانوں نے تو کبھی ایسا نہیں کیا۔ محمد رؤف نواز، دریا خان، پاکستان: میرے خیال میں پاکستان کے لیے یہ امتحان کی گھڑی ہے اور ہم اس امتحان میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اللہ تمام شہداء کے درجات بلند کرے اور ان کے عزیزوں کو صبر عطا کرے۔ قاضی خدا بخش، امریکہ: ابھی تک کراچی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کی وارداتوں کا کچھ پتا نہیں چلااور اب یہافسوسناک خبر سننے کو ملی ہے۔ لگتا ہے ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق ہی بھلا دو۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: آپ کیا بات کرتے ہیں؟ جس ملک میں صدر اور وزیراعظم محفوظ نہیں وہاں مسجدیں اور امام بارگاہیں کس طرح محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اجمل عثمانی، ٹورانٹو، کینیڈا: یہ سب ہمارے حکومتی ٹولے کا کِیا دھرا ہے تا کہ مذہبی جماعتوں کو بدنام کیا جا سکے۔ ڈاکٹر طارق بٹ، دمام، سعدی عرب: یہ بلاشبہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ ان پڑھ لوگ اسلام کو نہیں سمجھتے۔ اسلام میں کہاں کہا گیا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا جائز ہے؟ عطاءالقدوس، ٹورانٹو، کینیڈا: کم از کم کوئی مسلمان یہ حرکت نہیں کر سکتا۔ نجانے ہمارے مذہبی لیڈر کب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور سادہ دل جوانوں کو تشدد پر اکسانے سے پرہیز کریں گے؟  | خودکش جہنم  یہ کیسا جہاد ہے؟ اب تو خدا خود بھی ایسے جہادیوں کے لیے ایک خودکش جہنم بنانے کا سوچ رہاگا۔  وجیحہ قیوم، میپل، کینیڈا |
وجیحہ قیوم، میپل، کینیڈا: یہ کیسا جہاد ہے؟ اب تو خدا خود بھی ایسے جہادیوں کے لیے ایک خودکش جہنم بنانے کا سوچ رہاگا۔ عمران حیدر، لاہور، پاکستان: یہ ایک وحشیانہ حرکت ہے اور آپ کے دوسرے قارئین بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شاہد عزیز، سیالکوٹ، پاکستان: یہ ایک ایسی سازش ہے جس کے ذریعے مختلف فرقے کے لوگوں کو لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سازش میں غیر ملکی ہاتھ ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ عبداللہ مہرو خیل، سوات، پاکستان: اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ اظہرسہیل، ٹورانٹو، کینیڈا: اب ان کو خدا ہی اپنے قہر سے سمجھائے۔ یہ وحشی لوگ خدا کی مخلوق پر ظلم کرکے کس مذہب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اجمل بٹ، سیالکوٹ، پاکستان: یہ تمام مسلمانوں کے لیے باعثِ شرم ہے۔ ایمن سہیل، ٹورنٹو، کینیڈا: مقدس مقامات پر خون خرابہ انتہائی وحشیانہ عمل ہے۔ لگتا ہے مذہب دنیا سے اٹھ چکا۔ عفاف اظہر، کینیڈا: یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے۔ نجانے ہمارے مذہب کے ٹھیکیداروں کو یہ کب سمجھ آئے گی کہ ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘۔ حسین ظفر، مظفرگڑھ، پاکستان: یہ وانا آپریشن کا ردِّعمل ہے۔ ابھی تک دہشت گردوں کا نیٹ ورک نہیں ٹوٹا۔ ہمیشہ بدلہ شیعہ سے ہی لیا جاتا ہے۔ محمد سبطین، خوشاب، پاکستان: پورے ملک میں القاعدہ کی مددگار تنظیمیں حکومت کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کی کاروائیاں کر رہی ہیں۔ علی ملک، سیالکوٹ، پاکستان: مجھے حکومت سے نفرت ہے۔ سعید انور، کراچی، پاکستان: یہ حکومت کا اپنا کام ہے جو ایجنسیوں کے ذریعے وزیرستان آپریشن کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔ عارف کسانہ، سٹاک ہوم، سویڈن: قطع نظر اپنے فرقے کے تمام مسلمان اسے دہشت گردی ہی کہیں گے۔ اس واقعے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امنِ عامہ برقرار رکھنے میں ناکام ہے۔ ندیم ملک، پیرس، فرانس: مرنے والے تو مر گئے، الزام القاعدہ پر لگایا جائے گا۔  | وہی قاتل، وہی محافظ۔  یہ ایک کاروبار ہے جو حیوان نما انسان کر رہے ہیں۔ لگتا ہے سیکیورٹی ایجنسیاں اپنی نوکریاں پکی کرہی ہیں۔  جواد، جاپان |
جواد، جاپان: یہ ایک کاروبار ہے جو حیوان نما انسان کر رہے ہیں۔ لگتا ہے سیکیورٹی ایجنسیاں اپنی نوکریاں پکی کرہی ہیں۔ لگتا ہے کہ وہی قاتل ہیں وہی محافظ۔ جہاں تک حکومت کی کامیابی کا تعلق ہے وہ تو ناممکن نظر آتی ہے۔ کیونکہ حکومت اپنے حفاظتی اداروں میں ایسے ہی لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے جو اس کام کو آگے بڑھائیں۔عمران نقوی، مشیگن، امریکہ: وانا کے دہشت گرد کتنے طاقتور ہیں، اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے۔ |