BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی
News image
پاکستان میں ملتان پولیس نے اڑتیس پیش اماموں کے خلاف لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کر لیے ہیں جبکہ پانچ کو حراست میں لے لیا ہے۔

ان علماء پر الزام ہے کہ انہوں نے نماز جمعہ میں اذان اور خطبہ کے علاوہ لاؤڈ سپیکر پر تقاریر بھی کیں۔

پاکستان میں مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال اکثر موضوعِ بحث رہا ہے۔ اس کے استعمال کے خلاف ایک دلیل یہ بھی دی جاتی رہی ہے کہ اسے مختلف فرقوں کے امام ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

کیا آپ کی رائے میں مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا بلاوجہ استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا آپ لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے قانون سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا اس قانون پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہئے؟ آپ کی رائے

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

قاری ایم انور رحمانی، سیالکوٹ:

مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس کے ذریعے قرآن اور حدیث کی باتیں بتائی جاتی ہیں۔اور اذان دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ گھروں میں عورتیں ہوتی ہیں جو اذان کی آواز سن کر نماز ادا کرتی ہیں۔ جو لوگ اسے بند کرانا چاہتے ہیں میرے خیال میں وہ مسلمان نہیں۔

علی عمران شاہین، لاہور:
اگر پابندی لگانا اتنی اچھی بات ہے تو پھر بازاروں میں اور گاڑیوں میں بجنے والی موسیقی پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔خاص طور پر ان وڈیوز پر جو قانونًا منع ہیں مگر ہر جگہ دستیاب ہیں۔ حکومت بس مغرب اور امریکہ کے اشارے پر ناچتی ہے۔ یہ بہت افسوس کا مقام ہے۔

شباب خان، پارہ چنار:
اکثر ’جنونی مولوی‘ جمعہ کے خطبے میں اسلام کی تعلیمات کی بجائے اپنے ذاتی خیالات کا وعظ دیتے ہیں۔ وہ صرف ان لاؤڈ سپیکروں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کو انہیں روکنا چاہیے اور خلاف ورزی کرنے والے کو جیل میں ڈال دینا چاہیے کیونکہ اسلام ہمیں دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگ اپنے مخالفین کو کافر قرار دے دیتے ہیں۔

صالح محمد، راوالپنڈی، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ لاؤڈ سپیکر کا جتنا غلط استعمال پاکستان میں ہوتا ہے دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔

شیر یار خان، سنگاپور:
لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہر عوامی برائی کے لئے بھی بند ہونا چاہئے جیسا کہ موسیقی کے پروگرام۔ سیاسی جلسہ جلوس وغیرہ۔ معاشرے کو جن جن چیزوں سے تکلیف پہنچے ان تمام برائیوں پر پابندی ہونی چاہئے۔

شاہزیم رجہ، کراچی:
میرے خیال میں یہ پابندی نہیں ہونی چاہئے۔

احمد صدیقی، کراچی:
عجیب بات ہے کہ بہت سے لوگ رات رات بھر موسیقی زور زور سے سنتے ہیں، اس پر تو حکومت کو تکلیف نہیں ہوتی۔

غالب بریالئی، کوئٹہ:
لاؤڈ سپیکر پر لگائی گئی پابندی پر سختی سے عمل ہونا چاہیے کیونکہ مذہبی پارٹیاں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلا رہی ہیں۔ مولوی حضرات نے مسجد کے تقدس کو پامال کیا ہوا ہے۔

صولت سلیم، لاہور:
میرے خیال میں لاؤڈ سپیکر پر صرف اذان دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔

محمد ارشد خان:
لاؤڈ سپیکر کا استعمال صرف اسی وقت بند ہو گا جب حکومت مساجد کی تعمیر خود کرائے گی۔

چوہدری ناصر، ٹوکیو:
مجھے اس فیصلے پر بہت خوشی ہے۔ میرے خیال میں اذان اور خطبہ کی آواز مسجد کے اندر ہی رہنی چاہیے۔

مسجد سے قربت مہنگی پڑتی ہے
 یہ ایک بڑا مسئلہ ہے خصوصاً جب آپ مسجد کے قریب رہتے ہوں۔ مولوی حضرات کو طالبعلموں کی فکر ہے نہ بیماروں کا خیال۔
نوید خان، ڈنمارک

نوید خان، ڈنمارک:
یہ ایک بڑا مسئلہ ہے خصوصاً جب آپ مسجد کے قریب رہتے ہوں۔ مولوی حضرات کو طالبعلموں کی فکر ہے نہ بیماروں کا خیال۔ میرے خیال میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال صرف اذان دینے یا ہنگامی صورت حال ہی میں کرنا چاہیے نہ کہ مسجد ے لیے فنڈ حاصل کرنے کے لیے۔

محمد علی میمن، ٹندو آدم:
لاؤڈ سپیکر پر پابندی تو ہونی چاہیے مگر ان لوگوں کے لیے جو اس سے مذہبی منافقت پھیلا رہے ہیں۔

اسرار اختر، کینیڈا:
تمام قوانین ہمارے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں اس لیے میرے خیال میں تمام قوانین کی پابندی ہونی چاہیے خصوصاً لاؤڈ سپیکر پر عائد کردہ پابندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

فیصل چانڈیو، حیدر آباد:
یہ درست ہے کہ ہمارے ملک میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال غلط کیا جاتا ہے لیکن یہ کہنا کہ اسے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بالکل غلط بات ہے۔

اشتیاق احمد، متحدہ عرب امارات:
حکومت نے جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے اور اسے اب پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اس سے پہلے بھی ایسے فیصلے کیے گئے لیکن مذہبی دباؤ کے باعث ان پر عمل نہ ہو سکا۔ لاؤڈ سپیکروں کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے صرف اذان دینے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

محمد نشاط کھوسو، نواب شاہ:
آج سپیکر پر پاندی عائد کی ہے کل اذان پر بھی پابندی لگانے کی بات ہو گی۔

عبداللہ:
سپیکر سے اگر نفرت پھیلتی ہے تو اسے بند کرنا صحیح ہے۔

راحت ملک، راولپنڈی:
بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ہمیں خانۂ خدا میں اسلام کی تبلیغ کا موقع نہیں مل رہا۔ اس کے پیچھے ہمارے مولوی حضرات کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ اپنی روٹی پکی کرنے کے لیے لوگوں کے جذبات کو ابھارتے ہیں اور سپیکروں پر سبزیوں کا اعلان تک کرتے ہیں۔

ثمینہ اختر، امریکہ:
اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسرے انسانوں کا احترام کرنا لازمی ہے۔ لاؤڈ سپیکر بہت سے بیمار لوگوں کے لیے دردِ سر بن جاتا ہے اس لیے میرے خیال میں اس کا بے جا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

امتیاز فریدی، دمام:
میرے خیال میں یہ فیصلہ بہت اچھا ہے۔ سعودی عرب میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال ممنوع ہے اور ایسا ہی ہونا بھی چاہیے۔ مولوی حضرات آجکل قرآن و حدیث کی بات کم اور اپنی زیادہ کرتے ہیں۔

چوہدری محمد ارشد انصاری، لاہور:
میں نئے فیصلے سے پوری طرح متفق ہوں۔ علماء سپیکر کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ البتہ حکومت کا حالیہ فیصلہ مسلمانوں میں تنازعات کا باعث بن سکتا ہے اس لیے یہ معاشرے کے لیے اچھا فیصلہ نہیں ہے۔

ساغر حسن:
ہر قسم کے مذہنی خطابات کے لیے سپیکر کا استعمال ممنوع ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں میڈیا مختلف طبقات میں نفرتیں بونے کا ذمہ دار ہے۔

عامر، ٹورانٹو:
مسجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال اچھی چیز ہے یا بری، اس کا انحصار لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر ہے۔ مساجد کے امام حضرات اس بات کی پرواہ ہی نہیں کرتے کہ کوئی پڑھ رہا ہے یا بیمار ہے۔

کاشف خان، ٹورانٹو:
میرے خیال میں ہر وہ شخص جس نے صحیح طور پر دین و دنیا کی تعلیم حاصل کی ہے، وہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی کے فیصلے کو درست ہی قرار دے گا۔ البتہ اذان اور خطبہ کے لیے لاؤڈ سپیکر کا استعمال درست ہے۔

عاطف جاوید، لاہور:
اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے کہ مولانا صاحب سپیکر کے بغیر اذان دے کر سمجھیں کہ اذان ہو گئی ہے اور اللہ کے ہاں بھی چلی گئی ہے۔

نظامانی:
میرے خیال میں یہ بہت ہی عمدہ فیصلہ ہے۔

محمد راشد مدانی، ٹندو آدم:
یہ پابندی ایک ظالمانہ اقدام ہے۔

یوسف شیخ، لندن:
میرے خیال میں مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دینی چاہیے کیونکہ بہت سے ملا حضرات اس کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔

عبدالعزیز خان:
میں لاؤڈ سپیکر پر اذان دیئے جانے پر پابندی کے فیصلے سے متفق ہوں۔

حنیف محمد، لسبیلہ، پاکستان:
لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال پر پابندی ہونی چاہیے۔ تقریباً نوے فیصد لاؤڈ سپیکرز ہر مسجد میں مخالف فرقوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس بارے میں حکومتی اقدامات بالکل بروقت ہیں اور ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

حفاظت علی شاہ کاظمی، فیصل آباد:
میری دعا ہے کہ اللہ تعالی وہ دن دکھائے جب کسی مسجد میں بھی سپیکر نہ ہو۔ اذان بھی موذن چھت پر کھڑا ہو کر دے۔ اس قانون سے تمام بنی نوع انسان کو سکون ملے گا۔

جمیل محمد، اٹلی:

درست اقدام
 لاؤڈ سپیکر کا استعمال بالکل بند ہونا چاہیے۔ اذان اور خطبہ بھی بغیر سپیکر کے ہو سکتا ہے۔ اس قانون پر بلا تفریق عمل ہونا چاہیے۔
جمیل محمد، اٹلی
لاؤڈ سپیکر کا استعمال بالکل بند ہونا چاہیے۔ اذان اور خطبہ بھی بغیر سپیکر کے ہو سکتا ہے۔ اس قانون پر بلا تفریق عمل ہونا چاہیے۔

سعید خٹک، نوشہرہ:
لاؤڈ سپیکر کا استعمال ممنوع قرار دینا نہایت غلط فیصلہ ہے اور مذہب کی آزادی پر کاری ضرب ہے۔ ہم لوگوں نے تو ویسے بھی کیبل اور انٹرنیٹ کی وجہ سے مسجد کی طرف جانا چھوڑ دیا ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے ذریعے وعظ کی آواز سن کر مسجد کی طرف جانے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی طرح پابندیاں لگتی رہیں تو ایک دن مسجد جانے کے لئے بھی پرمٹ کی ضرورت ہو گی۔

نعیم قریشی، پاکستان:
لاؤڈ سپیکر پر پابندی اچھا اقدام ہے کیونکہ کچھ لوگ اور گروہ اسے منفی طور پر استعمال کرتے ہیں اور زیادہ تر عام لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

نجیب الرحمن، کوریا:
میں اس پابندی کے حق میں ہوں۔ تقریر اگر موثر ہو تو لاؤڈ سپیکر کے بغیر بھی سنی جاتی ہے۔ دراصل زیادتی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ علماء بھی کئی بار حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اور قانون بھی۔ یہ سب یونہی چلتا رہے گا۔

طارق رانا، کینیڈا:
اس قانون پر سختی پر عمل ہونا چاہیے تاکہ علماء کی جہالت کا سدباب کیا جا سکے اور معاشرے کو صحیح معنوں میں اسلامی معاشرہ بنایا جا سکے۔

عاصم وحید، کینیڈا:
لاؤڈ سپیکر کا استعمال بالکل بند ہونا چاہیے اور مصر کی طرح اذان ریڈیو پر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلیوں میں کھلے عام موسیقی بجانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔

کاری ضرب
 لاؤڈ سپیکر کا استعمال ممنوع قرار دینا مذہب کی آزادی پر کاری ضرب ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے ذریعے وعظ کی آواز سن کر مسجد کی طرف جانے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی طرح پابندیاں لگتی رہیں تو ایک دن مسجد جانے کے لئے بھی پرمٹ کی ضرورت ہو گی۔
سعید خٹک، نوشہرہ

صفدر رانا، سیالکوٹ:
لاؤڈ سپیکر کا ہونا ضروری ہے تاکہ گھر گھر اذان اور جمعہ کا خطبہ سنا جا سکے۔ اس طرح شاید کوئی اچھی بات کسی کے کان میں پڑ جائے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہر آدمی مسجد نہیں جاتا۔

حیدر، پاکستان:
اس قانون کا اطلاق صرف مسجدوں تک نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف پاپ سنگرز کھلے عام موسیقی بجاتے ہیں اور نوجوان نسل کو خراب کرتے ہیں۔ اس کا موثر تدارک بھی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

عمران سیال، کراچی:
مسجدوں میں لگے لاؤڈ سپیکروں سے کوئی بھی غلط کام نہیں ہو رہا ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر پابندی ایک بیہودہ اقدام ہے جس سے کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مسجد میں لاؤڈ سپیکر سے عورتوں کو خطبہ سننے میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ وہ مسجد میں نہیں آسکتیں۔

اصغر خان، چین:
یہ پابندی ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے مدد گار ثابت ہو گی۔

محمد صابر، سعودی عرب:
میں اس قانون سے پوری طرح متفق ہوں۔ لاؤڈ سپیکر کا استعمال جمعہ اور عید کی نماز کے علاوہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس پابندی سے لوگوں اور خاص طور پر مریضوں کو کافی فائدہ ہو گا۔ اس سے بجلی کی بھی بچت ہو گی۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد:
اس قانون پر عمل ہونا چاہیے کیونکہ مولوی حضرات لاؤڈ سپیکر کا استعمال خود نمائی کے لئے کرتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بجلی نہیں ہوتی تو یہ مولوی حضرات تقریر تو کیا، نماز کو بھی مختصر کر دیتے ہیں۔

فرقہ واریت
 یہ پابندی ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے مدد گار ثابت ہو گی۔
اصغر خان، چین

محمد عبیر خان، چترال:
مسجدوں میں لاؤڈ سپیکر کا زیادہ تر استعمال مذہبی پروپیگینڈے کے لیے ہوتا ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر اذان کے علاوہ پابندی ہونی چاہیے۔

عبدالجبار راؤ، پاکستان:
یہ بہت اچھا قانون ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے بے جا استعمال سے امام مسجد نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے خون خرابہ بھی ہوتا ہے۔

ظفر محمد خان، کینیڈا:
پاکستان جیسے ممالک میں لاؤڈ سپیکر کا مذہبی استعمال ایک روایت بن چکی ہے۔ اس پر پابندی ابہام اور گمراہی کا باعث بنے گی۔ نماز جمعہ کے وعظ، خطبہ اور صلوۃ و سلام کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی ایک بہت بڑا المیہ ہو گی۔

عمر فاروق، برطانیہ:
یہ ایک عمدہ قانون ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے بغیر زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔ ہمارے قصبے میں پچپن مسجدیں ہیں اور ہر نماز کے وقت اذانوں میں پینتالیس منٹ کا وقت لگتا ہے۔ نماز کے وقت صرف ایک مسجد سے اذان ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔

ظفر حسین، فیصل آباد:
مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر پابندی ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بسنت اور شادیوں پر لاؤڈ سپیکر کے بے جا استعمال پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔

امجد خان، سعودی عرب:
اگر ہم صحیح معنوں میں ایک اسلامی مملکت میں رہ رہے ہیں تو لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوری ملکوں میں بھی ہر شخص کو آزادی عمل ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد