عینی شاہد:’رو رہے تھے، لاشیں اٹھا رہے تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے رہنما مولانا عظیم طارق کے برسی پر ہونے والے اجتماع کے خاتمہ پر جب ہجوم منتشر ہورہا تھا ایک طاقتور دھماکے نے تباہی پھیلادی۔ میرا نام محمد جاوید ہے۔ میں ملتان کے قریب شہر سلطان کا رہنے والا ہوں۔ میں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے اور چوک کمہارانوالہ میں ایک میڈیکل سٹور پر کام کرتا ہوں۔ جہاں یہ واقعہ ہوا یہ جگہ میرے کام سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر ہے۔ میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں لیکن میں اس وقت جلسہ گاہ میں موجود تھا جہاں دھماکہ ہوا۔ بس لوگ جارہے تھے، اس لیے میں بھی دیکھا دیکھی چلا گیا۔ شہر بھر میں لوگوں کو پتہ تھا کہ مولانا اعظم طارق کی برسی کا اجتماع ہے۔ میں تقریباً رات کے گیارہ بجے یہاں سے جلسہ گاہ میں پہنچا۔ میرے اندازے کے مطابق اس وقت جلسہ گاہ میں تقریباً پانچ ہزار سے زیادہ ہی لوگ ہوں گے۔ باہر بہت سی بسیں کھڑی تھیں اور دور دراز سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ان میں سے زیادہ تر لوگ تنظیم کے ارکان تھے۔ ابھی مزید قافلے آرہے تھے۔ جلسہ گاہ کے باہر بھی خوب رش تھا۔ اجتماع کے دوران بتایا جاتا رہا کہ سکھر سے، سرحد اور بلوچستان سے لوگ آرہے ہیں۔ وہاں بہت سے علماء کرام آئے ہوئے تھے جن میں مولانا مسعودالرحمان عثمانی اور مولانا محمد احمد لدھیانوی بھی شامل تھے، کچھ شعراء کرام بھی تھے اور کچھ نعت خوان بھی۔ میرے سامنے تقریباً پندرہ علمائے کرام نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ جوش و خروش کا عالم تھا اور تمام لوگ مولانا اعظم طارق کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔
جلسے کے خاتمے پر دعا ہوئی۔ اس کے بعد لوگ جانے لگے۔ میں جب سٹیج سے تقریباً چار فرلانگ کے فاصلے پر پہنچا تو ایک آگ کا شعلہ محسوس ہوا۔ ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک دھماکہ ہوا۔ ۔دھماکہ بہت شدید تھا۔ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ اس کی آواز تقریباً دس کلومیٹر دور تک سنائی دی گئی تھی۔ وہاں جتنی گاڑیاں کھڑی تھیں ان کے شیشے وغیرہ ٹوٹے ہوئے تھے۔ قریب کے مکانات اور دوکانیں بھی تباہ ہوئی ہوئی تھیں۔ پہلے تو ہم بھاگے لیکن پھر مڑ کر واپس آئے۔ دیکھا تو ہر طرف افراتفری تھی اور چیخ و پکار تھی۔ لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو تلاش کر رہے تھے۔ زخمی پڑے تھے اور انہیں گاڑیوں میں ڈالا جا رہا تھا۔ ہمارا اس وقت اندازہ یہ تھا کہ کم از کم پچیس سے تیس تک لوگ مر گئے ہوں گے۔ دھماکہ سائیکل سٹینڈ پر کھڑی ہوئی ایک سوزوکی ایف ایکس کار میں ہوا۔ ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا کہ یہ کس کی کار تھی۔ پتہ نہیں وہ کار وہاں کیوں کھڑی کرنے دی گئی۔ سیکیورٹی والوں کی اتنی غفلت تھی کہ کسی نے اسے چیک نہیں کیا۔ وہاں سیکیورٹی کے انتظامات بس معمولی ہی تھے۔ بس سٹیج کے نزدیک کچھ تھی لیکن جہاں سائیکل سٹینڈ وغیرہ تھے وہاں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی۔ دھماکے کے بعد لوگوں میں اشتعال پھیل گیا اور وہ غصے میں آگئے۔ شہر کے لوگ اسی وقت اکٹھے ہوگئے تھے۔ ابھی تک یہاں اشتعال کی کیفیت ہے۔ یہاں چوک کمہارانوالہ میں ہنگامہ ہو رہا ہے۔ انتظامیہ اور عوام کے درمیاں توڑ پھوڑ ہو رہی ہے۔ ٹائر جلائے جا رہے ہیں، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ لاٹھی چارج ہورہا ہے۔ ہم لوگ یہاں دکانوں کو تالے لگا کر اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک اہلِ تشیع پر حملہ تو نہیں ہوا۔ یہاں چوک کمہارانوالہ میں ایک امام بارگاہ ہے، جسے پولیس نے مکمل طور پر گھیرا ہوا ہے۔ ابھی تک وہاں کوئی نہیں پہنچ سکا۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے، اللہ خیر کرے۔ میرا نام بابر ہے، میں ڈرائیور ہوں اور سٹی سروس کی ویگن چلاتا ہوں۔ میں صبح ڈھائی بجے گاڑی نکالتا ہوں اور دوپہر کو ایک بجے کھڑی کرتا ہوں۔ جہاں یہ دھماکہ ہوا، صبح سویرے اس روٹ پر منڈی کی بہت سواری ہوتی ہے اس لیے ہم اسی حساب سے گاڑی چلاتے ہیں۔ آج صبح اس سڑک پر رش کا عالم یہ تھا کہ بہت دنیا تھی۔ پارکنگ کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا اس لیے بسیں، کاریں سڑک کے اوپرلگی ہوئی تھیں۔ پولیس کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں تھا، چند ہی اہلکار تھے ڈیوٹی پر۔ تقریباً چار بجے وہاں سے لوگ نکلنا شروع ہوگئے تھے۔ ہم نے انہیں لے جا کر بس سٹینڈ پر چھوڑا۔ اگلے پھیرے کے لیے ہم جب واپس آئے تو اس وقت چار بج کر پچیس منٹ ہوئے تھے۔ ہم ابھی سواریاں بٹھا رہے تھے کہ اتنے میں دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے بعد وہ ہمیں زخمیوں کو اٹھانے کے لیے لے گئے۔ میں تقریباً سترہ لاشیں دو دفعہ نشتر ہسپتال ملتان تک لے کر گیا ہوں۔ پہلے گیارہ اور پھر چھ۔ میں تین گھنٹے تک وہاں موجود رہا ہوں۔ وہاں جو گنتی چل رہی تھی اس حساب سے اس وقت تک وہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد پہنچ چکے تھے جن میں جاں بحق بھی تھے اور زخمی بھی۔ یہاں ہر دوگھنٹے بعد جو مقامی ضمیمہ نکل رہا ہے، اس کے مطابق اب یہ تعداد ایک سو پچھہتر ہو چکی ہے۔ ہمیں وہ گاڑی سمیت اندر لے گئے تاکہ لاشیں اٹھا سکیں۔ وہاں پر بہت برا حال تھا۔ جس کار میں دھماکہ ہوا وہ بجلی کے ایک کھمبے کے نیچے کھڑی ہوئی تھی جس پر ٹرانسفارمر لگا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ گھر تھے جن میں سے چار بہت بری طرح تباہ ہوئے۔ ان میں تین ہمارے جاننے والے لڑکے بھی تھے جو ہمارے چوک میں رہتے تھے۔ ان میں سے دو آپس میں کزن تھے اور ایک ویگن ڈرائیور تھا جس کا اس تنظیم سے تعلق تھا۔
ہم لوگوں کوصورتِ حال دیکھ کر بہت ڈر لگا۔ہم رو بھی رہے تھے اور لاشیں اٹھا بھی رہے تھے۔ یہ منظر دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ جو لاشیں میں لے کر گیا تھا ان میں سے ایک کا تو دھڑ ہی علیحدہ تھا اور ایک بچی کی گردن علیحدہ تھی۔ وہ پچاری پاس کے ایک گھر کی چھت پر سوئی ہوئی تھی۔ اس کے بعد تقریباً گیارہ بجے کے بعد ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اس ٹائم ادھر کے بھی حالات بہت خراب ہیں اور اندرون شہر کے بھی قابو سے باہر ہیں۔ ٹریفک، دکانیں،مارکیٹ وغیرہ سب بند پڑے ہیں۔ پیٹرول پمپ بند ہیں، شہر میں گاڑیوں کے شیشے بکھرے ہوئے ہیں۔ اہلِ تشیع کا یہ حال ہے کہ ڈرے ہوئےہیں، گھروں پرتالے لگے ہوئے ہیں۔ امام بارگاہ کے متولیوں کے گھر پر صبح سے تالا لگا ہوا ہے۔ پولیس نے ان کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تقریباِ تینتیس آدمیوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ نشتر کے گراؤنڈ میں ہوچکی ہے اور انہیں ایمبلینسوں میں ورثاء کے ساتھ روانہ کر دیا ہے۔بقایا جیسے جیسے ورثاء آرہے ہیں، اسی طرح لاشیں دے دے کر بھیج رہے ہیں۔ کچھ کے لواحقین کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں۔ اس وقت جو حالات چل رہے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ پولیس قابو پاسکے گی۔ فی الحال تو پولیس اور عوام کے درمیان آنکھ مچولی چل رہی ہے۔ جہاں بم دھماکہ ہوا تھا وہاں دو مرتبہ شیلنگ بھی ہوچکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||