عراق کا ایک دن : عراقیوں کی زبانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تشدد کے سائے میں عراق میں رہنے والوں کی زندگی کیسے گزرتی ہے، یہ جاننے کے لیے بی بی سی نیوز ویب سائٹ نے ’عراق کا ایک دن‘ کے تحت عام عراقیوں سے پوچھا کہ ان کا دن کیسے گزر رہا ہے۔ یہ عراق کے رہنے والوں کی کہانیاں ہیں۔ آج صبح سارا وقت دفتر کے کام میں نکل گیا۔ ٹائم شیٹ بھرنے جیسے ان کاموں میں بہت وقت نکل جاتا ہے، مگر رکنے تو پڑتے ہیں ورنہ تنخواہ نہیں ملے گی۔ یہاں کام کرنے کے لیے صرف ایک ہی کمپیوٹر ہے تو سب کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ میرے پاس گھر میں اپنا کمپیوٹر ہے مگر بجلی نہ رہنے کی وجہ سے میں اس پر زیادہ کام نہیں کر پاتی۔ میرے پاس گھر میں ایک جینریٹر بھی ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے پیٹرول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ یہاں زندگی کافی معمول پر آگئی ہے۔ اس وقت زیادہ تر لوگ باہر دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں۔ زیادہ تر کو نوکریاں مل گئی ہیں، جس وجہ سے وہ کھانا کھانے گھر نہیں جا سکتے۔ سبھی لوگوں کے لیے بارز، کیفیز اور ریسٹورانٹس جانا آسان ہے۔ اگر آپ سڑکوں پر چلیں تو نیلی آنکھوں والے غیر ملکی اکیلے چلتے نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ تیرہ سال تک یہ علاقہ صدام کی پہنچ سے باہر تھا جس وجہ سے لوگوں کو پیٹرول اور بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم حال ہی میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔ کرد علاقوں میں اب دن میں بیس گھنٹے بجلی میسر ہوتی ہے اور ایندھن ترکی سے آتا ہے۔ میں ایک پر امن علاقے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں۔ میرا اپنے ہمسایوں کے ساتھ بہت ہی محدود رشتہ ہے۔ مجھے ان میں سے زیادہ تر پر بھروسہ نہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے کئی شدت پسند ہیں۔ میں مرکزی بغداد کے ایک بڑے ہسپتال میں کام کرتی ہوں۔ ہر دن صبح ساڑھے سات بجے میں ہسپتال کے لیے نکلتی ہوں۔ عام طور پر میرے والد میرے ساتھ ہوتے ہیں، تاہم کبھی کبھی میں خود اپنی گاڑی میں کام پر جاتی ہوں۔ گھر سے ہسپتال تک عام طور پر تیس منٹ لگ جاتے ہیں مگر جب کبھی سڑکیں بند ہوتی ہیں تو کئی گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں۔ ہسپتال میں میرے دن کا آغاز مریضوں کے معائنے سے ہوتا ہے۔ مگر اکثر جب دھماکے ہوتے ہیں یا بہت زیادہ لوگ زخمی ہو جاتے ہیں تو اس میں خلل پڑتا ہے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ عراق میں ہر دن ہر پچھلے دن جیسا ہوتا ہے کیونکہ ہر دن وہی مشکلات لے کر آتا ہے۔ کل میرا ایک امتحان ہے جس کی تیاری کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، مگر بجلی چلی گئی ہے۔ اس وقت درجۂ حرارت 41 ڈِگری سیلسیس ہے۔ ایسی حالت میں پڑھائی پر توجہ دینا بہت مشکل ہے۔ مگر پھر بھی جب میں دوسرے طالب علموں کو سڑکوں پر پڑھائی کرتے دیکھتا ہوں کیونکہ انکے ہوسٹلوں میں ایک ہفتے سے بجلی نہیں ہے، تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ میں کم از کم اب بھی اپنے کمرے میں پڑھائی کر رہا ہوں۔ انتخابات کے وقت کے مقابلے یہاں اب حالات کافی بہتر ہو گئے ہیں۔ سکیوریٹی انتظامات بہتر ہیں اور زندگی کے دیگر پہلوؤں میں بھی بہتری ہوئی ہے۔ پانی کی فراہمی بھی بہتر ہو گئی ہے۔ پہلے ہمیں جینریٹر کی بہت ضرورت پڑتی تھی۔ میرے آٹھ بچے ہیں اور کچھ ہی ماہ پہلے تک ہم ہر رات دریا پار کر کے شہر سے باہر کچھ گھروں میں جا کر رہا کرتے تھے کیونکہ میرا گھر محفوظ نہیں تھا۔ مگر اب ہر طرف مسکراہٹیں ہیں، زندگی معمول پر لوٹتی نظر آ رہی ہے اور خوف کم ہوتا جا رہا ہے۔ میں اس سکول میں انگریزی پڑھاتی ہوں۔ یہاں ٹیچروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے۔ اس سے زیادہ ٹیچر کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ زیادہ من لگا کر بچوں کو پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اب بھی بہت سے مسائل ہیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے طالب علموں کو بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ مگر اب آزادی ہے۔ بات کرنے کی، بولنے کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی۔ صبح ناشتہ کرنے اور کام پر جانے کے بعد میں قرآن کی کچھ آیات پڑھتا ہوں۔ میں عام کپڑے پہن کر کام کے لیے نکلتا ہوں، کیونکہ پولیس کی وردی میں گھر سے باہر نکلنا خظرے سے خالی نہیں ہے۔ جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے میری بیوی اور میرے قریبی دوست مجھے فون کرتے ہیں۔ ہر حملے کے بعد میں سوچتا ہوں کہ کیا میں آج گھر لوٹ پاؤں گا یا نہیں؟ شام گھر پہنچ کر اپنے خاندان کے ساتھ رات کا کھانا کھاتا ہوں تو دن کے واقعات کے علاوہ بجلی اور پانی کی کمی پر بات ہوتی رہتی ہے۔ میری خوشی اسی صورت میں مکمل ہوگی جب ملک میں مکمل امن اور چین ہوگا۔ آج کل کوئی بھی تعمیراتی ٹھیکہ لینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ حکومت یا اتحادی فوج کے کسی بھی پروجیکٹ پر کام کرنے سے جان خطرے میں پڑ سکتی ہے کیونکہ آپ پر دشمنوں کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں ہمیں کار بم دھماکوں کے علاوہ بھی کئی خطروں کا سامنا کرنا پڑتا ہےئ لیکن میڈیا کی توجہ زیادہ تر ان دھماکوں پر ہی رہتی ہے۔ ہمیں اغوا اور قتل جیسے جرائم کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سال کے آغاز میں میرے والد کو اغوا کیا گیا تھا۔ میں حال ہی میں دبئی سے بغداد واپس آیا ہوں۔ میں مئی میں یہاں پہنچا اور میں نے اسی کمپنی میں دوبارہ کام شروع کر دیا جہاں میں پہلے کام کیا کرتا تھا۔ کچھ فہتے پہلے کے مقابلے میں اب بغداد میں صورت حال کافی بہتر ہے۔ میرے خیال میں حال ہی میں شروع ہونے والے سکیوریٹی آپریشن سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ میں اپنی بیوی اور پانچ بچوں کو لے کر گرین زون کے قریب ایک تھیم پارک بھی گیا تھا اور اب ہم ہر شام پاس کی ایک دکان میں آئیس کریم کھانے جاتے ہیں۔ اب تک تو میں صورت حال سے مطمعن ہوں۔ ہم کام پر آنے سے ڈرتے ہیں۔ گھر سے ہسپتال تک کا سفر بہت ہی مشکل پڑتا ہے۔ مجھے اپنے ملک کی صحت کے بارے میں بہت کم امید ہے۔ ایک بار پھر لوگ بڑی تعداد میں عراق کو چھوڑ کر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے صدام حسین کے دور میں ہوا تھا۔ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک جا چکی ہے۔ رات نو بجے میں اپنے گھر میں تھا جب کچھ لوگوں نے دروازے کی گھنٹی بجانے کی بجائے اپنی بندوقوں سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ پہلے کوئی یہ ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ میں دروازہ کھولا تو تقریباً آٹھ ہمرز (امریکی فوجی گاڑیاں) اور بیس فوجی بندوقیں تانے کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ میرے گھر میں اتحادی فوج کے خلاف میٹنگز کی جاتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||