میں اور میرے ننھے فرشتے۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں ایک ستائیس سالہ نرس ہوں۔ میں بغداد کے ضلع الکرادہ میں رہتی ہوں اور الیارموک ہسپتال میں بچوں کے سیکشن میں کام کرتی ہوں۔ مجھے بچوں کے ساتھ کام کرنا بہت پسند ہے۔ میرے خیال میں بچے ننھے فرشتے ہوتے ہیں۔ مجھے ان میں وہ جرم اور تشدد نظر نہیں آتا جس سے میرے شہر کی سڑکیں بھری پڑی ہیں۔ شہر میں ہر حملے کے بعد ہسپتال ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں سے بھرا ہوتا ہے، مگر ان بچوں کے چہروں میں مجھے یہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ بچوں اور ان کے گھر والوں کے ساتھ کام کرنے میں مجھے کوئی دقت یا تکلیف نہیں ہوتی۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کے لیے انکیوبیٹرز کی کمی اور ایسے بچوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود یہاں ہمیں ضرورت کی زیادہ تر اشیاء میسر ہیں۔ میرا وارڈ صحت کے لحاظ سے کافی اچھا ہے۔ اس میں دیگر ہسپتالوں کے مقابلے جدید ترین طبی تکنیکیں میسر ہیں۔ ہمیں بس ہسپتال آنے جانے کا اور راتوں کو کام کرنے کا ہی ڈر لگا رہتا ہے۔ شہر میں حالات بہت خراب ہیں، خاص طور پر مجھ جیسی جوان، غیر شادی شدہ عورتوں کے لیے۔ مجھے اپنے کام سے اتنا لگاؤ اس لیے ہے کیونکہ اپنے کام کی وجہ سے میں خود کو پہچاننے لگی ہوں اور لوگ میری عزت کرتے ہیں۔ میرے وارڈ کے باہر چاہے کچھ بھی ہو، میں اپنے ننھے فرشتوں کے ساتھ اپنی دنیا میں خوش ہوں۔ اپنے وارڈ کی چار دیواری میں داخل ہوتے ہی میں ایک دوسری دنیا میں پہنچ جاتی ہوں۔ سوتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر سوچتی ہوں کہ وہ بڑے ہوکر نہ جانے کیا کیا بنیں گے، ڈاکٹر، ٹیچر، فٹبال کھلاڑی، وکیل۔۔۔ اور پھر شاید وہ بڑے ہوکر مجھ سے ملنے آئیں گے۔ ہر صبح نو بجے میں اپنے دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرتی ہوں۔ ہم اپنا اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ساتھ ساتھ ریڈیو سنتے ہیں۔ یہاں سبھی کو میں پسند ہوں اور مجھے اپنا کام بہت پسند ہے۔ میں بچوں کی ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں اور اس کے لیے مزید پڑھائی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ شام کو کام ختم کرنے کے بعد میں دوسری خواتین ملازموں کے ساتھ گھر لوٹ جاتی ہوں۔ میں خوش ہوں اور پرامید بھی۔ میرا بچپن صدام کی جنگوں میں گزرا، مگر مجھے امید ہےکہ عراق کا مستقبل بہتر ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ میرے ننھے فرشتے ایک بہتر ماحول اور ملک میں بڑے ہوں گے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے لئے اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||