سبھی میرے قصوروار ہیں۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ثنا نِمر ایک فارمسیسٹ ہیں اور بغداد میں رہتی ہیں۔ انہوں نے بغداد میں ہماری نامہ نگار کیرولائین ہاؤلی سے بات کرتے ہوئے کہا: پتا نہیں کیوں دن بہ دن حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ جنگ کا پہلا سال اس کے مقابلے میں آسان تھا۔ ایسا ہونا نہیں چاہیئے مگر میرا سارا وقت اپنے بچوں اور اپنے بارے میں فکر میں ہی گزر جاتا ہے۔ میں کسی بھی وقت خود کو یا اپنے بچوں کو محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ ہمیشہ ہر چیز پر تالا لگانا پڑتا ہے۔۔۔دروازے، کھڑکیاں، میری گاڑی۔ ہمیشہ ہر چیز پر شبہہ رہتا ہے۔ ہر وقت کے اس خوف سے میری معمول کی زندگی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ میں ہمیشہ یہ سوچتی رہتی ہوں کہ صدام کے دور میں سب کچھ کتنا محفوظ تھا۔ یہ بات کہتے ہوئے مجھے افسوس ضرور ہو رہا ہے مگر یہ سچ ہے کہ صدام کے دور میں لوگ خود کو محفوظ محسوس کرتے تھے۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ صدام کا دور واپس آ جائے مگر یہ بھی سچ ہے کہ اُن دنوں ایسی بدامنی نہیں تھی۔ میں مانتی ہوں کہ اب ہم آزاد ہیں، سفر کرنے کے لیے، جو چاہیں وہ سوچنے کے لیے، اپنے دل کی بات کہنے کے لیے، لیکن غیر محفوظ ہونے کا احساس اس آزادی پر ایک کالے بادل کی طرح چھایا ہوا ہے۔ مجھے تو کوئی امید نظر نہیں آتی اور نہ ہی مجھے حالات بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ پہلے ہم معمول کی زندگیاں بسر کیا کرتے تھے۔ ہم اپنے دل کی بات کھل کر نہیں کر سکتے تھے اور سیاست سے دور رہا کرتے تھے، لیکن ہماری زندگی آسان تھی۔ ہم ایک دوسرے سے ملتے تھے، کلب جایا کرتے تھے اور آدھی رات کو گھر آیا کرتے تھے۔ مگر اب اس سب کے بعد ہمیں کیا ملا ہے؟ صرف غیر محفوظ ہونے کا احساس۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے دھوکا دیا گیا ہے۔ اور اب آگے کیا ہوگا؟ اور یہ سب کس کا قصور ہے؟ میں کسی ایک کو قصوروار نہیں ٹھہراتی۔۔۔یہ سب کی غلطی ہے۔۔۔سبھی میرے قصوروار ہیں۔۔۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے لئے اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||