’نئے عراق میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(میثون ال داملوجی عراقی نائب وزیر ثقافت ہیں۔) میرا دن صبح ساڑھے چھ یا سات بجے شروع ہوتا ہے۔ میں صبح ساڑھے سات بجے کے بعد گھر سے کام کے لیے نہیں نکل سکتی، کیونکہ کار بم دھماکے زیادہ تر نو سے دس بجے کے درمیان شروع ہو جاتے ہیں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ اس وقت سے پہلے کام پر پہنچ جاؤں۔ مگر کئی دن ایسے بھی ہوتے ہیں جب دھماکے صبح آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔ اچھے دنوں پر میں ایک گھنٹے میں گھر سے کام تک پہنچ جاتی ہوں۔ مگر کئی بار سکیوریٹی وجوہات کی وجہ سے تین گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں۔ سکیوریٹی خدشات کی ہی وجہ سے ہر دن مجھے مختلف گاڑیوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام اقدامات میری حفاظت کے لیے ہیں، مگر مجھے سب سے زیادہ ڈر کار بم دھماکوں سے لگتا ہے۔ یہ دھماکے کبھی بھی ہو سکتے ہیں اور کوئی بھی ان کا نشانہ بن سکتا ہے۔ میں کم از کم چار مرتبہ دھماکوں کی زد میں آتے آتے بچی ہوں۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔ ایک دفع میں دو دھماکوں سے صرف پچاس گز دور تھی۔ مجھے سب سے زیادہ ڈر تب لگا جب دھماکوں کے بعد گولیاں چلنا شروع ہو گئیں۔ ہر طرف سے گولیاں چل رہی تھی۔ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور گاڑی چلانا نا ممکن ہو گیا۔ اب تک مجھے یقین نہیں ہوتا کہ میں اس دن بچ گئی۔ بعد میں یہ پتا چلا کہ میری گاڑی کے نذدیک ایک تیسرا کار بم تھا مگر اس گاڑی کے ڈرائور نے پہلے دو دھماکوں کی تباہی دیکھ کر خود کو نہیں اڑایا، بلکہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ میں خود کو بند دروازوں میں زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ میرا دن وزارت ثقافت پر ہمیں درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنے میں نکل جاتا ہے۔ سکیوریٹی خدشات کی وجہ سے ہمارا کام اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پچھلے بیس سال سے عراق اور عراقی باہر کی دنیا سے بالکل کٹے ہوئے تھے۔ اس لیے چھوٹے چھوٹے کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک ای میل لکھنے میں ہی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ سکیوریٹی کی وجہ سے ایک مشکل یہ بھی پیدا ہو گئی ہے کہ تاریخی مقامات پر فوجوں کی تعیناتی سے ان ثقافتی اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔ اب بھی کئی مقامات پر فوج تعینات ہے۔ ہم انہوں محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ فوجیں اکثر ثقافت اور تاریخ کے بارے میں نہیں سوچتیں، اور بدقسمتی سے صدام نے اپنے کئی محل تاریخی مقامات کے قریب تعمیر کیے تھے، جن پر غیر ملکی فوج نے قبضہ کر لیا اور انہیں نقصان پہنچا۔ جب میں کام پر ہوتی ہوں تو ٹیلی وژن اور اخباروں کے ذریعے سارا وقت خبروں پر نظر رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میرا کام شام تک ہی ختم ہوتا ہے، اور پھر گھر پہنچ کر گھر کا کام کرتی ہوں۔ مجھے آزاد عراقی خواتین نامی جماعت کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ میں نے عورتوں کے حقوق کے لیے بہت کام کیا ہے۔ میں سکیولرزم میں یقین رکھتی ہوں۔ نئے عراق میں فرقہ وارانیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مذہب اور حکومت کو علیحدہ رکھنے میں ہی سمجھداری ہے۔ رات گیارہ بجے کرفیو شروع ہو جاتا ہے، تاہم لوگ اس سے پہلے ہی گھروں کو واپس لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اندھیرہ ہونے کے بعد شہر کی سڑکیں محفوظ نہیں ہوتیں۔ بغداد میں سکیوریٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ ہر طرف ناکہ بندی ہے۔ مگر مجھے یہی ناکے زیادہ خوف ناک لگتے ہیں کیونکہ اکثر انہیں پر حملے ہوتے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان ناکوں کی وجہ سے حالات میں بہتری نہیں آئی ہے۔ تاہم مجھے خوشی ہے کہ سکیوریٹی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ مذاحمت کاروں کو لوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اب وقت جمہوریت کا ہے۔ بغداد سے تقریباً ایک سو پچاس اخبار شائع ہوتے ہیں۔ لوگ جمہوری اور پر امن تریقوں سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اس لیے تشدد کے لیے عراق میں اب کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیئے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے لئے اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||