 |  ہلاک ہونے والوں کی تعداد 132 تک پہنچ چکی ہے۔ |
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صوبہ سندھ کے شہرگھوٹکی کے قریب تین ریل گاڑیاں کے ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 134 تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے پہلے 128 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع تھی۔ لاہور سے کراچی جانے والی کوئٹہ ایکسپریس میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے اسے گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے اسٹیشن پر مرمت کے لیے روکا گیا۔ کوئٹہ ایکسپریس کی درستگی کا کام ابھی جاری تھا کہ پیچھے سے آنے والی نائٹ کوچ (کراچی ایکسپریس) کوئی صبح ساڑھے چار بجے کے قریب اس سے جا ٹکرائی۔ اتفاق سے اسی وقت دوسرے ٹریک پر کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس گزر رہی تھی۔ نائٹ کوچ مرمت کے لیے کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا کر پٹڑی سے اتر گئی اور سامنے سے آنے والی تیزگام ایکسپریس سے ٹکرا گئی۔ ٹریفک کنٹرولر کے مطابق حادثے میں تیزگام ایکسپریس کی بارہ بوگیاں، کوئٹہ ایکسپریس کی چار اور نائٹ کوچ کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئی ہیں۔ کیا آپ یا آپ کے دوست رشتہ دار اس حادثے کے وقت ٹرین میں یا اس علاقے میں موجود تھے؟ کیا آپ اس حادثے سے کسی بھی طرح متاثر ہوئے ہیں؟ ہمیں اپنے تجربات کے بارے میں لکھئیے۔ اس حادثے کے بارے میں اپنی رائے بھی آپ ہمیں بھیج سکتے ہیں۔ اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
غلام ربانی، صادق آباد: چون لوگ یو کے میں مارے گئے اور دو منٹ کی خاموشی رکھی گئی لیکن پاکستان میں سینکڑوں لوگ مارے گئے کوئی اس طرح کی تعزیت نہیں۔ حفیظ احمد، سعودی عرب: اگر اس طرح کا بڑا حادثہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو ریلوے منسٹر نے استعفیٰ دیدیا ہوتا۔ لیکن ہمارے منسٹر ایسا نہیں کرتے۔ میں ریٹائرڈ جنرل صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں جو تین سال سے وزیر ہیں کہ انہوں نے کیا اصلاحات شروع کی ہیں؟ راؤ عمران نفیس، لاہور: ایک سوال میرے ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا یہ دہشت گرد کارروائی ہوسکتی ہے یا نہیں؟ عمران آصف، جاپان: کاش ہمارے ملک کا ریلوے نظام کبھی اچھا ہوجائے۔ یہاں اکثر ایسے خوفناک حادثے ہوتے ہیں اور کسی کو بھی خیال نہیں آیا کہ کچھ پیسے اپنی جیبوں میں ڈالنے کے بجائے اس ملک پر بھی خرچ کردیے جائیں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: جس قدر بھی اس حادثے پر دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے، یہ اس وقت ایک اجتماعی المیہ ہے پوری قوم کے لئے جس کے دکھ کی شدت کم ہونے میں نہیں آرہی، وہ جو انجانی راہوں کے مسافر ہوں گے، فنا کے ہاتھوں نے اتنے زیادہ افراد کو ایک ساتھ موت کا ہمسفر کردیا۔۔۔۔ محمد سمیع اللہ، گجرانوالہ: میری رائے یہ ہے کہ ہم سب کو سفر کرتے وقت مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہئے اور پھر اگر موت آبھی جائے تو سیدھا جنت میں۔ سید صفوان خان، امریکہ: اس المناک واقعے کی کبھی بھی کوئی رپورٹ نہیں آئے گی، وہ اس لئے کہ کہیں کوئی دفاعی راز دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے، اور رہے پاکستانی عوام وہ تو ہیں ہی مرنے اور ووٹ دینے کے لئے کیوں پاکستانی عوام کا لہو پانی سے بھی سستا ہے۔ قادر قریشی، ٹورانٹو: کیا پاکستان ریلوے نے نامعلوم مرنے والوں کا ڈی این اے جمع کیا ہے؟ کمال خان، امریکہ: پاکستان میں ٹرین کا حادثہ یا دہشت گردی؟ انسان کی زندگی کتنی سستی ہے ہمارے وطن میں؟ سو دو سو انسانوں کا مرنا کچھ نہیں؟ انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اس کی کوریج نہیں کی، آخر پاکستان انسان نہیں؟ ذوالفقار احمد، کراچی: یہ سرحد کے اسٹیشن ماسٹر کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ کوئٹہ ایکسپریس مین لائن پر پچیس منٹوں سے کھڑی تھی، اس نے پچھلے اسٹیشن کو کیوں نہیں بتایا کہ کراچی ایکسپریس کو نہ بھیجے؟ دانش ملک، میرپور خاص: مجھے زیادہ افسوس اس بات کا ہوا ہے کہ جن لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی جب ان کو دفنایا گیا تو وہاں کوئی بھی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس میں کہیں نہ کہیں گورنمنٹ کا یا ایجنسیز کا ہاتھ ضرور ہے۔ امتیاز حیدر، کینیڈا: پاکستان میں انسانی زندگی کافی سستی ہے۔۔۔ شاہزیب خان، ایتھنز: جو حادثہ ہوگیا وہ ریلوے کے پرانے نظام کی وجہ سے ہوا۔ اب ہمیں آنے والے وقت کے لئے ہوشیا ہونا پڑے گا۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے جو پی ٹی سی ایل کو پرائیوٹائئز کررہے ہیں ریلوے کو نہیں جس کی ملک کو زیادہ ضرورت ہے۔ فراز سید، یو اے ای: جو ہوا برا ہوا اور ایسا انسیڈنٹ ہے جو ساری لائیف یاد رہے گا۔ ایک بات یہ ہے کہ گورنمنٹ، پولیس، لوکل گورنمنٹ، ایدھی نے جس طرح ٹیک کیئر کیا ہے وہ ایک اچھا سائین ہے۔ مشرف کا پہنچنا بھی ایک اچھا سائین تھا۔ شہاب اعوان، ضلع گھوٹکی: میں انجینیئرنگ کالج کا ٹیسٹ دینے کے لئے گھوٹکی جارہا تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔ میری زندگی کا یہ سب سے برا حادثہ تھا، میں کبھی اپنی لائف میں ٹرین پر سفر نہیں کروں گا، اور نہ ہی اپنی فیملی کو ٹرین سے سفر کراؤں گا، اگرچہ میں جانتا ہوں کہ موت روکی نہیں جاسکتی۔ حسنین، بارسلونا: اس کا احساس وہی کرسکتا ہے جس کے اوپر بیتی، دوسرا نہیں سمجھ سکتا، ویری سیڈ، بہت افسوسناک لمحہ ہے، اللہ سب کو معاف کرے۔ سلیم جناوا، کراچی: اس سے پہلے جتنے ایسے واقعات ہوئی کسی کی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں آئی۔ کاش تھوڑے پیسے ریلوے کی بہتری میں بھی لگادیے جائیں۔ کاش کوئی وزیر واقعے کی ذمہ داری قبول کرکے استعفیٰ بھی دیدیں، کاش پاکستانی کا خون اتنا سستا نہ ہو۔ بینا اشرف، امریکہ: بڑا ’اچھا‘ کیا جو حکومت نے مرنے والوں کو پیسے دیدیے؟ ارے یہ پیسے ان ٹرینوں کے نظام کو اچھے کرنے میں لگادیتے تو کیا تھا؟۔۔۔۔ کررار صدیقی، سوئٹزرلینڈ: ہم صرف موجودہ گورنمنٹ کو اس حادثے کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے، بلکہ پچھلی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں، بالخصوص وہ جنہوں نے کئی برسوں تک حکمرانی کی۔ ریلوے پلانرز اور ہمارا ایجوکیشن سیسٹم بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ ریلوے انجینیئرز کو معلوم بھی نہیں کہ ایک محفوظ ریل سیسٹم کیسے بناتے ہیں۔ منظر، سعودی عرب: میں کافی اداس ہوں اس حادثے پر۔ کیا اسے روکا جاسکتا تھا؟ کیا ریلوے وزیر ذمہ داری قبول کریں گے؟ سجاد بلوچ، ایران: میں سبھی سوگوار بہن اور بھائیوں کو دلی لحاظ سے تعزیت عرض کرتا ہوں۔ یہ حادثہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ہوشیار اور بےدار ہونے کو دعوت دیتا ہے اور یہ ایک ملی صدمہ ہے۔ عمران نسیم، دبئی: سب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کوچ ڈرائیور کی غلطی تھی لیکن کیا آپ لوگ سوچتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ آدمی ذمہ دار ہو جس نے اس کو گرین سِگنل دی تھی۔ سبھی لوگ اور پاکستان کی حکومت بضد ہیں کہ ڈرائیور کی غلطی تھی۔ فرحان مشتاق، باسٹن، امریکہ: حقیقت تو یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو افسوس نہیں ہوا۔ اگر افسوس ہوتا تو یہ بار بار نہ ہوتا۔ ہم ایک مسلمان قوم ہیں اور ہمیں تو ایسا ہونا چاہئے تھا کہ اگر ہماری قوم کہ جسم کے ایک حصے میں درد ہوتا تو یہ درد ساری قوم محسوس کرتی لیکن اب تو اگر پورا کا پورا جسم بھی کٹ جائے تو دوسرا محسوس تک نہیں کرے۔ شوکت شاہ، کراچی: حکومتِ پاکستان ذمہ دار لوگوں کو سزا دے۔ میں خدا سے ہم سب کے لئے دعا کرتا ہوں۔ طارق محمود، ٹوٹہ ٹیک سنگھ: ہمیں اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں غلطیوں کا پتہ لگانے کی ضرورت ہے تاکہ اسٹاف کی صحیح ٹریننگ ہوسکے جنہوں نے یہ حادثہ کیا۔ مرزا ناصر بیگ، امریکہ: بہت افسوس ہوا، مرنے والوں کے لئے دو لاکھ کی امداد کا اعلان ہوا ہے لیکن وہ دو لاکھ کا چیک قیامت تک کیش نہیں ہوں گا کیوں کہ حکومت کے اکاؤنٹ میں پیسہ نہیں ہے۔ اس حادثے کو اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہوں تاکہ آئندہ پھر اس سے بھی بڑے حادثات ۔۔۔ محبوب احمد، کمالیہ: اس میں تخریب کاری کے عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیات ہونی چاہئے۔ وسیع اللہ بھمبرو، میرپور خاص: میرا تعقل گھوٹکی سے تو نہیں مگر میں نے جب صبح ناشتہ سامنے رکھ کر ٹی وی چلاکے جیسے ہی جیو چینل لگایا تو یہ نیوز سن کر مجھے ناشتہ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ پتہ نہیں کہ میرا دل اندر ہی اندر روئے جارہا ہے۔ حرا فاطمہ، حیدرآباد سندھ: تعجب کی بات ہے کہ اگر جنرل مشرف کراچی میں نہیں ہوتے تو کیا دوسرے وزراء حادثے کی جگہ جاتے؟ کم از کم اس نااہلی پر ریلوے وزیر کو علامتی طور پر ہی صحیح استعفیٰ دیدینا چاہئے۔ جب سانگی اسٹیشن کے پاس چند سال قبل ریلوے کا حادثہ ہوا تھا تو ظفر لغاری ریلوے منسٹر تھے انہوں نے استعفیٰ دیا تھا، ہم اس واقعے کی بی بی سی آن لائن پر کوریج پر خوش ہیں۔ سنت کمار گہی، ضلع گھوٹکی: سب سے پہلے میں رب سے دعا مانگتا ہوں کہ مرنے والوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔ طاہر عباس، دوبئی: میں وہ ہوں جو خود ٹرین میں سوار تھا، میں وہ ہوں جس کا بھائی، دوست اور سارے رشتہ دار ٹرین میں تھے، میں وہ ہوں جو ٹرین میں مر گیا، میں ایک عام پاکستانی ہوں جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں، آخر یہ کب تک؟ بشارت حمید، سمندری: ریلوے کے وزیر اور دوسرے ذمہ دار استعفیٰ دے دیں۔ لیکن یہ پاکستان ہے، یہاں کرسی کوئی نہیں چھوڑتا جب تک کہ ڈنڈے سے نہ چھڑوائی جائے۔ اللہ مرحومین کو جنت میں جگہ دے۔ بہت دکھ ہوا۔ حرا آبرو، سندھ: گھوٹےواقعے کی کوریج کافی اچھی ہے۔ ایاز احمد، جرمنی: دنیا میں ریلوے کے حادثات ہوتے رہتے ہیں، مگر تین ٹرینوں کا اس طرح کا تصادم اور اتنے معصوم لوگوں کی جانوں کا نقصان، دنیا کا پہلا واقعہ ہے، اور یہ پاکستان کے حکمرانوں کی عوام اور پاکستان ریلویز سے غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان ریلوے کو ہمارے ملک کے عام لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا حکمراں طبقہ ریلوے استعمال ہی نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ ریلویز کا سارا نظام صدیوں پرانے طور طریقوں سے چلایا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں جس طرح کے ہولناک حادثات ہوتے رہتے ہیں جن میں سینکڑوں معصوم لوگوں کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اور ان سب کے جواب میں حکومت ہمیشہ کی طرح مگرمچھ کے آنسو بہاکر خاموش ہوجاتی ہے۔ محمد افضال، دوبئی: میں نے جو کچھ سنا ہے اس کے بارے میں فکرمند ہوں، ہمارا ریلوے نظام کافی پرانا ہے۔۔۔۔ نامعلوم: یہ حادثہ ہمارے لئے ایک یادگار حادثہ ہے اور حادثے کی وجہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونا ہے۔ اگر ریلوے سیسٹم میں کمپیوٹرائزڈ نقشے ہوتے اور وہ نیویگیٹ کرتے کہ ایک ٹرین خراب ہے، اسٹاپ ہوئی ہے تو اس طرح کا واقعہ نہ ہوتا۔ ایس اے حمید، پاکستان: میں تو آپ سے پہلے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ کتنے کم ڈیڈ باڈی کیوں شو کررہے ہیں جب کہ میرے سامنے ایک پیٹرول پمپ والے نے پانچ سو کفن دیے ہیں۔ اور یہ سراسر ملٹری والوں کی غطلی ہے لیکن گورنمنٹ اس معاملے کو دبانا چاہتی ہے اور کسی ڈرائیور پر الزام لگایا جارہا ہے۔ راحت ملک، پنڈی: مجھے اب دو کام کرنے ہوں گے، یا میں بی بی سی پڑھنا چھوڑ دوں گا یا اپنے کو ڈاکٹر کو دکھاؤں جو آپ کہ معیار پر نہیں اترتا میرا لکھا ہوا۔ اعجاز احمد، صادق آباد: میرا تعلق صادق آباد سے ہے جو گھوٹکی سے چند منٹ کے فاصلے پر ہے۔ جس دن یہ حادثہ ہوا میرا بڑا بھائی کراچی سے صادق آباد آرہا تھا، صبح نماز پڑھنے کے بعد جب ٹی وی آن کیا تو یہ خبر سن کر ہمارے پاؤں کی نیچے سے زمین نکل گئی اور ہم فورا بھائی کے موبائل پر کال کی اور ان کی خیریت پوچھی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بھائی تیزگام سے پچھلی گاڑی پر سوار تھا جس کو روہری اسٹیشن ہر ہی روک لیا گیا تھا۔ صبح ہونے پر میں اپنے دوست کے ساتھ گھوٹکی گیا، وہاں جاکر مجھے احساس ہوا کہ میں کتنے چھوٹے دل کا مالک ہوں، مجھ سے وہاں پر جو حشر تھا دیکھا نہیں جارہا تھا، خاص طور پر جب میرے سامنے ایک ڈبے سے کسی چھوٹے سے بچے کی لاش نکالی گئی تو میری ٹانگوں سے جیسی جان ہی نکل گئی ہو۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی تباہی کبھی نہیں دیکھی اور جہاں تک حکومت کا کہنا ہے کہ ایک سو بتیس لوگ مرے ہیں میں اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق ایک ہزار سے پندرہ سو کے قریب لوگ جان بحق ہوئے۔ اکرم بٹ، ہارون آباد: خراب مواصلاتی نظام حادثے کی وجہ ہے۔ حکومت کو اس طرح توجہ کی ضرورت ہے۔ سلیمہ خاتون قریشی، کراچی، پاکستان: میں خود اس ٹرین میں سوار تھی اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس حادثے میں 135 نہیں بلکہ پانچ سو تو یقیناً ہلاک ہوئے ہوں گے، مگر افسوس حکومت پر جو چھپا رہی ہے اور افسوس بی بی سی بھی یہی خبر چھاپ رہا ہے۔ آفتاب علی بلوچ، گھوٹکی، پاکستان: میں نے اتنا بڑا اور خوف ناک حادثہ اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ یہ جو حکومت 150 لوگوں کی ہلاکت کی بات کر رہی ہے، یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے کیوں کہ میں نے وہاں پر جتنی لاشیں دیکھیں ہیں اس کا ایک چوتھائی بھی عوام کو نہیں بتایا جا رہا۔ عوام کو پتہ چلنے سے پہلے ہی حکومتی اداروں نے وہاں سے بہت سے لاشیں گھوٹکی، میرپور، رحیم یار، سکر، بہاول پور اور پنوں عاقل کینٹ کے ہسپتال بھیج دی۔ آپ اس بات سے خود اندازہ لگائیں کہ یہ سارے ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے اور مجھے کیا بہت سے لوگوں کو یہ حادثہ نہیں تخریب کاری لگتی ہے۔ فہد علی، پنوں عاقل، پاکستان: میں نے وہاں دیکھا کہ قیامت تھی۔ اس حادثے میں جو ہلاک ہوئے ان کے لیے میں دعا کرتا ہوں۔ اللہ ان کو جنت میں جگہ دے۔ میرے خیال میں یہ پاکستان کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ صحاب اعوان، ضلعہ گھوٹکی، پاکستان: میں کراچی انجینئرنگ کالیج کا امتحان دینے جا رہا تھا جس وقت یہ حادثہ ہوا۔ میں نے اتنا برا اور خوف ناک حادثہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے نہیں لگتا میں پھر کبھر ٹرین میں سفر کروں گا یا اپنے عزیزوں کو ٹرین میں سفر کرنے دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ مرنا تو سبھی کو ہے مگر میں احتیات کرنا ضروری ہے۔ اعجاز احمد، صادق آباد، پاکستان: میرا تعلق صادق آباد سے ہے جو گھوٹکی سے چند منٹ کے فاصلے پر ہے۔ جس دن یہ حادثہ ہوا میرا بڑا بھائی کراقی سے صادق آباد آ رہا تھا۔ صبح نماز پڑھنے کے بعد جب ٹی وی آن کیا تو یہ خبر سن کر ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور ہم نے فوراً بھائی کے موبائل پر کال کی اور ان کی خیریت پوچھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ بھائی پچھلی گاڑی پر سوار تھا جس کو روہڑی سٹیشن پر ہی روک لیا گیا تھا۔ صبح ہونے پر میں اپنے دوست کے ساتھ گھوٹکی گیا۔ وہاں جا کر مجھے احساس ہو کہ میں کتنے چھوٹے دل کا مالک ہوں۔ مجھ سے وہاں پر جو ہشر تھا دیکھا نہیں جا رہا تھا، خاص طور پر جب میرے سامنے ایک ڈبے سے کسی چھوٹے بچے کی لاش نکالی گئی تو میری ٹانگوں سے جیسے جان ہی نکل گئی۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی تباہی کبھی نہیں دیکھی اور جہاں تک حکومت کا کہنا ہے کہ 132 لوگ مارے گئے ہیں، میں اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مرنے والے کی تعداد کئی زیادہ ہوگی۔ طاہر عباس، دبئی: میں وہ ہوں جو خود ٹرین میں سوار تھا، میں وہ ہوں جس کا بھائی، دوست اور سارے رشتہ دار ٹرین میں تھے، میں وہ ہوں جو ٹرین میں مر گیا، میں ایک عام پاکستانی ہوں جس کا شاید کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آخر یہ کب تک؟ ان حکمرانوں کے ہوتے ہوئے شاید قیامت تک، کیونکہ پیسے دے کر بھول جائیں گے کہ کچھ ہوا بھی تھا۔ راحت ملک، راولپنڈی، پاکستان: جو محمی ہوئے، جن کی جان چلی گئی یہ سب ہمارے بہن بھائی تھے، جس کا ہر پاکستانی کو بہت دکھ ہے۔ ادھر ایک بات پر توجہ دلانا چاہوں گا کہ اس واقعہ کو معمولی نہ لیا جائے اور انصاف سے جو بھی قصوروار ہوں ان کو سزا ملنی چاہیئے۔ اس حادثے کی تحقیق ضروری ہے۔ جس جگہ پر بھی کمزوری ہو اس کو دور کرنا پاکستانی حکومت کا اولین فرض ہے۔ محمد کاشف، کویت: میں شہید ہونے والوں میں سے تو نہیں ہوں، مگر میرے علاقے النور سوسائیٹی ایف بی ایریا میں مقیم ایک لیڈی ڈاکٹر مسز چشتی اور ان کی فیملی چھٹی پر جا رہی تھی کراچی نائٹ کوچ سے۔ ان کا انتقال ہو گیا ہے اس حادثے میں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اس حادثے کی تحقیقات کروانا چاہیئے اور محکمے میں اہل افراد کو ملازمت دینی چاہیئے کیونکے چند غیر ذمہ دار افراد کی غلطی سے سینکڑوں خاندان تباہ ہوئے ہیں۔ افضل احمد، اسلام آباد، پاکستان: مشرف نے بہت کمال کیا زخمیوں کو سی ایم ایچ راولپنڈی میں دیکھنے چلا گیا۔ شاید گھوٹکی جانے کا ٹائم نہیں تھا۔۔۔ بلال خان، راول پنڈی، پاکستان: چلو ایک ٹرین خراب ہو کر ٹریک پر رک گئی۔۔۔اتفاق۔۔۔دوسری نے آ کر اس کو ٹکر مار دی۔۔۔اتفاق۔۔۔مگر کسی کو ہوش نہیں آیا کہ تیسری آنے والی ٹرین کو خبردار کر دیتا؟ روک دیتا؟ ریل وے کے افسر کدھر تھے؟ ریل وے منسٹر کدھر تھا؟ اس حادثے میں کچھ لوگ مارے گئے اور باقی قتل ہو گئے۔ ذمہ دار پاکستانی حکومت۔۔۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی، پاکستان: اس حادثے کی سب سے بڑی وجہ ریل وے کا پرانا نظام ہے جو انگریزوں کے وقت کا قائم ہے۔ ریل وے کے جتنے بھی حادثات ہوئے ہیں ان کی بنیادی وجہ یہی پرانا نظام ہے۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ ریل وے کی نج کاری کر دی جائے۔ شریف زدران، جرمنی: دل بہت اداس ہوا یہ خبر سن کر لیکن ہم تو دعا کر سکتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس حادثے میں مر گئے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو جنت نصیب کرے اور ان کی فیملیوں کو صبر دے۔ میں ان لوگوں کے غم میں شریک ہوں۔ عالمگیر بیگ، سویڈن: مجھے بہت دکھ ہوا، مگر اس دکھ کا کیا فائدہ جو حالات بدل نہ سکے؟ ہم سب یہی کہتے ہیں کہ ہم کو دکھ ہوا مگر کیا ہمارے الفاظ مرنے والوں کو واپس لا سکتے ہیں یا مستقبل میں ایسے حادثات روک سکتے ہیں؟ جس ملک میں ناانصافی ہو وہاں یہی ہوتا ہے۔ عبدالحنان چودھری، فیل آباد، پاکستان: میں اس حادثے سے متاثر نہیں ہوا بلکہ میرے اندر کی انسانیت اور انسان اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ میری تو خدا سے دعا ہے کہ وہ کسی کو ایسا دن نہ دکھائے۔ یونس ملکانی، سندھ، پاکستان: حادثہ ہونا مقدر میں تھا۔ کوئی کسی کو قصور وار نہیں قرار دے سکتا۔ |