 |  گیس پائپ لائن سے خطے کی سیاست پر اہم اثر پڑے گا |
بھارت اور پاکستان ایران سے آنیوالی گیس پائپ لائن کے بارے میں ایک سمجھوتے پر متفق ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیر تیل منی شنکر آئر نے کہا ہے کہ آئندہ چھ مہینوں کے اندر تینوں ممالک اس منصوبے پر عملی کام شروع کردیں گے۔ اس گیس پائپ لائن کے ذریعے تینوں ممالک ایک دوسرے پر منحصر ہوں گے اور اس کی وجہ سے ان کے تعلقات بھی بہتر ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی طےپایا ہے کہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ، بھارت اور قطر، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن سمیت تمام مجوزہ پائپ لائنوں کے بارے میں بھی بات چیت مکمل کرلی جائے گی۔ امید کی جارہی ہے کہ آئندہ عشروں میں جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں گیس پائپ لائنوں کا اہم کردار ہوسکتا ہے۔ آپ کے خیال میں ایران۔پاکستان۔بھارت گیس پائپ لائن سے اس علاقے پر کیا اثر پڑے گا؟ اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
راحت ملک، راولپنڈی: اگر ایسا ہوجائے تو شاید یہ پائیدار حل ہوگا، کہیں یہ نہ ہو کہ پاکستان اس پائپ لائن کی حفاظت نہ کر پائے، اس کے اثرات الٹے نہ ہوجائیں، بجائے فائدے کے نقصان اٹھانا پڑے۔ پرویز اختر، مسقط: مبارک ہو! ویل ڈن!! دونوں ممالک کے لئے یہ اچھا ہے، میں اس سیاسی فیصلے پر دونوں ممالک کی تعریف کرتا ہوں۔ امریکہ کی فکر نہ کریں۔۔۔ عبدل حنان چودھری، پاکستان: انڈیا اس وقت اپنی ترقی کے بھیانک موڑ پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات، سمجھوتے، صرف اپنے آپ کو بچانے کے لئے کررہا ہے، اگر یہ پائپ لائن بن گئی تو انڈیا کی معیشت پر پازیٹیو اثر پڑے گا۔ یار بہادر گوشہ نشیں، ویسٹرن صحارا: انڈیا، ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ پالیسیوں اور تنازعات کے حل میں یہ گیس پائپ لائن ایک ثالثی کے طور پر ہے۔ پاکستان کے لئے یہ ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے ایران سے تعلقات پھر سے استوار کیے جاسکتے ہیں۔ حالیہ عشروں میں پاکستان اور ایران ایک دوسرے سے افغان جنگ پر اختلافات کی وجہ سے دور ہوچکے تھے۔ پاکستان نے طالبان کی کھلی حمایت کی تھی۔ پائپ لائن کی وجہ سے تینوں ممالک علاقائی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔۔۔۔ کامران منور، لاہور: پائپ لائن کے مکمل ہونے سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ انڈیا اور پاکستان آزادانہ طور پر خود ہی اپنے مسائل کا حل کرسکتے ہیں، بغیر کسی تیسرے ملک بالخصوص امریکہ کی مداخلت کے۔ مسعود رحمان، امریکہ: مجھے اس بات کا علم ہے کہ یہ صفحہ پاکستان۔بھارت گیس پائپ لائن کے بارے میں ہے لیکن جس مسئلے کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ہے گلابی اردو، جب بھی میں یہ صفحہ پڑھتا ہوں مجھے ہنسی آتی ہے، پاکستانیوں کو تو پہلے ہی انگریزی کا بخار تھا، بات بات پر انگریزی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اردو کا بھی بیڑہ غرق کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ (ایڈیٹر کا نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا ہے اور وہ جیسے لکھیں گے، جن الفاظ کا استعمال کریں گے، ہم ویسے ہی شائع کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ قارئین کے لئے قارئین کا صفحہ ہے۔) عارف جبار قریشی، سندھ: گیس پائپ لائن منصوبے سے پاک بھارت سمیت علاقے میں زبردست خوش حالی آئے گی۔ اور جب خوش حالی ہوگی تو امن بھی ہوجائے گا۔ اعظم شہاب، ممبئی: اس مجوزہ گیس پائپ لائن سے میرے خیال میں ہند و پاکستان کے درمیان سفارتی تلعقات تو بہتر ہوسکتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے عوام پر اس کا کچھ خاص اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ یہ ایک گیس کی پائپ لائن ہے جس کی بنیاد ضرورت پر ہے اور ضرورت کبھی خلوص و محبت کا پیش خیمہ نہیں بن سکتی۔ ویسے بھی یہ جو ہند و پاک کی قلابازیاں ہورہی ہیں وہ امریکہ کے اشارے پر ہورہی ہیں۔۔۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ایک اچھی خوشی کی خبر پر خوش ہی ہوا جاسکتا ہے۔۔۔ گل انقلابی، دادو: یہ پائپ لائن سندھ اور بلوچستان سے گزرتے ہوئے انڈیا اور ایران کو منسلک کرے گی۔ لہذا اگر سندھیوں اور بلوچوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو ان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہے گی۔پنجابی اور مہاجر پاکستان میں جو کچھ ہے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ سندھی اور بلوچ لوگوں نے اپنی آنکھیں کھولی ہیں۔ پاکستان کہاں ہے اگر سندھ اور بلوچستان اس میں نہیں ہیں؟ یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔ انہیں وسائل کافائدہ اٹھانے دیں ورنہ۔۔۔۔ عمرقریشی، جرمنی: اس سے فکرمند ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی۔ اور بھی اچھا ہوگا اگر اس کے ذریعے عوام کے لئے ملازمت کا راستہ نکل آئے۔ شیر دل قزلباش، امریکہ: جنوبی ایشا کی ترقی کے لئے تو یہ یقینا ایک گراں قدر پیش رفت ہے مگر کیا ہماری حکومت اس پائپ لائن کی حفاظت کر پائے گی؟ ہمارے اپنے ملک کی سوئی گیس کی پائپ لائن تو آئے دن دھماکوں سے ہمکنار ہوتی ہیں! پاکستان کے کئی ملا جماعتیں انڈیا اور ایران کو پسند نہیں کرتیں کیوں کہ ان ممالک کی بیشتر آبادی کا مذہب و مسلک ان سے مختلف ہے! تو کیا ہماری حکومت صرف اس پائپ لائن سے کچھ فائدہ بھی اٹھا پائے گی یا بس ایک انشورنس کمپنی کی طرح پائپ لائن کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہی کرتی رہیں گیں؟ جاوید اقبال ملک، چکوال: دیکھیں اگر تو ڈیولپمنٹ کرنا ہے اور عوام کو جھوٹے خواب نہیں دیکھانے ہیں، اور حقیقتا کام کرنا ہے تو پھر یہ سرحدی قربانیاں دینا ہوں گی اور یقینی طور پر اس سے اس خطے میں رہنے والے تمام لوگوں کو بینیفِٹ ملیں گے۔ لیکن اگر ہم نے دوست دشمن بنانے شروع کیے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ فراز قریشی، کراچی: ابھی امریکہ بہادر کو میدان میں آنے دیں۔۔۔ جیسے ہی امریکہ منع کرے گا پاکستان ایک جنگی سپاہی کی طرح اپنے کپتان امریکہ کے آرڈر پر یہ اگریمنٹ ختم کردے گا۔۔۔ ہماری پالیسی وائٹ ہاؤس میں بنتی ہے۔۔۔۔شوکت ہاؤس میں نہیں۔ شیریار خان، سنگاپور: پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسے معاشی معاہدے بہت دوررس اثرات کے حامل ہیں۔ دونوں ممالک کے موجودہ رہنماؤں نے شاید وقت کی نزاکت کو دیر سے ہی صحیح، مگر درست سمت میں سمجھا ہے۔ پچھلی جنگوں اور سیاسی چپقلشوں سے سوائے تباہی، ذلت اور عالمی رسوائی کے سوا کیا ملا؟ ایسے خوش آئند معاملات سے عوام کا بھی حوصلہ بڑھے گا اور وہ بھی قریب سے قریب تر ہوتے جائیں گے۔ پاکستان اور بھارت کو قریب لانے میں کسی بھی تیسرے ملک کا دخل بھی ضروری ہے ورنہ یہ دونوں ممالک آپس میں بےوجہ کے اختلافات میں الجھتے رہتے ہیں۔ کاش کوئی تیسرا ملک ایسی ہی کوئی پائپ لائن کشمیر سے بھی گزار دے تاکہ کشمیر کا بھی کوئی پائدار حل مل جائے۔
|