BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 May, 2005, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بین الاقوامی منڈی میں چینی اشیاء
چینی اشیاء سستے داموں پر بِک رہی ہیں
چینی اشیاء سستے داموں پر بِک رہی ہیں
چین کی بنی ہوئی اشیاء دنیا کے ہر ملک کے بازاروں میں بِکنے لگی ہیں۔ کپڑے، پلیٹ، ٹارچ، بیٹری، ریڈیو، ٹوتھ پیسٹ، کھلونے، چھتری، جوتے، چپل، وغیرہ جیسی روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء چین سے بن کر آرہی ہیں اور بین الاقوامی منڈی میں سستی قیمت پر بڑے شوق سے خریدی جارہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اشیاء اتنی سستی ہیں کہ مقامی صنعتیں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ یہ گزشتہ ایک عشرے کی کہانی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چین ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر آیا ہے۔

آج گلوبلائزیشن کے دور میں یہ کہنا مشکل ہوگا کہ پابندیاں عائد کردی جائیں۔ لیکن امریکہ نے چینی کپڑوں کی درآمد پر کوٹہ نافذ کردیا ہے۔ تاہم تاریخ کا سفر کچھ یوں ہے کہ ایک دوسرے ملکوں کی منڈیاں ایک ساتھ مل رہی ہیں۔ آپ اپنے ملک میں بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے کسی دوسرے ملک سے سامان خرید سکتے ہیں۔

گلوبلائزیشن کے اس دور میں چینی اشیاء کا آپ کی زندگی میں کتنا دخل ہے؟ اس کے دور رس تنائج کیا ہوں گے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


ظفر اقبال، پاکستان:
میری رائے کے مطابق چین کی مصنوعات اتنی بھی خراب نہیں کہ استعمال نہ ہوسکیں۔ دوسری بات کہ جاپان کی قیمتوں سے تین گنا فرق ہے، اگر جلد خراب ہوجائیں تو بھی ملال نہیں ہوتا۔ چین اس وقت ایک اچھا کاروباری بن کر ابھرا ہے، یہ سچ ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی مصنوعات متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان میں بننے والی اشیاء اتنی مہنگی ہوتی ہیں کہ عام آدمی کی خرید سے باہر ہیں۔

جاوید، جاپان:
امیر ملکوں کا مقابلہ تو ایک حد تک ٹھیک ہے مگر غریب ملکوں کی مقامی صنعتیں جو برباد ہورہی ہیں اس کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ ایسے تو چین امیر ترین ہوجائے گا اور غریب ملکوں کی مقامی صنعتیں برباد۔۔۔

اخلاق احمد، کوئٹہ:
چینی اشیاء اچھی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ان کی بڑے پیمانے پر فروخت سے مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ گورنمنٹ کو کچھ کنٹرول ہونا چاہئے، زیادہ کنٹرول نہیں لیکن درآمدات پر کچھ کنٹرول مقامی صنعتوں کو بچانے کے لئے ضروری ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
اس موضوع پر لکھ بھی چکی ہوں اور آراء سب سے پہلے آبھی چکی ہے۔ لیکن انقلابی صاحب کی آراء نے سرگھماکر رکھ دیا ہے۔ ایک دم ایسے محسوس ہوا جیسے سب کچھ گول گول گھوم رہا ہے کہ اپنی پیاری چیز یا ہستی کے لئے کچھ غلط کا سوچنا بھی بہت تکلیف کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی کچھ ایسا نہ کرے کیسا بھی ہے اپنا ملک ہے ہم اس کے متعلق کچھ غلط کبھی بھولے سے بھی نہیں سوچ سکتے۔۔۔۔

حسن برکاتی، ہنزہ:
بی بی سی کی دریا دلی کا ثبوت کہ گل انقلابی صاحب کی ٹوٹلی ارریلیونٹ اوپینین کو شائع کی، انقلابی صاحب نے ہمارے علاقے (ناردرن ایریاز) کے متعلق کوئی پیش گوئی نہیں۔ یا شاید ہم چائینا کے ساتھ ہوجائیں گے! (نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کے لئے ہے اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ قارئین لکھیں اور اس صفحے پر آپ کا ہی کنٹرول رہے: ایڈیٹر)

ناصر علی، کویت:
چین کی اشیاء کی وجہ سے ہی آج غریب آدمی نئے ڈریس پہن سکتا ہے اور نئی پلیٹوں میں کھانا کھاسکتا ہے۔ مختصر بات یہ کہ چین نے غریب لوگوں کو اچھی زندگی دی ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میں سمجتھا ہوں کہ چین نے ساری دنیا پر بہت بڑا احسان کیا کیوں کہ جاپان اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے اشیاء کی ریٹ بہت زیادہ ہے اور وہ ترقی پزیر ممالک ایفورڈ نہیں کرسکتے۔

تنویر رزاق، نور فاطمہ فیبرِکس:
چین کی پروڈکٹس سستی ضرور ہیں لیکن پائدار نہیں ہیں۔ جاپان کی چیزوں کا تو ایک معیار ہے۔ چین کی چیزیں لے تو لیتے ہیں لیکن ان کی کوئی بھی گارنٹی نہیں ہوتی کہ کتنی دیر چلیں گیں۔

اشفاق خان، جرمنی:
واشنگٹن میں واقع ادارے اِمپلائمنٹ پالیسی فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا جی ڈی پی اگلے دس برسوں میں امریکہ سے زیادہ ہوجائے گا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ایسا پہلی بار ہوگا۔ آج کوئی بھی چینی اشیاء کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ چین کو اب کوالٹی پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی فوجی طور پر چین امریکہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ لیکن یہ سمجھنا اہم ہے کہ امریکی فوج امریکی معیشت کی بہتر کارکردگی پر منحصر ہے۔ جس دن چین کے پاس دوسروں سے زیادہ پیسہ ہوگا اس کا ڈیفنس بھی بہتر ہوگا۔۔۔۔

شیر اکبر، کویت:
چین سمجھ گیا ہے کہ آج کل کی ضرورت کیا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ عمل کررہا ہے، نہ کہ ہماری طرح پانچ سالہ منصوبہ بنارہا ہے۔

رضوان الحق، پیرس:
چینی معیشت ایک جِن کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اور باقی ماندہ دنیا اس سے کافی پریشان ہے۔ لیکن میرے خیال میں باقی ماندہ دنیا کو پریشان نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ چینی اشیاء اچھی کوالٹی کی نہیں ہیں۔ میں نے کئی دفعہ چینی سامان پرچیج کرنے کے بعد اگلی دفع خریدنے سے توبہ کی ہے۔ کیا کہتے ہیں: سستا روئے روز روز اور ۔۔۔۔۔

عمران، امریکہ:
چین نے زندگی آسان کردی ہے۔ مگر اس سے بہت سے چودھریوں کی پیٹ پر لات پڑی ہے۔ اگر چینیوں کی صحت اچھی رہی تو وہ بہت ترقی کرسکتے ہیں۔

علی حیدری، ٹورانٹو:
چین پاکستان دوستی زندہ آباد۔

اظفرخان، ٹورانٹو:
چین نے ساری دنیا میں سستی چیزیں پھیلاکر بہت ساری معیشتوں کو تباہ کیا۔چینی محنت کرتے ہیں مگر آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ اس معاشرے میں عوام کو کیا ملتا ہے۔ حکومت جبر سے کام کرواتی ہے اور یہاں تک کہ جیل کو بھی فیکٹری بنایا ہوا ہے۔ اس بات کا مقابلہ آزاد دنیا کی لیبر مارکیٹ جہاں اوپن لیبر پالیسی ہو مقابل نہیں کرسکتا۔ ضروری ہے کہ مقامی صنعت کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے قانونی پابندی لگائی جائے۔ایک طرف امریکہ اور مغربی طاقتیں ہیں جو ہائی ہائی ٹیک پر ہیں اور لو ٹیک پر چین چھا گیا ہے۔ تو انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں کا کیا مستقبل ہے؟

عرفان خواجہ، لاہور:
چین کو اپنے کرنسی کا ویلو فِکس کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے برآمدکاروں کو جو سبسیڈی مل رہی ہے وہ ختم ہو۔ یہی وجہ ہے جس سے چینی اشیاء کی قیمتیں سستی ہیں۔

مرسلین نیازی، بیجنگ:
چین ایک عظیم قوم ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کو اپنے فیصلے پر عمل کرنا چاہئے اور فری ورلڈ کو چین سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو حق ہے کہ وہ سستے سامان خریدیں۔ دنیا کی منڈی میں چینی اشیاء کو روکنا ناممکن ہے۔

گل انقلابی سندھی، دادو:
چین اور امریکہ کے درمیان اب جنگ ہوگی اور پاکستان چین کا ساتھ دے گا، جیسے ترکی اور سلطنت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن چین ایک ملک کی حیثیت سے کامیاب رہے گا اور پاکستان ختم ہوجائے۔ آزاد بلوچستان اور سندھودیس پیدا ہوں گے، اور پنجاب مشرقی پنجاب میں شامل ہوجائے گا۔ اور صوبہ سرحد افغانستان کا حصہ ہوجائے گا۔

ابراہیم، سیالکوٹ:
اگر ترقی پزیر ممالک کو ریلیف مل رہا ہے تو کسی کا کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی بہت بڑی اچیومنٹ ہے، ہاں مگر یہ بات ٹھیک ہے کہ چین کی اشیاء کا اسٹینڈرڈ لو ہوتا ہے۔ بہر حال چین ڈیزرو کرتا ہے، اپنے واسٹ آؤٹ پوٹ کے لئے۔

شیریار خان، سنگاپور:
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب جاپان نے اپنے عوام کی محنت کے ذریعے صنعتی ترقی کرکے ساری دنیا میں الیکٹرانِک اشیاء کی بھرمار کردی اور یورپ کے مقابلے میں جاپان کی صنعتی اشیاء کی قیمتیں بھی مناسب تھیں۔ موجودہ دور میں سرد جنگ ختم ہونے کے بعد چین نے اپنی صنعتی ترقی کی ساری دنیا میں دھوم مچادی اور چین کی اشیاء کی قیمتیں یورپ اور جاپان کے مقابلے میں اور بھی کم ہیں۔ اس لئے ساری دنیا میں چین کی اشیاء کی مانگ بہت زیادہ ہے۔چینی عوام بہت محنتی اور کاریگر ہوتے ہیں۔ چینی عوام چاہے چین میں ہوں، تائیوان میں ہوں یا پھر سنگاپور میں ہوں ہر جگہ انہوں نے اپنی کارکردگی سے اپنے ملک اور قوم کا نام روشن کیا ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
بات گلوبلائزیشن کے اس دور کی ہو یا کچھ وقت پہلے کی۔ چین اور چینی عوام کی ہمت اور مستقل مزاجی کو خارجی تحسین نہ پیش کرنا یقینا ایک زیادتی ہوگی۔ اور جو کچھ آج انہوں نے نام کمایا ہے وہ ان کی اپنی محنت ہے، تو کسی کو بھی ان کی اس کمائی گئی ہمت اور مستقل مزاجی کو مٹی میں ملانے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔

شاہزیب خان، ایتھنز:
چین کی بنی ہوئی چیزیں ہماری زندگی میں ایسے ہیں جیسے کہ چینی، سوگر، اور اب ہمیں ان چیزوں کی عادت پڑ گئی ہے جو چھڑانا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔

محمد احمد، کراچی:
یہ ایک اہم ایشو ہے کہ چینی معیشت دنیا کی معیشت پر اثرانداز ہورہی ہے۔ کئی جمہوری ممالک کے لئے چین کی شرح ترقی تعجب کی بات ہے۔ جب انہیں لگے کہ وہ چین کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو وہ کوئی ایسا طریقہ تلاش کریں گے کہ ٹینسن پیدا ہو۔ یہ ایک ٹریجڈی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کوئی قانون نہیں ہے۔

66آپ کی رائے
بھارت۔چین تعلقات کا علاقے پر کیا اثر ہوگا؟
66چین سے پریشانی
چین نے عالمی تجارت کے حامیوں کو پریشان کر دیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد