BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 May, 2005, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین سے یورپی یونین کی پریشانی

چین
ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی عالمی منڈی کے کھلنے کے چین نے دنیا کی پریشان کر دیا ہے۔
اس سال کے شروع میں ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر عالمی منڈی میں فروخت پر لگائی تمام پابندیاں ختم کی گئیں تو ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ چین اس سے فائدہ اٹھائے گا۔

البتہ کسی تجزیہ نگار کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ چین ٹیکسٹائل کی صنعت پر اتنا جلدی غلبہ پا لے گے۔

تاریخی طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت کو پر عمومی صنعتی ترقی میں مرکزی کردار رہا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت میں ترقی سے دوسری کئی صنعتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

لیکن اب ٹیکسٹائل کی صنعت دنیا کے بڑی تیزی کے ساتھ چین کے غلبے میں جا رہی ہے۔

انٹرنیشنل ٹیکسٹائل گارمنٹس اور لیدر ورکر فیڈریشن جس کا صدر دفتر پورپی یونین کے ہیڈکواٹر برسلزمیں واقع ہے اس چین کے ٹیکسٹائل کی صنعت پر غلبے سے پریشان ہے۔

انٹرنیشنل ٹیکسٹائل گارمنٹ اور لیدر ورکر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل نیل کیرنی کے مطابق 2005 کے پہلے حصے میں چین کی ٹیکسٹائل صنعت نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں اتنا زیادہ حصہ لے لیا ہے جس سے خدشہ پیدا ہو گیا کہ یورپ اور دوسرے ملکوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔

انٹرنیشنل ٹیکسٹائل گارمنٹس اور لیدر ورکر فیڈریشن کے سکریٹری جنرل نیل کیرنی کے مطابق جنوری سے لے کر اب تک چین نے شرٹ کی برآمد میں 164 فیصد اضافہ کیا ہے۔ پچھلے سال اسی عرصے میں چین نے پندرہ ملین شرٹ بر آمد کی تھی جبکہ اس سال چین نے اب تک 39 ملین شرٹ برآمد کر چکا ہے۔

اسی طرح چین نے ٹی شرٹ کی برآمد میں 328 فیصد اضافہ کیا ہے۔ پچھلے سال اسی عرصے میں چین نے 84 ملین ٹی شرٹ برآمد کی تھیں لیکن اس سال ابھی تک چین 361 ملین ٹی شرٹ برآمد کر چکا ہے۔

عورتوں کے لباس میں چین نے پچھلے سال کے مقابلے میں 600 فیصد اضافہ کیا ہے۔اعداد شمار کے مطابق پچھلے سال اسی عرصے میں چین نے چار ملین عورتوں کے گارمنٹس برآمد کیے تھے جبکہ اس سال ابھی تک وہ 26 ملین گارمنٹس برآمد کر چکا ہے۔

اسی طرح چینی سویٹر اور پل اوور کی برآمد 13 ملین سے بڑھ کر 125 ملین ہو چکی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل پر اٹھائی گئی پابندیوں پر غور کریں گے۔

ٹیکسٹائل کی صنعت پر چین کے غلبے کی وجہ سے غریب ملکوں میں غربت اور بڑھ سکتی ہے اور بنگلہ دیش کو جس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کافی مشہور تھی، زیادہ نقصان پہچنے کا امکان ہے۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ٹی او) کے ترجمان کیتھ راک ویل چین کے ٹیکسٹائل صنعت پر مبینہ غلبے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے اب تک حاصل ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق امریکہ کی برآمدات میں بھی 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کیتھ راک ویل کے مطابق چھوٹے ملکوں جن میں ویت نام، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ہونڈرس جیسے ملکوں کو ٹیکسٹائل مصنوعات پر پابندیوں کو ہٹانے سے فاہدہ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد