چینی کپڑے، فرانس کی پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس نے یورپی یونین کے رکن ملکوں میں چینی کپڑوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین ٹیکسٹائل مصنوعات میں ایک بالا دست طاقت ہے۔ فرانس کے وزیرصنعت پیٹرک ڈوژیاں نے اتوار کو دیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر چینی ٹیکسٹائل مصنوعات کو محدود نہ کیا گیا تو صرف فرانس ہی میں کم سے کم سات ہزار افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے کمشنر برائے تجارت پیٹر منڈسن اس معاملے کی تحقیقات شروع کرا چکے ہیں۔ چین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ٹیکسٹائل کی تیس سال قبل مقرر کی جانے والی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ 1974 میں ملٹی فائبر معاہدے کے تحت بنائے جانے والے اس حصہ داری نظام میں جو اس سال یکم جنوری کو ختم ہوا ہے ہر ملک کے لیے برآمدات کی ایک حد مقرر کی گئی تھی۔ تنظیم برائے عالمی تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2003 تک چین دنیا بھر میں ٹیکسٹائل کا سترہ فی صد تیار کرتا تھا تاہم اندازہ یہ لگایا گیا تھا کہ آئندہ تین سال کے دوران اس مقدار میں پچاس فی صد کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ چین اپنی ارزاں محنت اور کم پیداواری اخراجات کا فائدہ اٹھائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||