’حراست میں نہیں لیا جائے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کی طرف سے وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات کی نادہندگی کے مقدمے میں ضمانت کی منسوخی کے باوجود قومی احتساب بیورو وفاقی وزیر کو حراست میں نہیں لے گی۔ بیورو کے پراسیکیوٹرجنرل عرفان قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وفاقی وزیر کی ضمانت کا معاملہ اب احتساب عدالت دیکھے گی جو بارہ مارچ سے اس کیس کے سماعت شروع کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس اب احتساب عدالت منتقل کر دیا ہے۔وفاقی وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے یونائٹڈ بینک سے انہتر کروڑ روپے کا قرضے اپنی شاہ جیونہ ٹیکسٹائل مل کے لئے حاصل کیا اور اسے دانستہ واپس نہیں کیا۔ عرفان قادر کے مطابق کیونکہ اس کیس میں تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں لہذا وفاقی وزیر کو قومی احتساب بیورو کی طرف سے حراست میں لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ اب احتساب عدالت ہی وفاقی وزیر کی ضمانت کا فیصلہ کرے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ حکومت یا قومی احتساب بیورو کی صوابدید پر ہے کہ وہ وفاقی وزیر کو حراست میں لیتی ہے یا نہیں۔عام طور پر اگر کسی ملزم کی ضمانت منسوخ ہو جائے تو اسے حراست میں لیا جاتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کو ضمانت کے مسئلے پر عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ فیصل صالح حیات ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں اور پندرہ مارچ کو وطن واپس لوٹیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||