انڈیا کو فائدہ، بنگلہ دیشی بےروزگار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ایک قانون کے تحت جو نئے سال میں لاگو ہوگا، ٹیکسٹائل کی صنعت میں کام کرنے والے لاکھوں بنگلہ دیشیوں کی نوکری چلی جائے گی جبکہ چین اور انڈیا کو فائدہ ہوگا۔ امدادی تنظیم کرِسچین ایڈ نے کہا ہے کہ پہلی جنوری سے لاگو ہونے والے اس قانون کے تحت بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل کی صنعت میں لگ بھگ ایک ملین ملازمتوں کا نقصان ہوگا۔ بنگلہ دیش میں ڈیڑھ ملین لوگ اس صنعت میں کام کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی برآمدات سے اسُی فیصد آمدنی کپڑوں کی فروخت پر مبنی ہے۔ ڈبلیو ٹی او کے نئے قانون کے تحت بنگلہ دیش کے علاوہ کمبوڈیا، سری لنکا اور نیپال میں ٹیکسٹائل کی صنعت میں کام کرنے والوں کی نوکریاں چلی جانے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی تجارتی قوانین میں اس تبدیلی کی وجہ سے مغربی ملکوں کے صارفین فائدے میں رہیں گے کیونکہ ان کے لیے سستے کپڑوں کی فراہمی بڑھ جائے گی۔ ڈبلیو ٹی او کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اس قانونی تبدیلی کی وجہ سے پوری دنیا میں ستائیس ملین ملازمتوں کا نقصان ہوگا۔ کرسچین ایڈ نے برطانوی کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی ضرورتوں کو سمجھیں اور ان کی نوکریاں برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ کرسچین ایڈ کے مطابق ٹیکسٹائل کے شعبے میں اکثر عورتیں کام کرتی ہیں جو بےروزگاری کی صورت میں ’جنس فروشی‘ کے دھندے میں جاسکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||