BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 December, 2004, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا:’ٹیکسٹائل میں انقلاب‘

دلی کے قریب واقع میٹرکس کلودنگ کی فیکٹری کا ایک منظر
دلی کے قریب واقع میٹرکس کلودنگ کی فیکٹری کا ایک منظر
بھارت کی کپڑوں کی صنعت کے لیے اکتیس دسمبرسے زیادہ خوش آئیند دن شاید کوئی اور نہ ہوگا۔ اس دن تیس سال پرانے انٹرنیشنل فائیبر ایگریمنٹ کی معیاد ختم ہو رہی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ بھارت کو اس سے خاصہ فائدہ ہوگا۔

مذکورہ معاہدہ کے تحت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اربوں ڈالر کی کپڑوں کی برآمد میں مختلف ممالک ایک مقررہ کوٹہ کے تحت حصہ لے رہے تھے۔

معاہدہ کے ختم ہونے سے جہاں بھارت میں خوشی کی لہر ہے وہاں ایشیا کے کئی دوسرے ممالک کو کپڑے کی برآمد میں کمی کا خدشہ ہے۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ایک تحقیق کے مطابق 2010 تک کپڑوں کی عالمی تجارت میں بھارت کا حصہ تین فیصد سے بڑھ کر پندرہ فیصد ہو جائے گا۔

دلی کے قریب واقع میٹرکس کلودنگ نامی کمپنی کے مالک گوتم نائر کے خیال میں فائیبر ایگریمنٹ کا ختم ہونا کسی بِگ بینگ یا بڑے دھماکے سے کم نہیں ہے۔

’ یہ دنیا بھر میں ٹیکسٹائل سے منسلک لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی تبدیلی ہوگی‘۔

News image
گوتم نائرمعاہدہ کی معیاد میں خاتمہ سے بہت پرامید ہیں۔

گوتم نائر نے مزید کہا’یکم جنوری سے ہم ٹیکسٹائل کے حوالے سے ایک بالکل نئی دنیا میں کھڑے ہوں گے اور بھارتی کمپنیوں کے لیے برآمدات بڑھانے کے شاندار مواقع پیدا ہوں گے۔‘

بھارت میں پینتیس ملین لوگ کپڑے کی صنعت میں کام کرتے ہیں اور یہ صنعت بھارت کی برآمدی آمدنی کا ایک چوتھائی حصہ بنارہی ہے۔

اب تک بھارت اپنے برآمدی کوٹے کی ضروریات کو بخوبی پورا کرتا رہا ہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ کوٹہ کی پابندی ختم ہونے سے بھارتی برآمد میں زبردست اضافہ ہوگا۔

انڈین کاٹن ملز فیڈیریشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2010 تک بھارت کی کپڑے کی برآمد موجودہ بارہ بلین سے بڑھ کر چالیس بلین ڈالر ہو جائےگی۔

فیڈیریشن کی سیکریٹری جنرل ڈی کے نائر کے مطابق ’ کپڑے کے حصص کی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار بھی برآمد میں اضافہ کے بارے میں پرامید ہیں‘۔

لیکن ہر کوئی اتنا پرامید نہیں ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت فائیبر ایگریمنٹ کے خاتمہ سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔

News image
رتنا راؤ: ہمیں اپنےائیر پورٹ اور دیگر سہولتیں جدید بنانی ہیں۔چین کے برعکس ہماری حکومت نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں۔

رتنا راؤ، جوکہ دلی میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کی خریداری ایجنٹ ہیں، کا کہنا ہے’ابھی تک کچھ واضع نہیں۔ حکومت نے ضروری منصوبہ بندی نہیں کی۔ مثلاً میرا خیال نہیں کہ حکومت نے کارگو کی سہولتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے‘۔

اس بات کا خدشہ بھی ہے کہ کوٹہ کے ختم ہونے سے اصل فائدہ بھارت کو نہیں بلکہ چین کوگا۔لیکن ڈی کے نائر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

’مانا کہ چین کپڑے برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن چین کے علاوہ کئی دوسرے ممالک بھی اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے کے اہل ہیں۔‘

انہوں نےمزید کہا ’ اگرچہ زیادہ تر رپورٹوں کے مطابق چین کے بعد بھارت ہی دوسرا بڑا برآمدی ملک ہوگا لیکن پاکستان، مصر اور ترکی بھی برآمدی کوٹے میں تبدیلی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد