’چین کا رویہ قابلِ افسوس ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کے وزیرِخارجہ نے چینی حکام کی جانب سے ملک میں جاری جاپان محالف مظاہروں پر معافی نہ مانگنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نوبو تاکا میچیمورا نے یہ بات اپنے دورۂ بیجنگ کے بعد کہی۔ اس دورے کے دوران چینی وزیرِ خارجہ لی ژاؤ زنگ نے کہا تھا کہ چین کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جاپانی وزیرِخارجہ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ چینی حکام اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ جاپانی عوام موجودہ صورتحال سے کس قدر ہراساں ہیں‘۔ اس موقع پر چینی وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ ’جاپان نے تائیوان کے مسئلے، کچھ دیگر بین الاقوامی مسائل اور خصوصاً تاریخ میں ردو بدل کے معاملے جیسے متعدد مواقع پر چینی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔‘ خبر رسان ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے نائب وزیرِخارجہ وو ڈوائی کا کہنا ہے کہ ’ 1972 میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے آغاز کے بعد سے چین اور جاپان کے تعلقات گرم جوشی کے نچلے ترین مقام پر ہیں‘۔ ٹوکیو میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تناؤ کے نتیجے میں متاثر ہونے والی تجارت اور سرمایہ کاری کی بناء پر پریشان ہیں۔
جاپانی وزیرِخارجہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کو کم کر نے کے لیے چین کے دارالحکومت بیجنگ گئے تھے۔ ان کے دورے کا ایک مقصد چینی حکام سے اس بات کی یقین دہانی حاصل کرنا بھی تھا کہ چین میں موجود جاپانی مفادات کی حفاظت کی جائے گی۔ نوبو تاکا مچیمورا کی چین آمد کے موقع پر بھی چین کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے۔ چینی لوگ جاپان میں چھپنے والی تاریخ کی ایک کتاب کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے جنگی مظالم پر پردہ ڈالا گیا ہے ۔ جاپان کے سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے کوششوں کی وجہ سے بھی چین میں جاپان کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ چین اور جاپان کے تعلقات گزشتہ بدھ کو اس وقت مزید کشیدہ ہوگئے تھے جب جاپان نے مشرقی چینی سمندر کے متنازعہ علاقے میں تیل کی تلاش کی اجازت دے دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||