چین و جاپان کے تلخ بیان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین اور جاپان کے درمیان قدرتی گیس کے ذخائر اور جنگ کے زمانے میں جاپانی رویے پر تلخ بیانات کا تبادلہ بدستور جاری ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو کی طرف سے ایسٹ چائنہ سی کے متنازعہ علاقے میں تیل کے لیے کھدائی کے حقوق کا اجراء ’انتہائی اشتعال انگیز‘ اقدام تھا۔ لیکن جاپان کے وزیر خارجہ نوبوٹاکا ماچی مُورا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ہفتے کے اختتام پر چین میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اس معاملے پر سخت موقف اپنائیں گے۔ چین میں حالیہ دنوں میں اس بات پر شدید مظاہرے کیے گیے ہیں کہ جاپان نے اپنی نصابی کتابوں میں جاپان کی طرف سے جنگ کے دوران ڈھائے گئے مظالم کو گھٹا کر بیان کیا گیا ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں میں ٹوکیو کی طرف سے سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کی کوششوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے اس نے ٹوکیو کی طرف سے بدھ کو دیئے گئے اس بیان پر بھی جاپانی حکومت سے احتجاج کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جاپان ایسٹ چائنہ سی میں تیل کی کھدائی کے لیے موصولہ درخواستوں پر غور شروع کر رہا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان کِن گانگ نے کہا کہ یہ فیصلہ چین کے حقوق اور بین الاقوامی تعلقات کی سخت خلاف ورزی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||