چین پرامریکہ اور تائیوان کی تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور تائیوان نے چینی کانگریس کی جانب سے اس قانون کی منظوری پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت بیجنگ کو یہ قانونی حق حاصل ہو گیا ہے کہ اگر تائیوان یک طرفہ طور پر خود مختاری کااعلان کرے تو تو چین اس کے خلاف طاقت استعمال کر سکتا ہے۔ چینی پارلیمنٹ گزشتہ روم ایک نئے قانون کی منظوری دی تھی جس کے مطابق اگر تائیوان نے آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا تو اسے طاقت کے زور پر ایسا کرنے سے روکنا جائز ہو گا۔ تائیوانی کونسل کے چیئر مین جوزف وو نے چینی قانون کو ’سنجیدہ اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقائی سلامتی متاثر ہو گی۔ وائٹ ہاؤس نے اس قانون کی منظوری کو ایک بد قسمتی قرار دیا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ تسلیم کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر مفاہمت کی پُر امن کوششیں ناکام ہو گئیں اور تائیوان نے باقاعدہ آزادی کا اعلان کیا تو وہ اس کے خلاف طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس سے تائیوان اور چین کے درمیان تعلقات میں پیش رفت متاثر ہو گی۔ اس نئے قانون کے تحت ہانگ کانگ کی طرز پر ’ ایک ملک، دو نظام‘ کے تحت تائیوان کو چین میں شامل کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ تائیوان نے کہا کہ اس قانون سے علاقے میں سلامتی کی صورتحال پر برا اثر پڑے گا۔ چین کے وزیر اعظم ون جیابو نے کہا کہ اس قانون کا مقصد تعلقات کو مضبوط کرنا ہے اور یہ جنگ کی منظوری کا بل نہیں ہے۔ چین کی پارلیمنٹ نے دفاعی بجٹ میں بارہ فیصد اضافہ کا اعلان کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ قانون کی منظوری سے علاقے میں تناؤ کا بحث بنے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||