وسط ایشیامیں ہلچل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودہ سال قبل سویت یونین کی مسماری کے وقت جب وسط ایشیاء کی سویت جمہوریائیں اچانک آزادی سے ’دوچار‘ ہوئی تھیں تو اس زمانہ میں ان سب جمہوریاؤں میں سویت دور کے بر سراقتدار کمیونسٹ سربراہوں نے فی الفور اپنی اپنی کمیونسٹ پارٹیوں کا نام بدل دیا لیکن اپنی پارٹیوں کے ڈھانچہ کے بل پر اپنا اقتدار برقرار رکھا اور حکمرانی کا انداز بھی وہی سویت دور کا جاری رکھا- بہت سے سیاسی مبصرین کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ ان جمہوریاوں میں اقتدار کا تسلسل برقرار رہا جسے سیاسی استحکام سے تعبیر کیا گیا۔ مثال کے طور پر قزاقستان میں نور سلطان نذر بائیف سن نوے سے بر سر اقتدار ہیں- ازبکستان میں اسلام کریموف سن نواسی سے اقتدار پر قابض ہیں- تاجکستان میں گو صدر امام علی رحمانوف کو کئی سال خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ بھی سن بانوے سے برسر اقتدار ہیں۔ ترکمانستان میں صدر سپر مراد نیازوف کی بھی گرفت اقتدار پر سن نوے سے مضبوط ہے- اور خود کرغستان میں عسکر آقائیف پچھلے پندرہ سال سے حکمران تھے۔ لیکن کرغستان وسط ایشیاء کی پہلی جمہوریہ ہے جہاں سویت دور کی پرانی کمیونسٹ قیادت کا تختہ الٹا ہے- اور وہ بھی ان رہنماوں کے ہاتھ جو معزول صدر عسکر آقائیف کے قریبی ساتھی تھے اور ایک طویل عرصہ تک اقتدار میں شریک رہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کرغستان میں اس اچانک ڈرامائی انقلاب کی اصل وجہ کیا ہے؟ اور کیا وسط ایشیاء کی دوسری جمہوریاوں کی قیادت کو واقعی اسی نوعیت کا خطرہ ہے جس کا شکار عسکر آقائیف ہوئے ہیں؟ مجھے یاد ہے کہ سن انیس سو بانوے میں وسط ایشیاء کی ان جمہوریاوں کی نئی نئی آزادی اور ان کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں پروگراموں کے ایک سلسلہ کا مواد جمع کرنے کے لئے جب میں کرغستان میں تھا تو اس وقت عسکر آقائیف کی مقبولیت اور اقتدار پر ان کی مضبوط گرفت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پچاس لاکھ کی آبادی کی اس جمہوریہ پر جو جغرافیائی اعتبار سے زبردست اہمیت کی حامل اور جو یورینیم اور دوسری معدنیاتی دولت سے مالا مال ہے ، عسکر آقائیف کا اقتدار دائیمی رہے گا- ہاں البتہ دانشورں اور سیاسی تجزیہ نگار وں نے باربار اس بات کا ذکر کیا کہ ملک کی سیاست ، شمال اور جنوب میں بری طرح سے بٹی ہوئی ہے۔ عسکر آقائیف کا تعلق شمال سے ہے لہذا تمام تر ترقی اسی علاقہ میں ہوئی ہے۔ جنوب بے حد پسماندہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ حزب مخالف کی تحریک کو اسی علاقہ میں فروغ حاصل ہوا ہے - پھر ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جنوبی کرغستان میں ازبکوں کی ایک بڑی اقلیت آباد ہے۔ سیاسی اتھل پتھل کا نقطہ آغاز کرغستان میں سیاست میں اتھل پتھل کا آغاز دراصل سن بانوے میں ہوا تھا جب چین کی سرحد پر واقع اس جمہوریہ پر امریکا کی نظر عنایت پڑی- بہت سے لوگ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ وسط ایشیا کی جمہوریاوں میں کرغستان پہلی جمہوریہ تھی جس کے ساتھ امریکا نے سفارتی تعلقات استوار کئے تھے اور بڑے پیمانہ پر اقتصادی امداد دی تھی۔ اس زمانہ میں امریکا نے فوجی طور پر کرغستان میں قدم جمانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن وہاں ساٹھ سال سے جمے روس کے فوجی اور اقتصادی اثر نے ان کوششوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا- پھر عسکر آقائیف ، روس اور امریکا کے مفادات کی لڑائی سے خوب فایدہ اٹھاتے رہے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے مسلم بنیاد پرستی کا بھی ہوا کھڑ ا کیا۔ اس دوران گیارہ ستمبر اور افغانستان کے خلاف جنگ نے اچانک بساط الٹ دی- امریکا نے دہشت گردی کی جنگ کی دہائی دے کر کرغستان میں تین فوجی اڈے حاصل کر لئے- اور نہ صرف کرغستان میں بلکہ ازبکستان اور تاجکستان میں بھی – اس سے پہلے امریکا کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ اسے وسط ایشیاء میں یوں اچانک فوجی اڈے ایسی آسانی سے مل جائیں گے۔ کرغستان میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کے بعد معزول صدر آقائیف کا رویہ اچانک بدل گیا وہ سمجھے کہ انہیں ان اڈوں کی بدولت امریکا کی پشت پناہی حاصل ہو گئی ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے استبدادی ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دئے- یہ ستم ظریفی ہے کہ کرغستان میں حزب مخالف میں وہی رہنما پیش پیش ہیں جو ایک زمانہ میں صدر آقائیف کے قریبی ساتھی تھے-نئے عبوری صدر قربان بیک بقائیف ان کے وزیر اعظم تھے جن کو انہوں نے برطرف کر کے نظر بند کر دیا تھا- قومی سلامتی کے نئے وزیر فیلکس قولوف ، عسکر آقائیف کے نایب صدر تھے اور وزیر داخلہ رہ چکے ہیں- اور روزہ آتونوا سابق وزیر خارجہ ہیں۔ حزب مخالف کے ان رہنماوں کی تحریک کی آڑ میں مسلم شدت پسند عناصر نے بھی قدم جمانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن کرغستان میں اصل کشمشکش روس اور امریکا کے درمیان ہے اور اسی کے ساتھ یہاں کے حالات میں چین کا بھی گہرا مفاد ہے کیونکہ اس کی طویل سرحد کرغستان سے ملتی ہے۔ روس نے بظاہر تو کرغستان میں مناس ، قرشی اور خان آباد میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کی مخالفت نہیں کی لیکن دل ہی دل میں وہ اپنے پچھواڑے امریکی فوجی موجودگی پر خوش نہیں اور اب عسکر آقائیف کی حکومت کاتختہ الٹے جانے پر وہ سخت ناراض ہے۔ روس یہ محسوس کرتا ہے کہ ایک طرف جارجیا اور یوکرین میں اور دوسری طرف کرغستان میں جو روسی زیر اثر علاقہ مانا جاتا ہے اوپری طور پر جمہوری انقلابات کے پس پردہ اس کے اثرو نفوذ کے خلاف جنگ ہو رہی ہے۔ عوامی مظاہروں اور بغاوت کے بل پر کرغستان میں عسکر آقائیف کی حکومت کا تو تختہ نہایت سرعت کے ساتھ الٹ گیا ہے لیکن مستقبل کے آثار خوش آیند نظر نہیں آتے کیونکہ حزب مخالف کے رہنما جنہوں نے اس وقت اقتدار سنبھالا ہے آپس میں اختلافات کا شکار ہیں- پھر ان میں طالع آزمائی بھی زوروں پر ہے- قربان بیک بقائیف اور فیلکس قولوف ایک دوسرے کو زیر کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے در پے ہیں- سابق وزیر خارجہ روزہ اوتونوا امریکیوں کی منظور نظر سمجھی جاتی ہیں- - بلا شبہ ان رہنماوں کی باہمی کشمکش کرغستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کرغستان کے پڑوس میں دوسری جمہوریاوں ، قزاقستان ، ازبکستان اور تاجکستان میں کہیں عوامی جمہوری بغاوت کی لہر وہاں بر سراقتدار سربراہوں کے لئے تو خطرہ ثابت نہیں ہوگی۔ پہلے ہی ازبکستان میں مسلم شدت پسند تنظیم حزب التحریر کا زبردست اثر ہے اور صدر اسلام کریموف بھی امریکا کے بل پر آمرانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے سنگین الزامات ہیں- اسی طرح قزاقستان میں صدر نور سلطان نذر بائیف اور تاجکستان میں امام علی رحمانوف کے خلاف سیاسی مخالفت کا لاوا پک رہا ہے۔ اور ادھر ترکمانستان میں حیاتی صدر سپر مراد نیازوف حزب مخالف کو کچلنے میں کامیاب تو رہے ہیں لیکن مخالفت کی دھند پوری طرح صاف نہیں ہوئی ہے۔ پھر ان جمہوریاوں کو ایک بڑی پیچیدگی اسٹالن کے دور کے ورثہ میں ملی ہے۔ پھر اس زمانہ میں بڑی تعداد میں روسی ان جمہوریاوں میں آباد کئے گئے جس کی وجہ سے سیاسی پیچیدگیاں اب اور سنگین ہوتی جارہی ہیں جب کہ ان جمہوریاوں میں قوم پرستی سر اٹھا رہی ہے۔ غرض ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وسط ایشیاء میں سیاسی پیچیددگیوں ، بے چینیوں اور رقابتوں کا لاوا تیزی سے پک رہا ہے اور کسی وقت بھی آتش فشاں کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||