ازبکستان: تشدد کے مزید واقعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان میں ایک دھماکہ ہوا ہے اور مسلسل جاری رہنے والے تشدد کے پانچویں روز ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس سے زائد ہو چکی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بخارا کے اس دھماکے میں ایک شحص ہلاک ہوا ہے جبکہ خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے والی ایک عورت زخمی ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکہ اسی علاقے میں ہوا ہے جہاں اتوار کی رات بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ازبک وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دھماکے منظم منصوبہ بندی کے تحت ایک وہابی گروہ کر رہا ہے جس کا القاعدہ کے نیٹ ورک سے تعلق ہے۔ ان حالیہ واقعات سے قبل ماضی میں ازبکستان میں کبھی خودکش حملے نہیں کئے گئے۔ ملک کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو حاصل ازبک حمایت ان حملوں کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ابتدائی تشدد آمیز واقعات میں پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ازبک معاشرہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔ ازبک حکام کے مطابق ان حملوں کے سلسلے میں کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||