ازبکستان میں انیس افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی ایشیا جمہوریہ ازبکستان میں تشدد آمیز کارروائیوں کے مختلف واقعات میں کم سے کم انیس افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ ازبکستان کے سرکاری وکیل راشد کادروو نے کہا ہے کہ تازہ ترین کارروائی میں دارالحکومت تاشقند کے ایک بازار میں دو خودکش حملہ آوروں نے تین پولیس اہلکاروں اور ایک بچے کو ہلاک کردیا ہے۔ اس حملے میں بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں نزدیک ہی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار جمع تھے۔ راشد کادروو کا کہنا ہے کہ ماضی میں ازبکستان میں کبھی خودکش حملے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے ان حملوں کی ذمہ داری مذہبی شدت پسندوں پر عائد کی ہے۔ اتوار کی رات ازبکستان کے قدیم شہر بخارا میں ایک گھر پر حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ملک کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو حاصل ازبک حمایت ان حملوںکی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ازبکستان میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق تاشقند میں دو پولیس سٹیشنوں پر مزید حملوں کی غیر سرکاری اطلاعات ہیں جن میں کچھ افراد کی ہلاکتوں کا بھی بتایا جارہا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام حملوں میں پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ازبک معاشرہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔ ازبک حکام کے مطابق ان حملوں کے سلسلے میں کئی افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||