BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 March, 2004, 06:39 GMT 11:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ازبکستان میں شدید لڑائی
تاشقند میں لڑائی
سڑکوں پر ٹینک کھڑے ہیں اور انہیں بند کر دیا گیا ہے
ازبکستان کے شہر تاشقند میں خصوصی پولیس اور مشتبہ شدت پسندوں میں تشدد کے دوسرے روز بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق چار مسلح افراد شہر کے شمال میں ایک گھر میں گھس گئے جسے بعد میں خصوصی دستوں نے گھیرے میں لے لیا۔

کئی گھنٹوں کے گولیوں کے تبادلے کے بعد عمارت کے اندر ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق گلیوں میں کئی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔

اس لڑائی سے پہلے سیکیورٹی فورسز پر دو حملے کیے گئے: پہلے ایک کار بم ہوا اور اس کے علاوہ شہر کے مضافات میں پولیس چوکیوں پر حملے۔

کار بم حملہ دارالحکومت تاشقند کے مضافات میں ایک پولیس چوکی پر ہوا۔ یہ پولیس چوکی صدر کریموف کی رہائش گاہ کے قریب ہی واقع ہے۔ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ دو دنوں میں انیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر پولیس والے ہیں۔

ازبکستان کی حکومت نے ابھی تک ان واقعات پر اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔

ازبکستان کے سرکاری وکیل راشد کادروو نے کہا تھا کہ تازہ ترین کارروائی میں دارالحکومت تاشقند کے ایک بازار میں دو خودکش حملہ آوروں نے تین پولیس اہلکاروں اور ایک بچے کو ہلاک کردیا ہے۔

اس حملے میں بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں نزدیک ہی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار جمع تھے۔

راشد کادروو کا کہنا ہے کہ ماضی میں ازبکستان میں کبھی خودکش حملے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے ان حملوں کی ذمہ داری مذہبی شدت پسندوں پر عائد کی ہے۔

اتوار کی رات ازبکستان کے قدیم شہر بخارا میں ایک گھر پر حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ملک کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو حاصل ازبک حمایت ان حملوں کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

ازبکستان میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق تاشقند میں دو پولیس سٹیشنوں پر مزید حملوں کی غیر سرکاری اطلاعات ہیں جن میں کچھ افراد کی ہلاکتوں کا بھی بتایا جارہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام حملوں میں پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ازبک معاشرہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔

ازبک حکام کے مطابق ان حملوں کے سلسلے میں کئی افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد