یوکرین: صدارتی انتخابات ’ کالعدم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق سوویت جمہوریہ یوکرین کی پارلیمان نے گزشتہ اتوار کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یوکرین میں گزشتہ ایک ہفتے سے سیاسی بحران بنا ہوا ہے۔ صدارتی انتخابات میں ماسکو حامی وزیراعظم وِکٹر یانوکووِچ کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔ حزب اختلاف کے مغرب حامی رہنما وِکٹر یوش چینکو کے حمایتی لاکھوں کی تعداد میں کئی دنوں سے سڑکوں پر ہیں۔ سنیچر کے روز یوکرین کی پارلیمان نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ووٹ ایک فراڈ تھا اور عوامی رائے سے ایک ٹکراؤ تھا۔ ماسکو نواز وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ یوکرین کے سپریم کورٹ نے بھی وزیراعظم وِکٹر یانوکووِچ کی صدر کی حیثیت سے حلف برداری پر معاملے کی چھان بین ہونے تک پابندی لگادی تھی۔ وزیراعظم کو روس کے صدر ولادمیر پوتین کی حمایت حاصل ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک حزب اختلاف کی حمایت کررہے ہیں۔ یوکرین کی پارلیمان کے آج کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں پیر کے روز زیر غور ہوگا جسے حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ روس اپنی فوج یوکرین بھیج دے۔ بحر اسود پر واقع یوکرین میں روس کا اقتصادی اور فوجی اثر و رسوخ قائم ہے۔ یوکرین روس کا پڑوسی ملک ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر مشرق یورپ کے کئی ممالک سوویت یونین سے الگ ہوگئے تھے لیکن یوکرین میں روس کا اثر و رسوخ باقی رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے کئی مغربی رہنما یوکرین کی حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم وکٹر یانوکووِچ اور حزب اختلاف کے رہنما وکٹر یوش چینکو نے جمعہ کے روز ملاقات کی تھی اور طاقت کے استعمال کو خارج از امکان بتایا تھا۔ یوکرین میں عوامی مظاہرے عوام کو ان دنوں کی یاد دلارہے تھے جب دیوار برلِن کے گرنے کے بعد مشرقی یورپ نے مغربی جمہوریت کو لبیک کہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||