ازسرِ نو انتخابات کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق سوویت جمہوریہ یوکرین کے حزبِ اختلاف کے لیڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ پورپی سکیورٹی کی تنظیم کی نگرانی میں ملک کے متنازعہ صدراتی انتخابات از سرِ نو کرائے جائیں۔ یہ مطالبہ انہوں نے اپنے سیاسی حریف وزیرِ اعظم سے جمعہ کو ایک ملاقات کے بعد کیا۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں وزیرِ اعظم کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔ جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پچھلی اتوار کے انتخابات کے نتائج کے بارے میں چلنے والے تنازعے کو بات چیت سے حل کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں یعنی وزیر اعظم وکٹر یانوکووِچ اور حزب اختلاف کے رہنما وکٹر یوش چینکو کی ملاقات سبکدوش ہونے والے صدر لیونڈ کچما نے کروائی۔ ملاقات میں یورپی اور روسی ثالث بھی شریک ہوئے جن میں یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا کے علاوہ پولینڈ کے صدر ایلکزانڈر کوازنیوسکی، لیتھوینیا کے صدر ویلڈاس ایڈمکس اور روسی ایوان زیریں کے سپیکر بورس گریزلوو شامل تھے۔ ملاقات کے بعد صدر کچما نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین نے طاقت کے استعمال کو رد کرتے ہوئے مزید بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انتخابی نتائج کے تنازعے کے حل پر بات چیت کے لیےدونوں فریقوں نے ایک گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ عدالت حل کرے۔ اس ملاقات کے تین گھنٹے بعد حزب اختلاف کے رہنما مسٹر یوش چینکو نے دارالحکومت کیو میں اپنے حامیوں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بات چیت ناکام ہو گئی تو وہ دنوں کے اندر اندر کاروائی کریں گے۔ دارالحکومت میں ان کے ہزاروں حامی کئی دن سے پچھلے اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ اور انہوں نے سرکاری عمارتوں کی طرف جانے والے راستے روکے ہوئے ہیں۔ شہر کے ریلوے سٹیشن پر وزیر اعظم کے دس ہزار حامی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کے اس بحران میں بیرونی مداخلت پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کچھ لوگ یورپ کا نقشہ بدلنےکی کوشش میں ہیں۔ امریکی صدر بش کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||