یوشنکو یوکرین کے صدر بن گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین کی سپریم کورٹ نے وکٹر یوشنکو کے ملک کا صدر ہونے کی توثیق کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے انتخابات میں ہارنے والے امیدوار وکٹر یانوکوچ کی طرف سے یوشنکو کی 26 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے۔ یانوکوچ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس سے قبل یہ انتخابات نومبر میں ہوئے تھے جس میں وزیر اعظم وکٹر یانوکوچ نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان کے حریف وکٹر یوشنکو نے ان پر انتخابی دھاندلی کا الزامات لگاتے ہوئے انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ملک کی سپریم کورٹ نے ان انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے نئے فیصلے کے بعد اب یوشنکو کی بحیثیت صدر حلف برداری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ جج نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ’آخری ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی‘۔ ان انتخابات کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم نے مغربی اور مشرقی یوکرین میں یورپ کے ساتھ قریب تعلقات استوار کرنے کے مسئلہ پر عوام کو واضح طور پر تقسیم کر دیا تھا۔ یوشنکو یورپی یونین اور نیٹو سے قریبی تعلقات کے حق میں تھے جبکہ وکٹر یانوکووچ روس کے حمایتی مشہور ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||