نتائج تسلیم نہیں کریں گے:یانوکوچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین میں اتوار کو ہونے والے صدراتی انتخابات میں اپوزیشن لیڈر وکٹر یوشنکو نے فتح حاصل کر لی ہے۔ انتخابات میں ہارنے والے امیدوار وکٹر یانوکوچ نے کہا ہے کہ وہ اپنی شکست تسلیم نہیں کریں گے اور نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ اب تک پچانوے فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور نتائج کے مطابق وکٹر یوشنکو اپنے حریف سے دس پوائنٹ آگے ہیں۔ رات گئے وکٹر یوشنکو نے ایک پرجوش ہجوم سے جو نارنجی رنگ کے جھنڈے لہرا رہا تھا، خطاب کرتے ہوئے کہا ’یوکرین کے عوام جیت گئے ہیں۔‘ ان انتخابات کے سرکاری نتائج شاید اگلے کئی روز تک سامنے نہ آئیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ فاتح امیدوار کے مخالف عدالتوں سے رجوع کریں گے۔ پچھلے مہینے ہونے والے صدارتی انتخابات میں وزیر اعظم وکٹر یانوکوچ نے کامیابی حاصل کر لی تھی لیکن ان کے حریف وکٹر یوشنکو نے ان پر انتخابی دھاندلی کا الزامات لگاتے ہوئے انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ ملک کی سپریم کورٹ نے ان انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں اسی فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جس میں یورپ نواز وکٹر یوشنکو کو چودہ فیصد ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ وکٹر یوشنکو نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ آج کا دن یوکرین کی تاریخ میں اہم دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو خود مختاری ملے چودہ سال ہو گئے ہیں لیکن آج وہ ایک آزاد ملک بھی بن گیا ہے۔ بارہ ہزار مقامی اور بین الاقوامی مبصرین سرکاری امیدوار وکٹر یانوکووچ اور حزب اختلاف کے رہنما وکٹر یوشنکو کے درمیان اس انتخابی معرکے کی نگرانی کے لیے تعینات یوکرین میں موجود ہیں۔ ان انتخابات کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم نے مغربی اور مشرقی یوکرین میں یورپ کے ساتھ قریب تعلقات استوار کرنے کے مسئلہ پر عوام کو واضح طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما یوشنکو یورپی یونین اور نیٹو سے قریبی تعلقات کے حق میں ہیں۔ جبکہ موجودہ وزیر اعظم وکٹر یانوکووچ روس کے حمایتی مانے جاتے ہیں۔ یوکرین کا مشرقی اور صنعتی علاقہ روس سے تعلقات کے حق میں ہے اور یہاں سرکاری امیدوار وکٹر یانوکوچ کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ اتوار کو ہونے والے انتخابی معرکے کے نتائج کے اعلان سے پہلے سکیورٹی فورسز کو کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج سے نبٹنے کے لیے چوکس کر دیا گیا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کے بارے میں ہفتے کو اس وقت بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی جب ایک آئینی عدالت نے عمر رسیدہ اور معذور افراد کے گھر سے ووٹ ڈالنے کی سہولت پر پابندی اٹھالی۔ گزشتہ انتخابات میں حزب اختلاف نے الزام لگایا تھا کہ حکومت نے عمر رسیدہ اور معذور افراد کو حاصل اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان انتخابات کے نتائج کو تبدیل کر دیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سہولت کے بحال ہوجانے کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہوا گیا ہے کہ انتخابات میں ہارنے والا امیدوار نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور یوکرین میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سیاسی بحران مزید طوالت اختیار کر لے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||