یوکرین: سرکاری دفاتر کا گھیراؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین میں صدارتی انتخابات پر حزب اختلاف کے ہزاروں حامیوں نے دوسری رات بھی سرکاری دفاتر کو گھیرے رکھا۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد کیو کے انڈیپینڈنس سکوائر میں وزیر اعظم وکٹر ینوکووچ کی سرکاری طور پر کامیابی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج ابھی تک پر امن رہا ہے لیکن فساد شکن پولیس کو چوکنا کر دیا گیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما وکٹر یشچینکوف نے پولیس سے حمایت کی اپیل کی ہےان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ووٹنگ میں گڑ بڑ کی گئی ہے۔ ادھر مظاہرین میں میلے کا سماں ہے انڈیپینڈنس سکوائر میں حزبِ اختلاف کے رہنما تقریر کر رہے ہیں اور ملک کے کچھ ممتازبینڈز لوگوں کی تفریح کے لئے گانے سنا رہے ہیں۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں مسٹر ینوکووچ کو بہت ہی کم فرق سے کامیابی ملی ہے۔ حالانکہ انتخابات کے فوراً بعد لوگوں سے رائے لینے کے بعد انتخابات میں مسٹر یشچینکوف کی زبردست کامیابی کی پیشن گوئی کی گئی تھی جو کہ ملک کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ وکٹر ینوکووچ کو روس کی حمایت حاصل ہے انہوں نے عوامی سطح پر احتجاج کی اپیل کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ’باغیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘ سبکدوش ہونے والے صدر لیونڈ کچما نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||