بحران ختم کرنے کی کوششوں کو دھچکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ ووٹنگ کے عمل میں دھاندلی روکنے اور صدر کے اختیارات محدود کرنے کے لیے مجوزہ اقدامات ملک کی پارلیمان نے منظور نہیں کیے ہیں۔ ملک میں تین ہفتوں کے بعد صدارتی انتخابات دوبارہ منعقد کیے جارہے ہیں۔ یوکرین کے دستبردار ہونے والے صدر لیونڈ کچما نے حزب اختلاف پر گزشتہ ہفتے طے کیا گیا سمجھوتے کا معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے یورپی مذاکرات کاروں سے معاملے میں دخل اندازی کی درخواست کی ہے۔ یوکرین کی سپریم کورٹ نے صدراتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے دعوے کو درست قرار دیا تھا۔ عدالت نے جمعہ کو انتخابات دوبارہ کروانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے جج اناتولے یاریما نے حکم دیا کہ 26 دسمبر تک نئے انتخابات ہونے چاہیئیں۔ عدالت کا فیصلہ سنتے ہی مغرب نواز امیدوار وکٹر یشچنکو کے حمایتی سڑکوں پر نکل آئے اور خوشیاں منانے لگے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ وہ وکٹر یشچنکو اور ماسکو نواز وزیرِ اعظم وکٹر یانوکووچ کے درمیان نئے انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔ چھبیس نومبر کے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے یانوکووچ کو فاتح قرار دیا تھا۔ اس فیصلے پر مغربی مبصرین نے بہت تنقید کی تھی۔ اس انتخابی جنگ میں حصہ لینے والے دونوں فریقوں نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||