یوکرین انتخابات، نتائج معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا یوکرین کے صدرارتی انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حل میں مدد دینے کے لیے یوکرین کے دارالحکومت کیو پہنچ رہے ہیں۔ سولانا حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کریں گے وہ یوکرین کے سبکدوش ہونے والے صدر لیونڈ کچما سے بھی ملیں گے۔ ادھر یوکراین کی سپریم کورٹ نے حزبِ مخالف کی درخواست پر صدارتی انتخابات کے نتائج معطل کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق سابق سوویت یونین میں روس کے بعد سب سے بڑی ریاست یوکرین اس وقت خانہ جنگی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔ یوکرین کے سبکدوش ہونے والے صدر لیونڈ کچما نے دنیا سے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملات میں مداخلت سے باز رہیں اور خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیاگیا تو ان کے ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ یوکرین کے الیکشن کمشن نے وزیر اعظم وکٹر یانکوچ کے ملک کا نیا منتخب صدر ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وکٹر یانکوچ کو روس نواز گردانا جاتا ہے۔جن کا کہنا ہے کہ وہ انتخاب جیت کر روس کے ساتھ یوکرین کے تعلقات مزید بڑھائیں گے۔ سابقہ سوویت یونین میں روس کے بعد سب سے بڑی ریاست یوکرین میں صدارتی انتخابات میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے اور ملک میں سخت سردی کے باوجود اناسی فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اپوزیشن رہنما وکٹر یوشنکو نےالزام لگایا ہے کہ حکومت نے دھاندلی کے ذریعے ان کی فتح کو شکست میں بدلنے کوشش کر رہی ہے ۔ وکٹر یوشنکو کی اپیل پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہو ئے ہیں اور مطالبہ کر رہے کہ الکیشن کمیشن وکٹر یوشنکو کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کرے۔ یورپی ممالک یوکرین کے انتخاب میں بہت دلچسی لے رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق یوکرین کے انتخابی نتائج یورپ کے مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||