’وکٹر یوشچنکو کو زہر دیا گیا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین کے حزبِ مخالف لیڈر وکٹر یوشچنکو کے آسٹریائی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کی نامعلوم بیماری کا سبب زہرخورانی ہے۔ کئی تجربات کرنے کے بعد ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک ڈائی آکسن استعمال کئے جانے کے سبب ان کے چہرے کی ہیئت تبدیل ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہ زہر خطرناک قسم کا ہے جس کا علاج جلدی نہ کیا جاتا تو جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔ روڈلفِنرہاؤس کلینک کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل زِمفر نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بیماری ڈائی آکسن کے زہر کا سبب ہے‘۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ زہر جان بوجھ کردیا گیا تھا تاہم ڈاکٹر زِمفر کا کہنا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اس میں کسی تیسرے کا دخل ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس کا ذمہ دار کون ہے تو اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ ڈاکٹر زمفر نے کہا کہ مادہ حل ہونے کے قابل تھا جو کہ سوپ جیسی غذا میں ملا کر دیا جاسکتا تھا۔ ابتداء میں حزبِ مخالف کے لیڈر نے یوکرین حکومت پر الزام لگایا تھا کہ انہیں حکومت نے زہر دیا ہے مگر حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔ مسٹر یوشچنکو کے خون اور رگوں میں ڈائی آکسن طبعی معیار سے ہزار گنا زیادہ پایا گیا ہے۔ جمعہ کے روز جب وہ کلینک پہنچے تو مسٹر یوشچنکو نے کہا کہ ان کی صحت دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔ ڈائی آکسن ایک طرح کی آلودگی ہے جوکہ صنعتی عمل کا نتیجہ ہے۔ لندن کے سینٹ میریز ہسپتال کے پروفیسر جان ہنری نےکہا ہے کہ بدن میں اس کی ایک ساتھ زیادہ مقدار میں داخل ہونے کی تاثیر کے بارے میں بہت کم معلومات تھی البتہ اب پتہ چل گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||