BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 December, 2004, 18:51 GMT 23:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وکٹر یوشچنکو کو زہر دیا گیا تھا‘
 وکٹر یوشچنکو
ایک ڈائی آکسن استعمال کیے جانے کے سبب ان کے چہرے کی ہیئت تبدیل ہوگئی ہے
یوکرین کے حزبِ مخالف لیڈر وکٹر یوشچنکو کے آسٹریائی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کی نامعلوم بیماری کا سبب زہرخورانی ہے۔

کئی تجربات کرنے کے بعد ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک ڈائی آکسن استعمال کئے جانے کے سبب ان کے چہرے کی ہیئت تبدیل ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ یہ زہر خطرناک قسم کا ہے جس کا علاج جلدی نہ کیا جاتا تو جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔

روڈلفِنرہاؤس کلینک کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل زِمفر نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بیماری ڈائی آکسن کے زہر کا سبب ہے‘۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ زہر جان بوجھ کردیا گیا تھا تاہم ڈاکٹر زِمفر کا کہنا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اس میں کسی تیسرے کا دخل ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس کا ذمہ دار کون ہے تو اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

ڈاکٹر زمفر نے کہا کہ مادہ حل ہونے کے قابل تھا جو کہ سوپ جیسی غذا میں ملا کر دیا جاسکتا تھا۔

ابتداء میں حزبِ مخالف کے لیڈر نے یوکرین حکومت پر الزام لگایا تھا کہ انہیں حکومت نے زہر دیا ہے مگر حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

مسٹر یوشچنکو کے خون اور رگوں میں ڈائی آکسن طبعی معیار سے ہزار گنا زیادہ پایا گیا ہے۔

جمعہ کے روز جب وہ کلینک پہنچے تو مسٹر یوشچنکو نے کہا کہ ان کی صحت دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔

ڈائی آکسن ایک طرح کی آلودگی ہے جوکہ صنعتی عمل کا نتیجہ ہے۔

لندن کے سینٹ میریز ہسپتال کے پروفیسر جان ہنری نےکہا ہے کہ بدن میں اس کی ایک ساتھ زیادہ مقدار میں داخل ہونے کی تاثیر کے بارے میں بہت کم معلومات تھی البتہ اب پتہ چل گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد