کرغستان، انتخابات 26 جون کو ہوں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرغستان میں عبوری حکومت نے نئے صدارتی انتخابات چھبیس جون کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم یہ واضع نہیں ہو سکا کہ جون میں ملک کی پارلیمان کے لیے بھی انتخاب ہوں گے یا نہیں۔ کرغستان کی عبوری حکومت نے دارالحکومت بشکیک میں لوٹ مار روکنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ شہر میں صورتحال پہلے سے بہتر مگر کشیدہ نظر آرہی تھی اور اکا دکا فائرنگ کی آواز بھی سنائی دیتی رہی۔ گشتی پولیس نے لوٹ مار روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی ہے۔ حزب اختلاف کے سابق رہنما قربان بیک بیکوف نے جنہیں عبوری صدر مقرر کیا گیا ہے نے نئی کابینہ تشکیل دی ہے۔ دریں اثنا سابق صدر عسکر آقائف نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اب بھی کرغستان کے صدر ہیں اور حزب اختلاف پر غیر قانونی طور پر تختہ الٹنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے مستعفیٰ ہونے کی تردید کی اور کہا کہ ان کی غیر موجودگی عارضی ہے اور وہ خون خرابا نہیں چاہتے تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر ملک سے فرار ہو گئے ہیں اور اب روس میں ہیں۔ امریکہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کرغستان میں امن کی فضاء قائم کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور روسی وزیر خارجہ سرجی لاوروف نے ایک دوسرے سے فون پر بات چیت کی ہے۔ یورپی سیکیورٹی تنظیم او ایس سی ای کے سربراہ کرغستان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہاں کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کے لیے بشکیک روانہ ہو رہے ہیں۔ بشکیک میں امریکہ کے سفارتکار سٹیفن ینگ نے کرغستان کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی تنظیم کے ساتھ تعاون کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||