 |  انڈونیشیا کا صوبہ آچے سونامی کے طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ |
عالمی امدادی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ ایشیائی ملکوں میں پچھلے سال دسمبر میں آنے والے سمندری طوفان سونامی میں ہلاک ہونے والوں میں مردوں کے مقابلے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ آکسفیم کی طرف سے انڈونیشیا، سری لنکا اور انڈیا میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کئی علاقوں میں ہلاک ہونے والوں میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے چار گنا تک زیادہ ہے۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سونامی کے آنے کے وقت زیادہ تر عورتیں یا تو ساحلوں پر مچھیروں کے واپس آنے کا انتظار کررہی تھیں یا گھر پر بچوں کی دیکھ بھال کررہی تھیں۔ آکسفیم کی پالیسی ڈائریکٹر بیکی بویل کا کہنا ہے کہ اگر اس بارے میں امدادی اداروں نے خاطر خواہ کام نہ کیا تو سونامی سے متاثرہ علاقوں میں مرد اور عورتوں کی اموات کی شرح میں اتنے بڑے فرق کا اثر آئندہ کئی برسوں تک محسوس کیا جاسکے گا۔ بیکی بویل کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے پہلے ہی ریپ، حراسگی اور زبردستی کی شادی کے واقعات کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی متاثرہ علاقوں میں عورتوں کے تحفظ اور انہیں مستحکم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ |