سری لنکا: بےبی 81 کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کا ’بے بی 81 ‘ جسے سونامی کی تباہی کے بعد نو خاندان گود لینے کے لیے سامنے آئے تھے جلد ہی اپنے اصل خاندان کے ساتھ ہو گا۔ عدالت نے یہ حکم دیا ہے کہ چار ماہ کے اس بچے کو اسکی جسمانی حالت کے تسلی بخش قراد دیے جانے کے بعد واپس بھیج دیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس بچے کے والدین کے سلسلے میں کسی بھی قسم کے شکوک نہیں پائے جاتے اور صرف ایک ہی جوڑے کواس سلسلے میں قانونی حق حاصل ہے۔ پولیس کے ایک افسر ڈبلیو سی وجیت لیکا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ بہت سے والدین نے اس بچے میں دلچسپی تو ظاہر کی تھی مگر اصل والدین کے علاوہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس بچے کے ماں باپ ہیں‘۔ وجیت لیکا نے یہ بھی بتایا کہ اس بچے کو اس کے پڑوسی نے چھبیس دسمبر کو اس کے تباہ شدہ گھر کے ملبے کے نیچے سے نکالا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی توجہ سے یہ بچہ بہت مشہور ہوا۔ معجزانہ طور پر بچ جانے کی بنا پر نیویارک ٹائمز نے اس بچے کو ’سیلیبریٹڈ اورفن‘ یا ’مشہور یتیم‘ کا خطاب دیا تھا۔ انسپکٹر وجیت لیکا نے بتایا کہ بچے کے اصل والدین کی شناخت کی جا چکی ہے اور انہوں نےعدالت سے رابطہ بھی کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ وہ ہی والدین ہیں۔ ایک ہی جوڑے نے دعویٰ داخل کیا ہے‘۔ ایک مقامی پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس بات کی انکوائری بھی کی جائے گی کہ اس معاملے کی رپورٹنگ غلط کیوں کی گئی۔ اس معاملے میں یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ بچے کو گود لینے کے سلسلے میں خواتین میں جھگڑا بھی ہوا تھا۔ سونامی سے سری لنکا میں تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں سے چالیس فیصد بچے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||