بارہ روز سمندر کے رحم و کرم پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں سونامی کی تیزوتند لہروں کا شکار ہونے والے ایک شخص کو دو ہفتے سمندر کے رحم و کرم پر رہنے کے بعد بچا لیا گیا ہے۔ آچے سے تعلق رکھنے والا اری افریزل دو ہفتوں تک ایک ٹوٹی ہوئی کشتی پر سوار رہا۔ بالآخر اسے اتوار کے روز ایک عرب بحری جہاز کے عملے نے دیکھ لیا اور یوں اسے زندہ بچالیا گیا۔ اکیس سالہ افریزل کو ڈر تھا کہ کہیں جہاز کا عملہ اس کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہی نہ ہوجائے تاہم ایک مرتبہ اس کے سامنے سے گزرجانے کے بعد وہ جہاز واپس پلٹ کر اس کے پاس آگیا۔ چھبیس دسمبر کو سونامی کے بعد یہ وہ تیسرا شخص ہے جسے سمندر سے زندہ بچایا گیا ہے۔ ملیشیا کی بندر گاہ پر پہنچنے کے بعد افریزل نے کہا کہ وہ اپنے زندہ بچنے کی امید چھوڑ چکا تھا۔ بعد میں اسے طبی امداد کے لیے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔ افریزل نے بتایا کہ اس نے بارہ روز تک ناریل کھا کر گزارہ کیا۔ ’تین دن تک مجھے کچھ کھانے کو نہیں ملا۔ مجھے زندہ بچنے کی امید نہیں تھی‘۔ چھبیس دسمبر کو جب سونامی کی لہریں آچے پر حملہ آور ہوئی تھیں تو افریزل اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک گھر تعمیر کررہا تھا۔ تیز لہروں نے پہلے اسے پیچھے دھکیلا پھر ساتھ ہی لے کر سمندر میں لا پھینکا۔ اس نے بتایا کہ چوبیس گھنٹے تک وہ ایک درخت کے تنے سے چمٹارہا۔ جس کے بعد وہ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی پر سوار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ افریزل نے کئی بحری جہاز وہاں سے گزرتے دیکھے تاہم کوئی بھی اس کی نشاندہی نہ کرسکا۔ ’جب میں نے یہ عربی جہاز دیکھا تو تہیہ کیا کہ میں اس کی توجہ حاصل کرکے رہوں گا۔ میں نے سیٹیاں بجائیں اور ہاتھ ہلائے۔ پہلے تو جہاز گزر گیا لیکن پھر پلٹ کر واپس میرے پاس آگیا۔‘ ایک حاملہ عورت پانچ روز تک ایک ناریل کے درخت کے تنے سے چمٹی رہی جس کے بعد اسے بچالیا گیا۔ اسی طرح ایک اور شخص کو آٹھ روز سمندر کے رحم و کرم پر رہنے کے بعد بچالیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||