سونامی متاثرین مافیا کی زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ پہلے ہی ایک ایسے تجربے سے گزر چکے ہیں جس کا اکثر لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن سونامی کے ان متاثرین کو موقع پرستوں اور جرائم پیشہ لوگوں کی صورت میں ایک نئے خطرے کا سامنا ہے جو ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ ماہر نفسیات مائیکل بیری کا کہنا ہے کہ ’بد قسمتی سے یہ لوگوں کے لیے پیسے کمانے کا سنہری موقع ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ سونامی کے متاثرین انتہائی پریشان ہیں جو انہیں ایک آسان شکار بنا دیتا ہے‘۔ سونامی کا سامنا کرنے والے ممالک سے لوٹ مار کی اطلاعات مِلی ہیں۔ اور سری لنکا میں مبینہ طور پر طوفان کا شکار ہونے والی کچھ لڑکیوں کے ساتھ زنا بالجبر بھی ہو چکا ہے۔ سری لنکا میں بچوں کے تحفظ کا ادارہ ایک فلاحی کیمپ میں دو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کے اور ایک عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے وقاعات کی تحقیق کر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تکلیف دہ الزام یہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد لاوارث ہو جانے والے بچوں کو کو پھنسا کر جنسی مقاصد کے لیے فروخت کر رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں حکومت نے اسی خطرے کے پیش نظر سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کو آچے کے متاثرہ علاقے سے باہر لے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ انہیں ملنے والی کچھ اطلاعات کے مطابق آچے سے اغوا ہونے والے بچوں کوگود لینے یا فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ انڈونیشیا میں یونیسیف کے ترجمان کے مطابق ایک واقعہ کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں آچے سے اغوا ہونے والے ایک بچے کو قریبی شہر مدان میں بیچا جانا تھا۔ یونیسیف کے ترجمان کے مطابق ’ ایک بچہ اس تجربے سے گزرنے کے بعد نفسیاتی طور پر بمشکل زندہ ہو گا‘۔ ترجمان نے کہا کہ انہیں ایشیا میں بھیجے جانے والے ایک ایسے ایس ایم ایس پیغام کا پتہ چلا ہے جس میں تین سو لاوارث بچوں کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||