BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 January, 2005, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے رحم سمندر کی تباہ کاریاں

طوفان سے پھیلی تباہی کسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتی ہے
طوفان سے پھیلی تباہی کسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتی ہے
بحر ہند میں زلزلے سے پیدا ہونے والے ہولناک طوفان کے ایک ہفتے بعد ہزاروں لوگ اپنے پیاروں کے سوگ میں اور ہزاروں اب بھی لاپتہ ہونے والے اپنے لواحقین کی تلاش میں ہیں۔ اس اندوہناک حادثے سے دوچار ہونے والوں کی اذیت اور غم کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

کہاں سے شروع کریں؟ ایک ایسی جگہ جہاں زندہ انسانوں سے زیادہ لاشیں بکھری پڑی ہوں۔

سونامی لہروں سے بچ جانے والی ایک گلی میں واقع چھوٹے سے ریسٹورانٹ کی ایک میز پر بیٹھ کر میں یہ کہانی ضبط تحریر کر رہا ہوں۔

سورج ابھی غروب ہوا ہے اور رات کے کھانے پر ایک مرتبہ پھر ’نوڈلز‘ اور بوتلوں والا پانی پینے کو ملے گا اور اب سے ایک دو گھنٹے بعد اس ریسٹورانٹ کی دوسری منزل پر زمین کے جھٹکوں اور کیمرہ مین کے خوفناک خراٹوں کے درمیان سونا پڑا گا۔

اس ریسٹورانٹ کی مالکہ اس جگہ سے جانے کی امید میں اپنا سامان باندھ رہی ہے۔ کمالا ایک لمبی تڑنگی اور خوش مزاج خاتون ہے جس شوخ رنگوں کے کپڑے پسند ہیں۔

آچے میں آنے والی تباہی کو دیکھا جائے تو وہ خوش قسمت ہے۔ اس کے ماں باپ اور اس کا اٹھارہ ماہ کا بچہ اس طوفان میں بچ گئے۔ لیکن اس کے ایک درجن کے قریب قریبی رشتہ دار ہلاک ہو گئے۔

تیز رنگ کے نقلی پھولوں سے سجا اس کا یہ ریسٹورانٹ اس تباہی سے بچ گیا۔

لیکن گزشتہ چند دنوں میں کمالا کے کندھے جھک گئے ہیں اور وہ گلی کی طرف دیکھ کر اکثر بڑبڑاتی ہے کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘

ریسٹورانٹ کے دروازے کے باہر چوہے گھومتے رہتے ہیں اور ریسٹورانٹ کے عقب سے بدبو اٹھ رہی ہے شاید کوئی لاش سڑ رہی ہے لیکن ہم اس کو تلاش نہیں کر سکے۔

اس وقت میں اپنے بالوں میں پڑی خاک، جوتوں پر لگی کیچڑ اور ان بچوں کی گلی ہوئی لاشوں کو ذہن سے بھلانے کی کوشش کر رہا ہوں جو ہمیں ہر چند گز کے فاصلے میں راستے میں ملیں تھیں۔

News image
لاشیں زندہ لوگوں سے زیادہ ہیں

لیکن ذہن میں بار بار اس اندوہناک تباہی کے مناظر ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔

ہم جنوبی تھائی لینڈ میں تباہ شدہ ساحلی تفریحی گاہوں سے یہاں پہنچے تھے۔ ہم سب کو معلوم تھا کہ لوگ پوکھٹ میں کرسمس کی چھٹیاں گزار رہے تھے۔ جن میں کچھ بچ گئے اور کچھ ہلاک ہو گئے۔

کسی وقت تو ایسا لگتا ہے کہ یہ تباہی کسی اور دنیا کا منظر ہے۔ ہم نے اپنا سازو سامان ایک خوبصورت ہوٹل میں رکھا۔ اس ہوٹل سے سمندر کا کنارہ نظر آتا ہے۔

سونامی کی لہریں یہاں تک نہیں پہنچ سکیں اس لیے اس کا سوئمنگ پول چھٹیاں ماننے والے مغربی باشندوں کی ہنسی سے گونج رہا تھا اور اس کے ریسٹورانٹ میں اب بھی نیم برہنہ مغربی باشندوں کی جھینگوں اور شرابوں سے تواضع کی جارہی تھی۔

News image
تباہی سے برباد شہر کسی اور دنیا کا منظر پیش کرتی ہے

سونامی لہروں سے بچنے والے ہوٹل کی لابی میں اپنی تھکی تھکی چال اور اپنی اڑئی ہوئی رنگت سے الگ ہی پہچانے جاتے تھے۔

ایک سنہرے بالوں والے کم سن آسٹریلوی نوجوان نے جس کے ایک پیر پر پالسٹر بندھا ہوا تھا اس سوئمنگ پول کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ’ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں اپنے دوستوں کوڈھونڈ رہا ہوں کیا آپ کا فون کام کر رہا ہے میرا فون تو کام نہیں کر رہا۔‘

میں بدھ کی رات کو تھائی لینڈ سے چلا تھا۔ انڈونیشیا کی سرحد پر موجود سکیورٹی اہلکاروں سے آچے میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے کئی گھنٹے لگے۔

یہ خطہ علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے گزشتہ اٹھارہ ماہ سے چالیس ہزار فوجیوں کے گھیرے میں ہے۔

ہم نے جہاز سے اس جزیرے پر پھیلے ہوئے آتش فشان پہاڑوں کو دیکھا جو ایک ہزار کلو میٹر جنوب میں کراکوٹا تک پھیلے ہوئے تھے۔ جہاز پر موجود ایک رسالے میں انڈونیشیا کو ایک آتش فشانی عجوبہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

جب ہمارا جہاز اترنے لگا تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں نے باہر جھانکنا شروع کیا۔ سمندر پر بے شمار لکڑی نما چیزیں تیر رہی تھیں یا تو یہ درخت تھے یا لاشیں۔

ایک شخص نے ساحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پورا ساحل صاف ہو گیا ہے اور ساحل کو دیکھ کر یہ لگا رہا تھا کہ کسی نے بڑے سے برش سے پورا ساحل صاف کر دیا ہو۔

بندے آچے میں سفر کرتے ہوئے مجھے ایک عجیب سے کمی محسوس ہوئی۔

مجھےشام کو جا کر سمجھ میں آیا کہ یہ بھاری توپخانے کی گھن گرج تھی جس کی کمی میں یہ سب تباہی دیکھ کر محسوس کر رہا تھا۔ یہ جگہ کسی جنگ کے میدان کا منظر پیش کر رہی تھی۔

در حقیقت یہ جگہ بالکل چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی پر کئی مہینوں تک روس کی مسلسل بمباری کے بعد کا منظر پیش کر رہی تھی۔

ہم نے سہ پہر ایک اٹھارہ سال طالب علم عبداللہ کے ساتھ گزاری۔ وہ پتلا دبلا لڑکا تھکاوا اور نڈہال دکھائی دیتا تھا۔ وہ لاشوں کو اٹھانے اور ان کو دفنانے کا مشکل ترین کام کر رہا تھا۔ اتوار کو اسی تباہی کے کچھ دن بعد اس نے رضاکارانہ طور پر اس کام میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

جب سے وہ ایک سفید ٹرک میں دو اور رضاکاروں کے ساتھ شہر سے لاشیں سمیٹ رہا ہے۔ایک وقت میں وہ پچاس کے قریب لاشیں اٹھاتے ہیں اور شہر سے باہر ایک بڑے سے گھڑے میں ڈال دیتے ہیں۔

اس خوفناک کام کے دوران ایک وقفہ لیتے ہوئے اس نے بڑی طلب سے سگریٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اپنے دستانوں کے درمیان سگریٹ دبا کر گھرے گھرے کش لینے لگا۔

اس نے کہا کہ ’ یہ میرا شہر ہے اور میرے دل نے مجھے یہ کام کرنے کو کہا۔‘

اس تعفن، ٹرک میں بھری لاشوں اور دھول اور مٹی کے باوجود وہ مسکرایا۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
متاثرینایڈ ورکر کی ڈائری
امدادی کارروائیاں اور کارکن کی مصروفیات
بھارتجزیرے ڈوب گئے
بھارتی حکام کے مطابق کچھ جزیرے غائب ہو گئے
سونامی کیسے گزریسونامی کیسے گزری
سونامی نے 6 گھنٹے میں 4000 کلومیٹر طے کیے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد