سونامی کیسے گزری۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سماترا کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے سے بحرِ ہند میں پیدا ہونے والی سونامی لہروں کی زد میں آنے والے ممالک کے حوالے سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ان ممالک کے درمیان بہتر مواصلات اور رابطے انسانی جانوں کے نقصان میں کمی کا سبب بن سکتے تھے؟ یا پھر ان ممالک میں سونامی جیسی آفت سے قبل از وقت خبردار کرنے والے بہتر نظام کی موجودگی تباہی و بربادی میں کمی کا سبب ہو سکتی تھی؟ ماہرین زلزلہ پیمائی نے اب واضح طور پر چار ہزار کلومیٹر طویل اس آبی راستے کی نشاندہی کر دی ہے جس پر چھ گھنٹے کی مسافت طے کر کے سونامی لہریں ساحلوں تک پہنچیں۔ سماترا کے ساحل کے قریب زیرِ آب آنے والے زلزلے کے ابتدائی پندرہ منٹ کے دوران بحر الکاہل میں واقع جزیرہ ہوائی پر قائم سونامی سے خبردار کرنے والے مرکز نے سمندر کی تہہ میں ایک بڑا زلزلہ آنے کی پہلی رپورٹ جاری کی تھی لیکن اِس میں سونامی لہروں کا ذکر نہ تھا۔ زمین کی سطح کے نیچے موجود پلیٹوں کے سرکنے سے شمال سے جنوب کی سمت پانی کی ایک ہزار کلومیٹر طویل دیوار نما لہر پیدا ہو گئی تھی۔ یہ لہر اپنے مرکز سے دائروں کی شکل میں آگے نہیں بڑھی بلکہ اس نے مشرق سے مغرب کی سمت حرکت شروع کر دی اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران پندرہ سے بیس میٹر بلند آبی لہریں شمالی سماترا سے ٹکرا چکی تھیں جس کے نتیجہ میں صوبہ آچے کے ساحلی شہر تہہ و بالا ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد نکوبار اور انڈامان نامی بھارتی جزیرے طوفانی لہروں کا شکار ہو گئے۔ بعد ازاں یہی انتہائی تیز رفتار سونامی لہریں تھائی لینڈ اور برما کے ساحل سے ٹکرائیں اور زلزلے کے ابتدائی جھٹکوں کے دو گھنٹے کے اندر اندر یہ لہریں مغربی سمت میں بڑھتی ہوئیں سری لنکا اور جنوبی ہندوستان کے ساحلوں تک پہنچ چکی تھیں۔ اس مرحلے پر لہروں کا زور قدرے ٹوٹ گیا تھا اور ان کی سطح سمندر سے بلندی محض پانچ سے دس میٹر تک رہ گئی تھی۔
خبر رساں ایجنسیوں نے اس وقت تک طوفان سے پھیلنے والی ساحلی تباہی کی خبریں شائع کرنی شروع کر دی تھیں لیکن متعدد حکومتوں کو اُن خطرات سے قبل از وقت آگاہ کرنے کا مناسب نظام موجود نہ تھا جو سونامی کے مغربی سمت بڑھنے کے باعث اب بھی لاحق تھے۔ ٹھیک ساڑھے تین گھنٹے کے سفر کے بعد سونامی لہریں مالدیپ اور پھر سیشلز سے جا ٹکرائیں۔ اس وقت تک متاثرہ ایشیائی ممالک کے سفارتکار زلزلہ پیمائی کے ماہرین سے رابطہ قائم کر چکے تھے تاکہ اس بات کا قبل از وقت اندازہ لگایا جا سکے کہ لہروں کا اگلا ممکنہ ہدف کون سے ساحل ہوں گے۔ لیکن اس کے باوجود سونامی کے افریقی ساحل تک پہنچنے کے بارے میں بھی خبردار نہ کیا گیا۔ سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے چھ گھنٹے بعد طوفانی لہریں چار ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کر کے صومالیہ اور کینیا کے ساحل سے ٹکرائیں اور تباہی برپا کی۔ سائنسدانوں نے سونامی لہروں کی قوت نو ہزار سے زائد ایٹم بموں کے برابر بتائی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||