 |  کئی بستیاں سونامی سمندری کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں |
اقوام متحدہ کے مطابق سونامی سمندری طوفان کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کاموں کے کوآرڈینیٹر یان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ سونامی سے سب سے زیادہ لوگ انڈونیشیا میں ہلاک ہوئے ہیں جہاں آچے کے شمالی سرے میں زلزلہ کا مرکز تھا۔ انڈونیشیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اسی ہزار بتائی جاتی ہے- چھ روز کی تاخیر، بے حسی اور کنجوسی کے الزامات کے بعد آخر کار صدر بش نے سونامی سمندری طوفان کے متاثرین کی امداد کی رقم میں ساڑھے تین سو ملین ڈالر کے اضافہ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے صرف پینتیس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا- صدر بش نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ کولن پاول اتوار کو سونامی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے جہاں طوفان کے چھ رہوز بعد بھی بعض علاقوں میں امداد نہیں پہنچی ہے- اور اب بڑے پیمانے پر وبائی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔ عالمی بنک نے سونامی کے متاثرین کے لئے ڈھائی سو ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے اور چین نے تریسٹھ ملین ڈالر دئیے ہیں۔ برطانوی حکومت نے پچاس ملین پاونڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ برطانیہ کے عوام نے پچھلے تین روز میں پینتالیس ملین پاونڈ جمع کئے ہیں۔ |