انڈامان، نکوبار کے قبائلی محفوظ ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکام کا کہنا ہے کہ انڈامان نکوبار کے جزیروں میں بسنے والے نادر قبائلی باشندوں میں سے زیادہ تر محفوظ ہیں لیکن ان میں سے بعض کی اب بھی تلاش جاری ہے۔ سنامی لہروں سے ان جزائر میں زبردست تباہی ہوئی ہے اور قیاس کیا جارہا تھا کہ دنیا کےنایاب انڈمانی قبیلے کہیں اس کی نذر نہ ہو گئے ہوں۔ سمندری طوفان سے آئی تباہی سے نمٹنے کے لیے کرائسیس مینجمنٹ گروپ نے اپنی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سنامی لہروں سے متاثرہ تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے سکریٹری اے کے رستوگی نے بتایا کہ پہلے انڈمان نکوبار میں گمشدہ لوگوں کی تعداد تقریباً چھ ہزار بتائی گئی تھی لیکن سروے کے بعد پتہ چلا ہے کہ اب صرف تین ہزار افراد ہی لاپتہ ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جزائر میں جن قبائل کے ہلاک ہونے کا خطرہ تھا وہ اب کئی مقامات پر محفوظ پائے گئے ہیں۔ مسٹر رستوگی کہ کہنا تھا کہ’سبھی کو انڈامان نکوبار میں بسنے والے قبائلی باشندوں کی سلامتی کی بہت ہی فکر تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تازہ اطلاعات ملی ہیں اسکے مطابق ان میں سے زیادہ تر کی گنتی ہو چکی ہے اور بیشتر قبیلے محفوظ ہیں‘۔ ہندوستان میں سمندری طوفان کے بعد اس بات کے خدشات ظاہر کيے گئے تھے کہ ممکن ہے کہ جزائر میں بسنے والے قبیلے نہ بچ سکے ہوں اور میڈیا میں بھی بڑے پیمانے پر اس سلسلے میں تشویش ظاہر کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق انڈامانی قبیلے کے پورے 49 افراد پورٹ بلیئر کے آدی بسیرا میں موجود ہیں ۔جبکہ اونگس قبیلے کے کل 94 افراد تھے جن میں سے دو ابھی بھی لاپتہ ہیں ۔ جاروا قبیلہ پوری طرح محفوظ ہے اور اس خاندان کے 266 لوگ دیکھے گئے ہیں ۔ سینٹانلیز قبیلے کے 39 افراد میں سے 32 محفوظ ہیں۔لیکن7 اب بھی غائب بتائے گئے ہیں۔ شومین قبیلے کے 398 افراد تھے لیکن اس پورے علاقے کی ابھی تلاش جاری ہے۔ ہندوستان میں قبائلیوں کی یہ برادری دنیا کی ایسی انوکھی برادری ہے جسکا ان جزیروں کے علاوہ کہیں بھی وجود نہیں ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||