بھارت نے انڈمان میں امداد پہنچا دی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج نے بحر ہند میں آباد جزائر انڈمان اور نکوبار میں طیاروں کے ذریعے سونامی کے متاثرین کے لیے پانی اور خوراک پہنچانا شروع کر دی ہے۔ امدادی کارروائیوں کے نگران ایک اعلیٰ فوجی افسر نے بتایا ہے کہ امدادی اشیاء اب جزائر کے دور دراز علاقوں تک پہنچ گئی ہیں۔ بھارتی حکومت کو جزائر میں متاثرین کے لیے بروقت امداد نہ پہنچانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خیال ہے کہ ہزاروں افراد بالائی مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ سونامی کی وجہ سے بھارت میں نو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے آٹھ سو بارہ کا تعلق انڈمان اور نکوبار سے ہے۔ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔جزائر میں تین ہزار سے زائد افراد کو امدادی کیمپوں اور محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بھارت کے نائب وزیر داخلہ سری پرکاش جیسوال نے جزائر میں امدادی کارروائیوں کے بارے میں کہا کہ ’بھارتی تاریخ میں متاثرین کو امداد پہنچانے کا یہ سب سے بڑا آپریشن ہے۔ ہم ہر جگہ امداد پہنچا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ لاپتہ افرارد میں بہت سے لوگ اب بھی زندہ ہونگے‘۔ جزائر میں ساڑھے پانچ ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ مقامی پولیس کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر شاید ہلاک ہو چکے ہونگے۔ دور دراز علاقوں اور جنگلوں میں بہت سے قبائلی لوگ شاید اب بھی زندہ ہوں۔ بہت سی لاشیں کھلے آسمان کے نیچے اب بھی پڑی ہیں جسکی وجہ سے وہاں پر وباء کے پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کیمبل بے میں زندہ بچنے والے ایک شخص انوپ گتک نے کہا کہ ’وہاں نہ تو خوراک ہے اور نہ ہی پانی۔ چند روز میں لوگ بھوک سے مرنا شروع ہو جائیں گے‘۔ امدادی کارروائیوں میں مشکلات حائل ہیں اس لیے کہ جزائر کی تمام گودیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||