اک اژدھے میں چیتا تھا اور چیتے میں تھا سانپ اور اس کے اندر چھپ بیٹھے تھے ان کے سارے پاپ دھرتی چپ تھی، جنگل تھا چپ اور جنگل کے باسی بھی کہیں دور کچھ آہٹ بھی تھی اور تھوڑی اداسی بھی رات سکوں تھا سحر سکوں پر صبح ایسی پھنکار چیتا نکلا، سانپ بھی نکلا اور سارے ان کے یار کچھ کو کاٹا، کچھ کو چیرا، کچھ کو نگل لیا کچھ کو پھینکا، کچھ کو کھایا، اور جو نہ ہضم ہوا اگل دیا اس زور سے اسکو کہ جینا موت ہوا اب جنگل میں جان نہیں ہے نامی ہے پر نام نہیں ہے موت مکاں ہے موت مکیں ہے پانی جو ہے وہ نمکیں ہے کچھ چیخیں ہیں جو جنگل سے جانے کی راہ ڈھونڈ رہی ہیں اور کچھ مردہ جسموں کی سوجن آنکھیں کھولے اونگھ رہی ہے اژدھے کا کچھ پتہ نہیں اور چیتا ہے مدہوش اور سانپ کہ اب ڈس سکتا ہے پر مر گیا سارا خوف |